خبر و نظر

مولانا سید محمدواضح رشید ندوی رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال ملک و ملت کے لئے عظیم خسارہ


انتہائی غم و افسوس کی بات ہے کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے معتمد تعلیم، مجلہ الرائد کے رئیس التحریر ،رابطہ ادب اسلامی کے جنرل سکریٹری، مایہ ناز صحافی، متعدد کتابوں کے مصنف مولانا سید محمد واضح رشید ندوی رحمہ اللہ کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ابھی حالیہ کچھ دنوں قبل 16 اور 17 دسمبر کی بات ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ کے موقع پر ندوے کے مہمان خانہ میں شام کا کھانا حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ تناول کیا تھا۔ملاقات اور گفت و شنید کے بعدیوں محسوس ہوا کہ مولانا  کافی سنجیدہ مزاج ،سادہ لوح اور خاموش طبیعت ہیں۔ انہیں اپنے ادارے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاکہ ادارے کے طلبہ مولانا کی گوناگوں صلاحیتوں سے مستفید ہوں  لیکن آج کا دن ہمارے لئے انتہائی افسوسناک ثابت ہوا  کہ وہ ہمارے درمیان سے چل بسے۔
بلاشبہ موصوف کا سانحہ ارتحال ملک و ملت کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے.یہ ایک ناقابل تلافی خلا ہے۔ ان کی رحلت سے ایسا محسوس ہورہا ہے کی علم و آگہی کے چمن میں پژمردگی چھاگئی ہے۔اسلامی دنیا میں غم و افسوس کی لہر دیکھی جارہی ہے۔اس رنج و الم کے موقع پر توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیرمین،اراکین و ممبران سمیت طلبہ و طالبات نہایت ہی افسردہ و غمزدہ ہیں۔ اور اس الوداعی سفر آخرت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی موصوف کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے،ان کے درجات کو بلند کرے،اور ان کا نعمل البدل عطا کرے۔ آمین!
منجانب
 مطیع الرحمن بن عبد المتین
 چیرمین ، توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ
کشن  گنج ، بہار ، الہند۔

Comment here