اداریہمحمد شاہنواز ندوی

ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ

آج بتاریخ ۳۰ ؍اکتوبر ؍۲۰۱۶ ء بروز اتوار بمقام ایم ،اے ،انصاری آڈیٹوریم، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں ،توحید ایجو کیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام بعنوان ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی : حیات و خدمات پر منعقدہ ایک روزہ سمینار سے اس بات کا اندازہ ضرور لگ گیا ہوگا کہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی شخصیت کتنی ہمہ گیر اور اہمیت کی حامل رہی ہے۔ انہوں نے اپنے دور حیات میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ تاریخ کا ایک زرین باب ہے۔اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک انسان تھے ۔ زمانہ طالب علمی سے لیکر وفات تک ان کی مصروفیات ، دلچسپیاں اور کارکردگی کسی ایک خطہ میں محدود نہیں رہیں ۔بلکہ بہار ،بنگال اور راجستھان میں اپنے گورنری کے زمانے میں یکساں طور پر ہر مذہب و ملت کی ترقی و تعمیر کے لئے تگ و دو کرتے رہے۔ کبھی آپ نے کسی ایک قوم کو سامنے رکھ کر کام نہیں کیا۔

ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے تعلق سے ان کے چھوٹے صاحب زادے جناب انیس الرحمن قدوائی سے ان کی رہائش  میں ہوئی ایک ملاقات میں یہ باتیں سامنے آئیں کہ والد محترم فروغ تعلیم کے بے حد خواہش مند تھے ،تعلیمی بیداری کے سلسلہ میں مختلف ریاستوں کے دورے کئے جہاں فروغ تعلیم پر دلچسپ اور قیمتی محاضرہ اور لیکچر دے کر لوگوں میں تعلیمی بیداری کی لہر پیدا کی۔اسی تعلیمی دلچسپی کے پیش نظر بودھ گیا جاکر بودھ دھرم کے ماننے والوں کو حصول تعلیم پر آمادہ کیاوہیں کشن گنج کا دورہ کرکے توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا۔انیس صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ قدوائی صاحب جامعہ ملیہ سے گریجویشن کی تکمیل کے بعد ایم،ایس،سی کی خاطر ایلی نوئس یونیورسیٹی امریکہ گئے پھر اس کے بعد سے پی ،ایچ ،ڈی کی سند کورینل یونیورسیٹی سے حاصل کی۔ڈاکٹر صاحب کو یہ امتیاز ی وصف حاصل ہے کہ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں بحیثیت ریڈر کے منتخب ہوئے نا کہ لیکچرار کے جبکہ ہر کسی کو لیکچرار کی حیثیت سے منتخب کیا جاتاہے۔ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ بھی خصوصیت حاصل ہے کہ ہندستان میں سب سے پہلے علی گڑھ یونیورسیٹی میں بایو کمیسٹری کی بنیاد رکھی ۔اس سے پہلے پورے ہندستان میں کمیسٹری جیسی اہم تعلیم کا کوئی شعبہ قائم نہیں تھا۔

بلا شبہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی ایک عہد سا زشخصیت کے حامل انسان تھے ،وہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے چانسلر بہار،بنگال، ہریانہ اور راجستھان کے گورنر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سائنس داں اور تعلیم سے محبت کرنے والے انسان تھے۔ان کی زندگی میں ہی لوگوں نے ان کی شخصیت پر روشنی ڈالی تھی اور وہ اس لائق ہیں کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی حیات کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی رہے گی۔ چونکہ توحید ایجو کیشنل ٹرسٹ سے ڈاکٹر صاحب کا خالص تعلیمی لگاؤ تھا ، اس لیے ٹرسٹ نے اس عہد ساز شخصیت پر ایم، ایے انصاری آدیٹوریم، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں آج ایک اہم سمینار منعقد کیاگیا ہے۔

