پیام قرآننورالاسلام مدنی

محمد ﷺ کی اطاعت دین حق کی شرط اول ہے

نور الاسلام مدنی                                                       

“يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ”

ترجمہ: اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو (١) اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔(1)

  اس آیت کریمہ سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں  ان میں سے چند مندرجہ  ذیل ہیں ۔

1۔ اس آیت کے ذریعے سے اللہ تعالی  نے ایمان والوں کو ایک اخلاقی  سبق سکھایا ہے ۔ اخلاق کا اصل الوصول یہ ہےکہ ہر ایک شخص   جس عزت کے لائق ہے اس  سےوہی برتاؤ کیا جائے چونکہ سب سے مقدم اللہ کا حق اور اس کے رسول کا حق ہے اس لیے  حکم دیا گیا ہے کہ  کوئی  بھی شخص  پہلےیہ دونوں حقوق ادا کرے یعنی اللہ کا حق  اور اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا حق اور ان سے آگے نہ بڑھے۔

2۔ کسی کے لیے  یہ جائز نہیں کہ دین  کے کسی بھی معاملہ میں اپنے طور  پر کوئی فیصلہ کرے یا اپنی  سمجھ اور رائے  کو قرآن وحدیث پر ترجیح دے بلکہ اس پر ضروری  ہےکہ وہ اللہ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے۔

 اپنی طرف سے دین میں ا‌ضافہ یا بدعت کی ایجاد اللہ اور  اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی  ناپاک جسارت ہے جو کسی بھی صاحب ایمان کے لائق نہیں اس طرح کوئی فتوی قرآن وحدیث میں غور وفکر کئے بغیر دینا اس  آیت میں  داخل ہے۔  نیز فتوی دینے کے بعد اگر اس  فتوی کا نص شرعی کے خلاف  ہو ناواضح ہوجائے تو اس پر اصرار کرنا آیت میں دیئے گئے حکم کے منافی ہے۔

 مومن کی شان تو یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام  کے سامنے سر تسلیم واطاعت   کردے نہ کہ ان کے مقابلے اپنی بات  پر  یا کسی امام کی رائے پر اڑے رہے ۔

 مومن کی اس شان  تسلیم اطاعت کو قرآن  کی متعدد جگہوں میں بیان کیا گیا ہے ان میں سے دو مندرجہ ذیل ہے۔

“فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا”

ترجمہ: سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔(2)

 اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات یا فیصلے  سے  اختلاف تو دور کی بات ہے دل میں  کسی طرح کی تنگی اور انقباض  بھی محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے  نیز آیت کریمہ منکرین حدیث کے خلاف واضح  ثبوت ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر ایسے افراد کے لیے بھی لمحہ فکر   یہ ہے  جو قول امام کے مقابلے میں حدیث صحیح سےانقباض محسوس  نہیں کرتے بلکہ  یا تو کھلے لفظوں میں اسے ماننے سے انکار   کر دیتے  ہیں یا اس کی دور ازکار تاویل کر کےیا ثقہ راوی کو ضعیف باور کرا کے مسترد کرنے کی مذموم سعی کرتے ہیں۔

“وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا”

اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (١) یاد رکھو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔(3)

حواشی:

1۔(سورۃ الحجرات:49/1)

2۔(سورۃ النساء:4/65)

3۔(سورۃ الاحزاب:33/36)

     

Comment here