پیام قرآننورالاسلام مدنی

شراب کی حرمت، مذمت اور مضرات

 نور الاسلام مدنی                                                                   

 “يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۹۰يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۹۰”

اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کہ ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تمہیں باز رکھے ۔ سو اب بھی باز آجاؤ۔(1)

خمر کا لغوی واصطلاحی  معنی: عربی لغت میں نشہ آور مشروب کے لیے “خمر” کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جس کا معنی چھپانا اور پردہ ڈال دینا ہے۔ جو مشروب عقل پر پردہ ڈال دے اور نشہ پیدا کرے اسے “خمر” کہا جاتا ہے۔

شرعی اصطلاح میں ہر ایک نشہ آور مشروب کو خمر کہا گیا ہے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”کل مسکر خمر وکل مسکر حرام”(2) ہر نشہ آورچیزخمر ہے  اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔

شراب کی حرمت: اللہ تعالی نے اخلاق انسانی کی پوری طرح حفاظت کی خاطر ان تمام چیزوں کو حرام اور ناجائز ٹھرایا ہے جو اخلاقی طور پر مذموم ہیں اور جن کا استعمال نسل انسانی  کے لیے تباہ کن ہے۔

 شراب اور جو ا دونو بہت پرانی بیماریاں ہیں عرب کے جاہل   سے لےکر یورب کے مہذب  تک اس میں مبتلا ہیں۔ آج باوجود تعلیم وتربیت کے ارتقاء کے یہ دونوں چیزیں سوسائٹی کا جز قرار پاگئی ہیں اس لیے ضرورت ہے کہ ان کی برائیاں تفصیل کے ساتھ بیان کی جائیں۔

سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 کی چار کلمات شراب کی حرمت کو واضح کرتے ہیں :

1۔ “رِجْسٌ” شراب ناپاک چیز ہے۔

2۔”مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ”شراب نوشی شیطان کا عمل ہے۔

3۔ “فَاجْتَنِبُوْہُ” شراب نوشی سے بچو۔

4۔”لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ” شراب نوشی  ترک کروگے تو فلاح پاجاؤگے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ کے ذریعہ یہ بھی واضح فرمادیا ہےکہ شراب کا نام چاہے کچھ بھی رکھ لیا اور کسی بھی چیز سے تیار کی جائےجیسے شہد ،جو، کھجور یا کسی اور چیز سے تیار کی جائے مگر وہ ہر صورت  میں حرام اورممنوع ہے اور اس کا پینے والا شرعی مجرم ہے مندرجہ  ذیل احادیث اس پر شاہد  عدل ہیں۔

1۔ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایسی زمین میں ہیں جہاں شہد سے شراب تیار کی جاتی ہے۔ اسے ہمارے یہاں “البتع” کہا جاتا ہے ۔ اور جو سے بھی شراب بنائی جاتی ہے۔جیسے “المزر” کا نام دیا جاتا ہے ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کل مسکر حرام) ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔(3)

 نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمادیا ہےکہ جس مشروب کا زیادہ استعمال نشہ پیدا کرے اس کی کم سے کم مقدار بھی ناجائز اور حرام ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا ہے :”ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام” جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ۔ (4)

مزید براں رسول اللہ صلی علیہ وسلم  نے شراب کو ہر برائی کی کنجی قرار دیا ہے :عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اجتنبوا الخمر فانھا مفتاح کل شر” شراب نوشی سے اجتناب کرو کیونکہ  شراب نوشی ہر برائی کی کنجی ہے۔(5)

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو دس وجوہات کی بنا پر ملعون قرار دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نےخبر دی ہے کہ” اے “محمد اللہ تعالی  نے ملعون قراردیا ہے شراب کو ،اس کے نچوڑنے والے کو، جس کے لیے نچوڑی جائے، اس کے بیچنے  والے کو ، اس کے خرید نے والے کو، اس کے اٹھانے والے کو ، جس کے لیے اٹھائی جائے، اس کے پینے والے کو، اس کے پلانے والے کواور اس کے پلوانے والے کو ۔ (6)

شراب نوشی کے نقصانات:

 شراب نوشی کے بہت زیادہ نقصانات ہیں جن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے:

1۔دینی نقصانات،2۔دنیوی نقصانات

1۔شراب نوشی کے دینی نقصانات

(ا)ایمان سے محرومی: حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :”لا یشرب الخمرحین یشرب وھو مؤمن” جب کوئی شخص شراب پیتا ہے تووہ شراب  پیتے وقت مؤمن نہیں رہتا ۔ (7)