قدوائی صاحب کے سانحہ ارتحال سے ملک وملت کو عظیم خسارے سے دو چار ہونا پڑا ہے جن کی شدت سے کمی محسوس کی جارہی ہے ۔  انہیں یو نیین پبلک سروس کمیشن کے چیرمین ہونے کی حیثیت سے حکومت نے پدم بھو شن ایوارڈ سے نوازاگیا۔ قداوئی صاحب  مسلم علی گڑھ یونیورسیٹی کے شعبہ کمیسٹری کے عہدے پر فائز ہونے ساتھ ساتھ شعبے کے صدر بھی تھے اسی پر بس نہیں بلکہ آئی، آئی، سی، سی کے فاؤنڈر ممبر بھی تھے ۔ قدوائی صاحب ریاست بہار میں پہلی مرتبہ 20/ستمبر1970ء تا15/مارچ1985ء اور دوسری مرتبہ 16/اگست/1993ء تا18/مئی1995ء تک گورنری کے فرائض انجام دیئے جبکہ ریاست مغربی بنگال میں 27/ اپریل 1998ء سے لیکر 18/مئی 1999ء تک و ریاست راجستھان میں 21/جون 2007ء سے لیکر 06/ستمبر 2007ء تک گورنری کے منصب پر فائز رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی ایک اعلی تعلیم یافتہ ،بہترین سائنس داں اور ایک سیکولر ذہن انسان تھے ۔ وہ ملک و ملت اور قوم و سماج کی ترقی کے لئے ایک متحرک اور فعال شخص تھے ۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا جو بھی حصہ جہاں بھی گزارا اس کا حق ادا کر دیا۔ خواہ وہ علی گڑھ مسلم یونیور سیٹی میں آپکی زندگی کا عملی دور ہو یا صوبہ بہار صوبہ مغربی بنگال وہریانہ و راجستھان میں ایک گورنر کی حیثیت سے فائز کئے جانے پر۔ آپ جہاں بھی رہے ملک کے لئے اور قوم کے لئے پورے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اور کبھی آپ نے کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔
آپ کی زندگی کا ایک حصہ وہ بھی ہے کہ آپ نے خاص طور پر تعلیم سے جڑے لوگوں کو ہر جگہ سراہا ہے۔بلکہ اپنے خاندان کے لوگوں اور خاندان سے باہر کے لوگوں کو نہ صرف تعلیم کی حصولیابی کی طرف راغب کیابلکہ اس کی عملی تصویر بھی پیش کی ہے۔ اس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر دہلی پبلک اسکول میں بہت سے طلبہ کے داخلہ کرانے کا عمل اس کی شہادت دیتی ہے، نیز بہار میں رہتے ہوئے آپ نے گیا ضلع کے اندر صرف بدھسٹ قوم کو اس بنیاد پر خوب سپورٹ کیا کہ بدھسٹ کے بچے بھی تعلیم یافتہ ہوجائیں اور ملک میں دیگرترقی یافتہ لوگوں کی طرح ان کے بچے بھی آگے بڑھتے رہیں ،اور یہ سلسلہ خوب پھلا پھولا بھی ۔ اسی طرح سے بہار کے دیگر تعلیمی اداروں کا دورہ کر کے انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے میں کافی رہنمائی کیں ۔

تعلیم کا شعبہ قدوائی صاحب کے لئے ہمیشہ اولین دلچسپی کا باعث رہا ہے یونیورسیٹیوں،کالجوں اور مدرسوں سے تعلق صرف رسمی نہیں رکھتے تھے بلکہ بھر پور کوشش ہوتی تھی کہ اپنے تجربہ اور معلومات کے مطابق اداروں کی رہنمائی کرتے رہے۔اس لئے کہ ان اداروں کے اراکین وقتا فوقتا صلاح و مشورہ کے لئے قدوائی صاحب کے پاس آتے رہتے تھے۔ قدوائی صاحب کی ایک عادت رہی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی حیثیت کا بلا تکلف ان کے پاس آکر اپنے مسائل بتا کر ان سے مشورہ طلب کرسکتا تھا ، قدوائی صاحب بڑی دلچسپی سے ان کی بات سنتے اور اپنی جچی تلی رائے دیتے ، ایک اہم بات اس سلسلے کی اور بھی ہے وہ یہ کہ تعلیم کے معاملے میں لوگوں سے گہرائی سے بات کرتے ،اور مفید مشورے بھی نوازتے تھے۔

