اداریہمحمد شاہنواز ندوی

اس دور میں تعلیم ہےامراض ملت کی دوا

حصول علم پر آمادہ کرتے ہوئے خالق کائنات نے سب سے پہلی وحی میں کہا کہ” پڑھو” اپنے رب کے نام سے جس نے پید ا کیا۔اس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ،اپنے اس بزرگ و برتر پروردگار کے نام سے پڑھو جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی،انسان کو ان باتوں کی تعلیم دی جن کااسے علم نہیں تھا‘‘۔ یہ پیغام جس وقت دیا جارہا تھا وہ دور دور جاہلیت کا تھا اور جہالت سر چڑھ کر بول رہی تھی۔اسی حکم سے نزول قرآن کا آغاز ہوا ،اسی سے تعلیمات اسلامی کی بنیاد رکھی گئی ۔ ایک تعلیم یافتہ قوم کی تعمیر و ترقی کی نیو رکھی گئی ہے ، یہاں سے جس دور کا آغاز ہونے جارہا تھا یہ دور علم و آگہی ،سائنس و ٹیکنالوجی ،اور جدید ترقیات پر مشتمل دوربن نے والا تھا۔ جس میں حلال و حرام کی تمیز، اچھے اور برے کا فرق،چھوٹے اور بڑوں کا خیال ،ماں باپ ،بھائی بہن کی عزت وتوقیر کے ساتھ ساتھ اسلامی تہذیب و ثقافت پر مبنی ایک خوشنماں سماج و معاشرہ کی ابتداء کی گئی۔ا ب نہ تو شراب کے جام چھلکتے ہوئے نظر آئیں گے۔نہ مردار و حرام اشیا ء کو جائز سمجھا جائیگا ، نہ کمزور و ناتواں کو دبایا کچلا جائیگا، عدل وانصاف کی میزان قائم ہوگی جس میں ہر صاحب حق کو اپنا حق دیا جائیگا۔بے پردگی و فحاشی پر لگام لگے گی۔عزت و ناموس کی قدر کی جائیگی۔حیا اور پاکدامنی کا بول بالا ہوگا۔ ظلم و ستم ،جبر و تشدد کا خاتمہ ہوگا، عدل و انصاف ،حق و صداقت کی روح پرور فضا قائم ہوگی۔ الغرض جملہ اخلاقی اقدارجن کی صدیوں سے پامالی ہو رہی تھیں ان کی حفاظت ہوگی۔ 
علم ایک اکسیر ہے جس سے ہزاروں بیمار دلوں کا علاج ممکن ہے۔ جس کے بغیر قلب سلیم کی نعمت مہیا نہیں ہوسکتی ہے۔

اسی علم و عرفان نے پوری کائنات میں ایسا انقلاب برپا کیا جس کے بارے میں بڑے سے بڑے مفکر حیران و پریشان ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر تعلیم نہیں ہوتی تو لوگ درندوں اور چوپایوں کی سی زندگی گزارتے ،ان کا رہن سہن طور طریق ،کھان پان ، بود و باش میں کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ نہ یہ ستاروں میں اپنا کمند ڈال سکتے تھے، نہ سورج کی شعادوں کو گرفتار کرسکتے تھے، علم ہی کی بدولت انسان نے بڑے سے بڑے چیتے اور ازدہے کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اسے اپنے ماتحتی وغلام بنا کر اپنی مرضی کے مطابق کام لینے لگا۔ اسی علم کی دین ہے کہ جہاں ایک طرف انسان سمندر کی گہرائیوں کو ناپنے میں قادر ہے تو وہیں ہوا کو قید کرکے جہازوں کا سفر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انسان اب زمینی زندگی سے بلند ہوکر چاند پر آشیانہ بنانے کی سوچ رہا ہے، اور چاند پر جاکرزندگی بسانے کی ضروری سامانوں کا جائزہ بھی لے چکا ہے۔ صرف چاند ہی نہیں بلکہ اب تو مریخ پر اپنی سکونت گاہ قائم کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ انسان چاہے چاند پہ رہے یا مریخ پے، سمندر کی گہرایوں میں گھر بسائے یا فضا میں کوئی محل تعمیر کرے ، لیکن اس ترقی و ترویج کے بارے میں یہی کہوں گا کہ اگر خالق کائنات کی طرف سے ہادئی برحق کے ذریعہ اقوام عالم کو تعلیم کی حصولیابی پرابھارا نہیں جاتا تو آج سب کے سب انپڑھ و گنوار ہی رہ جاتے ، نہ تو کسی میں چاند تک جانے کی سوچ پیدا ہوتی نہ ہی کسی کے ذہن و دماغ میں نئی نئی ایجادات و انکشافات سامنے لانے کی فکر پیدا ہوتی ۔ 