(ب) اللہ تعالی کی لعنت: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: “لعن اللہ الخمر وشاربھا” اللہ تعالی نے شراب پر اور اس کے پینے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔(8)

(ج) نماز غیر مقبول: حضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی  کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا :”لا یشرب الخمر رجل من امتی فیقبل اللہ منہ صلاۃ اربعین یوما”میری امت کے شراب پینے والے آدمی کی اللہ تعالی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرماتا ۔(9)

(ہ) جنت سے محرومی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” لا یدخل الجنۃ مد من خمر” ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔(10)

(2) شراب نوشی کے دنیوی نقصانات دو قسم کے ہوتے ہیں :

(ا)فوری اثرات (ب) طویل مدتی اثرات۔

فوری اثرات حسب ذیل ہیں:

1۔ مبھم کلام،2۔ قے،3۔اسہال،4۔ پیٹ کی خرابی،5۔سردرد،6۔سانس کی تکلیف،7۔دیکھنے اور سننے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ،8۔اینمیا یعنی خون کے سرخ خلیات کی کمی۔

شراب نوشی کے طویل مدتی اثرات:

1۔ آپس میں بغض وعداوت کی تخلیق،2۔ آپس میں لڑائیاں،3۔ نیک جذبات کا خاتمہ،4۔دل ودماغ پر بہیمانہ خیالات کا غلبہ،5۔ دماغی اور اخلاقی نشو ونما کی رکاوٹ،6۔نوکری سے برخواست گی اور تجارت میں خسارہ،7۔سماجی تباہ کاریاں، 8۔بلڈپریسر ، فالج ودیگر دل کی بیماریاں ،9۔جگر وآنتوں کی بیماریاں،10۔جنسی کمزوری،11۔دماغ کی مستقل کمزوری،12۔وٹامن Bکی کمی، بھولنے کی بیماریاں ،13۔منہ اورحلق کے کینسر۔

اخیر میں صوبہ بہار میں شراب پر پابندی  کے اقتصادی  اور اصلاحی فوائد کی چند جھلکیاں :

 ٹائمس آف آنڈیا روزنامہ انگلش  اخبار کے 6/مئی2016 کے ایک آرٹیکل کے مطابق شراب بندی کے پہلے مہینہ یعنی ایک اپریل 2016 سے 30اپریل 2016تک 2015 کے اپریل کے مقابلے میں 27فیصد جرائم میں کمی آئی ہے  جس کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔

1۔لوٹ مار میں 30.43فیصدکی کمی

2۔قتل میں 25.36فیصد کمی

3۔ کڈنپkidnap میں 47.32فیصدکی کمی

4۔چھوٹے دنگےminor riot  میں 38.42فیصدکی کمی

5۔ بڑے دنگے  میںmajor riots میں66.67فیصد کی کمی

6۔ڈکیٹیDacaity میں 41.03فیصدکی کمی

7۔روڈ حادثے میں 17.62 فیصدکی کمی

8۔ عورتوں سے چھیڑ خانی میں 45.09فیصد کی کمی ۔

 دوسری طرف دودھ، مٹھائی ،کپڑا اور دیگرضروری اشیاء کی فروخت میں اضافہ نیز دس ہزار کڑور روپیئے جو صوبہ بہار کے لوگ شراب پر خرچ کرتے تھے اس کی بچت۔

حواشی:

1۔(المائدہ:5/90-91)

2۔(صحیح مسلم کتاب الاشربۃ، رقم الحدیث:2003)

3۔(صحیح بخاری کتاب الادب، رقم الحدیث:6124)

4۔( سنن الترمذی کتاب الاشربۃ ، رقم الحدیث: 1865)

5۔(سنن ابن ماجہ کتاب الاشربۃ ،رقم الحدیث:3371 ومستدرک الحاکم ، رقم الحدیث:7231)

6۔(مستدرک حاکم ، رقم الحدیث:2234)

7۔(صحیح بخاری کتاب المظالم ، رقم الحدیث:2575)

8۔(سنن ابو داود کتاب الاشربۃ ، رقم الحدیث:3674)

9۔(سنن نسائی کتاب الاشربۃ ، رقم الحدیث:5664)

10۔(سنن ابن ماجہ کتاب  الاشربۃ ، رقم الحدیث:3376) 

Comment here