اسی تعلیمی دلچسپی کی وجہ سے توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ سے ان کا خاص لگاو تھا۔ توحید ایجو کیشنل ٹرسٹ کشن گنج کے بانی شیخ عبد المتین سلفی رحمہ اللہ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے ۱۶؍ جنوری ؍ ۲۰۱۰ کو ا س دار فانی سے رحلت کر گئے ہیں۔ ان سے ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے بے پناہ گہرے تعلقات اور گہری انسیت کے ساتھ ساتھ حد درجہ کی محبت تھی، جوکسی سیاسی مقصد یا کسی آفیسیل بنیاد پر نہیں تھی۔ یہ صرف اور صرف اس بنیاد پر کہ فضیلۃ الشیخ عبد المتین رحمہ اللہ نے بہار کے اندر اس علاقہ میں تعلیم کا اعلی پیمانہ پر ایک بہترین سلسلہ شروع کیا تھا، جوعلاقہ بہار کا پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں شیخ عبد المتین سلفی نے ان کے مشورہ پر توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت جامعۃ الامام بخاری او لڑکیوں کی تعلیم کے لئے جامعہ عائشہ للبنات اور عصری و ٹکنیکل تعلیم کے لئے آئی ٹی آئی اور دیگر اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جو نہ صرف تاریخ کا ایک نمایا باب ہے بلکہ ایک مشعل راہ بھی ہے ۔

 تعلیم کی یہ کوشش یقیناًڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کو بے حد پسند آئی اور انہوں نے بہار اور بنگال دونوں صوبوں کے گورنر ہونے کے ایام میں اس کی بھرپور تائید کی۔ اور جب بھی موقعہ ملا یا جب بھی شیخ عبد المتین سلفی رحمہ اللہ نے انہیں دعوت دی انہوں نے اس دعوت کو شرف قبولیت سے نوازا ۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلی بار راحت پور کی سرزمین پر ہائی مدرسہ میں اپنا پروگرام دیا اور بڑی عزت سے شیخ عبد المتین رحمہ اللہ کو اعزاز دیا۔ اس کے بعد کشن گنج کی سر زمین پر توحید ایجو کیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والے تمام اداروں کا متعدد بار دورہ کیا اور وقت و حالات کے تقاضہ کے مطابق مفید مشورے دیکرٹرسٹ کے بانی و ذمہ داران کی ہمت افزائی کی ۔ اور خاص طور پر انہوں نے جامعۃ الامام بخاری کا دورہ کیا تھا، اس موقع پر قدوائی صاحب نے جو بات کہی تھی وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ انہو ں نے کہا تھاکہ توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ میں جو تعلیم دی جاتی ہے اور یہاں کا جو تعلیمی نصاب ہے وہ بہت زیادہ قابل اعتبار ہے ، یہاں سے پڑھ کر جو لوگ وکالت میں جائیں گے توکہیں نہ کہیں عصری تعلیم یافتہ وکیلوں سے بڑھکر وکالت کریں گے۔ کیوں کہ یہاں کا نصاب تعلیم جس قدر ٹھوس اور مضبوط ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے ۔

انہوں نے توحید ایجو کیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والا ادارہ جامعہ عائشہ اسلامیہ للبنات کا بھی دورہ کیا اور وہاں کی بچیوں کی ہمت افزائی کی ، یہ بات قابل غور ہے کہ جامعہ عائشہ اسلامیہ للبنات کی بنیاد جس وقت رکھی گئی تھی اس وقت تک شمال مشرق ہندستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا نہ کوئی معقول انتظام تھابلکہ وہاں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی رواج بھی نہ تھا۔ اس ماحول میں اور اس زمانہ میں ایک بنات کا قیام عمل میں لانا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سلفی صاحب لڑکیوں کی تعلیم کے لئے حددرجہ متفکراور شدید خواہاں تھے ،جس کو ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے بہت سراہا ۔بلکہ قدوائی صاحب بھی اسی فکر کے حامل تھے اور اس کی شدت سے تائید بھی کرتے تھے۔ لڑکیوں کی ملازمت کے سلسلہ میں قدوائی صاحب نے یو پی ایس سی کی ملازمت کے دوران نمایاں کام کیا ۔ آپ کے ہی دور میں ہندستان میں پہلی بار کسی عورت کو آئی پی ایس یعنی پولیس سروس میں لیا گیا ۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب قدوائی صاحب نے اس لڑکی کے امتحان اور انٹریو میں اعلی کامیابی حاصل کرنے پر بورڈ کے دوسرے ممبران کی اس رائے کی زور دار مخالفت کی کہ پولیس کا عہدہ ایک عورت کے بس کا یا اس کے لائق نہیں ہے ۔ قدوائی صاحب نے اس خیال کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ ہمارا جمہوری دستور جنسی تفریق کی ہرگز  اجازت نہیں دیتا۔ 