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ایک جگہ یہ اعلان کیا ہے کہ ہم عنقریب لوگوں کو آفاق و انفس میں اپنی نشانیا ں دکھائیں گے،جس کی وجہ سے حقیقت ان کے سامنے نکھر کر آجائیگی۔ آج کی موجودہ ترقی اسی اعلان کا شاہکار ہے ، ذات باری تعالی کا کیا ہوا وعدہ پورا ہوگیا، لوگ خود اپنے اندرون میں ایسی ایسی چیزوں کو محسوس کر رہے ہیں جس کی حقیقت سمجھنے کے بعد حیران و ششدر ہیں۔

جس علم کی تلقین سے قرآن کا آغاز ہوا اسی کے حاملین طلبہ کے سلسلہ میں احادیث و آثار میں بے شمار فضائل موجود ہیں۔ حصول علم کی سب سے پہلی درسگاہ لگانے والے پاکباز صحابہ کرام ہیں ، جنہوں نے چبوترہ صفہ میں معلم بے مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شاگردی اختیار کرکے شمال و جنوب،مشرق و مغرب میں علم کے سوتے جاری کردیے ،جن سے پوری دنیا کے چاہنے والوں نے اپنی تشنگی بجھائی۔ اور علم و آگہی کے ایسے مراکز قائم ہوگئے جن سے فیضیاب ہونے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ یہود و نصاری کے ساتھ ساتھ اقوام عالم نے حصول علم کی جانب غیر معمولی توجہ و رغبت دکھائی۔

حصول تعلیم کا انداز نہایت ہی نرالہ ہے،بڑے ادب و سلیقہ مندی کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اور ایک ایک بات کان لگا کر سنتے ہیں۔سماعت کا عالم یہ ہے کہ سب کے سب اس قدر محو ہیں گویا سکینت کا نزول ہورہا ہے۔ زبان رسالت سے لعل و گوہر نکل رہے ہیں ،جنہیں پانے کے لئے ہر کسی میں سبقت پائی جارہی ہے،کیونکہ یہی دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی کی دولت ہے۔ یہی اصل اور انمول سرمایا ہے۔ جس کی قیمت کا مقابلہ دنیا کی سب سے بیش قیمت شئی کیا کرسکتی ہے ،بلکہ پوری دنیا اور اس میں جو کچھ موجود ہے تمام کے تمام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا موازنہ نہیں کرسکتی ۔ ایسی انمول نعمت کی حصول یابی کتنا اہم اور لائق ستائش کا م ہے۔ اس کا اندازہ خود مربی کائنات ،مکارم اخلاق ، معلم انس وجن، محسن انسانیت کے ارشادات کے بخوبی لگ جاتا ہے ۔

 حاملین علم کی قدرو منزلت کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ ارشاد ہے کہ جو کوئی حصول علم کی خاطر سفر کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لئے جنت کے راستہ کو آسان کردیتا ہے ،فرشتہ اس کے عمل سے راضی ہوکر اس کے پیروں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں ،زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیا ں بھی دعا گو ہوتی ہی۔ایک دوسری حدیث میں ارشاد رسالت ہے کہ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی جیسی کہ چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر،علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام وراثت میں دینار و درہم نہیں بلکہ علم کی دولت چھوڑتے ہیں۔دوسری روایت میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالی جس بندے کے ساتھ خیر وبھلائی کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی اس آدمی کو ترو تازہ رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے ،پھر اسے اسی طرح دوسروں تک پہونچادے جس طرح اس نے سنا،اس لئے کہ بہت سے ایسے لوگ جن کو بات پہنچائی جائے،سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی روایات سے پتہ یہی چلتاہے کہ علم کی حصولیابی میں مصروف رہنے والوں کا مقام نہایت ہی اونچا ہیں ،یہ اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں مقبول تو ہیں ہی ساتھ ہی کائنات کی تمام چیزیں بھی ان لئے مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں۔