اس کے بعد توحید ایجو کیشنل کے زیر اہتمام چلنے والے ادارہ آئی ٹی آئی کا دورہ کیا ۔ اور یہ بات ان کو اس لئے بے حد پسند آئی کہ مدرسوں کے ماحول میں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کا وجود عمل میں آنا بہت معنی رکھتا ہے ، سلفی صاحب کی اس کوشش کو دیکھ کر حددرجہ متاثر ہوئے اس پر انہوں نے نہایت ہی خوشی کا اظہار کیا کیونکہ یہ چیز ان کی عملی زندگی سے بہت قریب تھی۔ اس لئے کہ وہ ایک بہترین سائنس داں تھے اور وہ مسلم قوم کو اس میدان میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھنے کے شدید خواہاں تھے۔

24

یہ ایک اچھا موقع تھا کہ کوئی اسکول و مدرسوں کے تعلیم یافتہ بچے اس میں عصری علوم کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹکنالوجی کی تعلیم بھی حاصل کر سکیں ۔اور اپنی زندگی نکھار سکیں ۔ چنانچہ جب انہوں نے اس چیز کا معاینہ کیا تو بہت خوش ہوئے اور یہی اسباب اور یہی وہ خدمات تھے جن کے پیش نظر شیخ عبد المتین سلفی رحمہ اللہ کے ساتھ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوئی کہ ان سے متاثر ہوکر بار بار اپنا قیمتی وقت اس ادارہ کو دیا جس سے ادارہ کی قدر بڑھتی چلی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب آخری بار ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے اس ٹرسٹ کا دورہ کیا تو ٹرسٹ کے ذمہ داران نے ان کے اعزاز میں کشن گنج کی سرزمین میں پچھم پالی سے لیکر بیلوا کی سرزمین تک دس کیلو میٹر کی ایک سڑک ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے نام سے تعمیر کرائی۔یہ ایک ایسی یادگار اور تاریخی چیز ہے جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جب تک لوگ اس سڑک پر چلتے رہیں گے تب تک ڈاکٹر اخلاق الرحمن کی یاد بار بار آتی رہے گی۔اس سے بڑھ کر محسن کے حق میں شکرگزاری کا طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب کے بارے میں  جناب فیاض رفعت صاحب رقم طراز ہیں کہ ہماری نظر میں قدوائی صاحب بیسویں صدی کی عظیم شخصیت ہیں جو اکیسویں صدی میں بھی اعلی انسانی قدروں کے نقیب بنے ہوئے ہیں جن کی زندگی کا مشن ہی گنگا ، جمنی ، تہذیب کو زندہ اور پائندہ رکھنا ہے ۔ انسانیت کے فروغ کے لئے انہوں نے جس جانسوزی اور دلدہی کے ساتھ عرفان و آگہی کی منزلیں سر کی ہیں ایک دنیا اس کا اعتراف کرتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مرد مومن کی سوانحی تاریخ مرتب کی جائے۔ اسی جذبے کے پیش نظر ہم ان کے احوال و کوائف کو دستاویزی صورت میں پیش کرنا اپنا فریضہ احسن جانتے ہیں ۔ تاکہ آنے والی نسلیں ان کی مثالی شخصیت سے کسب نور و فیض کر کے اپنی حیات کی تاریکیوں کو روشنی سے ہم کنار کرسکیں۔

ایسےانقلابی شخص کے کارنامے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے، آج کاسمینار اسی بات کی ترجمانی کررہا ہے۔ ساتھ ہی ان کی حیات و خدمات کے تمام شاندار پہلوں کو بطور آڈئیل و نمونہ کے اختیار کرتے ہوئے  قوم و ملت کی فلاح و بہبودی کی خاطر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان کی سوچ اور خدمت گزاری کے منہج کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے، جس طرح سے انہوں نے اپنے گھر اور خاندان والوں کی ترقی کے ساتھ باہر والوں کی ترقی کی جانب برابری کے ساتھ توجہ دی ہے ، اسی نہج پر تمام لیڈروں کو چلنے کی ضرورت ہےجس کا آج کے دور میں فقدان ہے۔ 

Comment here