 حصول علم ایک پاکیزہ اور باعزت عمل ہے ، اس کی حصولیابی کے لئے پاک باز و پا ک طینت رہنا بھی ضروی ہے، اگر علم کی حصولیابی کے وقت اس کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جائے تو علم کی اصل حقیقت و معنویت سے محرومی کا شکار ہونا لازمی ہے،اسلاف نے اس پاکیزہ عمل کے لئے خوب خوب محنتیں کی ہیں۔ لاپرواہی و کسل مندی  سےعلم کی دولت حاصل نہیں ہوسکتی ہے، علم ایک بہت ہی خود دار ہے ،غیور ہے ، اسے جب تک اپنا سب کچھ نہیں دے دیا جائے تب تک یہ اپنا تھوڑا حصہ بھی دینے کو تیار نہیں ہے، علم اللہ تعالی کا نور ہے ، اور یہ نور گنہگاروں کو نہیں کو دیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے استاذ محترم سے شکایت کی ، شکایت یہ تھی کہ میرے علم میں برکت نہیں ہے، میں جو کچھ یاد کرتا ہوں اسے محفوظ نہیں رکھ پاتاہوں ، اس شکایت کو سننے کے بعد ان کے استاذ نے کہا کہ علم اللہ تعالی کا نور ہے اور یہ نور گنہگاروں نہیں دیا جاتا ہے، اس لئے جہاں تک ہو سکے گناہ سے بچنے کی کوشش کی جائے، یہی وہ چیز ہے جو صاحب علم کو نفع نہیں پہنچاتی ہے،اگر کوئی طالب علم نہایت ہی ذہین و فطین ہے اور اپنی ذکاوت کے دم سے اعلی پیمانہ پر ہر فنون میں مہارت رکھتا ہے لیکن برائیوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا ہے تو یاد رکھئے اس کا علم اسے ہدایت کے بجائے گمراہی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ اس علم سے نہ تو خود اسے فائدہ پہنچے گا اور نہ دوسرے کو۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص وہ علم ، جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لئے حاصل کرے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا ساز و سامان حاصل کیا جائے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیگا۔ 

موجودہ دور میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو علم دین کو محض حصول دنیا کی غرض و غایت سمجھتے ہیں ، علم دین کی حصولیابی کے بعد اپنے فرض منصبی سے دست بردار ہو کر اپنی دنیا چمکانے کے پیچھے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ دولت و ثروت کے اس قدر حریص و رسیا بن جاتے ہیں کہ ان کے سامنے روز محشر کی ہولناکی ،قیامت کی دشوار گزار گھڑی،اور قبر کی تنہائی کے ساتھ ساتھ دردناک عذاب کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں ہوتی ہے۔ 

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ تعالی نے علم کو جو فوقیت اور قدرو منزلت دی ہے اسے ہمیشہ پیشہ نظر رکھتے ہوئے اس کا صحیح استعمال کیا جائے، اسی علم کی بدولت انسان کی عزت و حیثیت ہے، اس کی حصولیابی کے جو مقاصد ہیں بروئیکار لائے جائیں۔ حصول علم کے لئے کس طرح سے لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، آج سب سے بڑی مصیبت یہ آچکی ہے کہ لوگ علم کو دین اور دنیا کا چشمہ لگا کر دونوں کو الگ الگ لحاظ سے دیکھتے ہیں ، جبکہ علم کی کوئی ایسی تقسیم نہیں ہے، اگر علم کی تقسیم کی بھی گئی ہے تو وہ علم نافع اور غیر نافع ہے ، ہر وہ علم جس سے نفع پہنچے جس سے یاد خدا میں معاون و مدد گار ثابت ہو جس سے کائنات کی وسعت اور اس کی معنویت کو سمجھنے میں آسانی ہو اس کا حصول لازمی اور فرض ہے، اور ہر وہ علم جس سے اخلاق میں گراوٹ پیدا ہو، اسلام و عقیدہ میں بگاڑ آئے، آخرت کی یاد سے غافل کرے اس سے گریز کرنا چاہئے ۔   

Comment here