اداریہمحمد شاہنواز ندوی

اپنے ووٹ کی قیمت پہچانیں

انتخابات چاہے کسی بھی ریاست میں ہو جب لفظ سیاست ہمارے پردۂ سماعت سے مس ہوتا ہے تو سب سے پہلے سفید رنگ کے لباس زیب تن کئے ہوئے افراد کی تصویر یں ہمارے ذہن کے اسکرین میں گردش کرنے لگتی ہیں۔جن کے چہروں سے یہ بات آشکارہ ہوتی ہے کہ ان کے سینہ میں غریبوں ،محتاجوں ،کمزور وں اور ناتواں لوگوں کی امداد وکمک کے لیے ایک دھڑکتا ہوا دل ہے۔جس دل کی ہر دھڑکن صرف اور صرف اس بات کے لیے ہے کہ انہوں نے انتخابات کے موقع پر لوگوں کے قیمتی ووٹ لیتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ صرف ایک بار ہمیں کام کرنے کا موقع فراہم کیجئے ہم تن من دھن کی بازی لگا کر کام کریں گے۔ ہر ضرورتمند کی ضرورت ،ہر فریادی کی فریاد اور لاچار ومجبور کی لاچارگی کو دور کرنے میں دن رات ایک کردیں گے،خون کو پسینہ کی مانند بہا دیں گے،اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے میں رتی برابر بھی تساہلی نہیں برتیں گے۔الیکشن کے موقع پر ہر سیاسی لیڈر نہایت ہی عاجزی و خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاؤں گاؤں ،گلی گلی کا دورہ کرتے ہیں ،ہر کسی سے ادب و احترام سے پیش آتے ہیں، زبان اتنی شیریں اور میٹھی ہوتی ہے کہ جیسے ابھی ابھی شہد کے پیالہ سے منہ ہٹایا گیا ہو۔ ہونٹوں پہ پیار بھری مسکان ہے جس سے محسوس یہ ہورہا ہے کہ شاید الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد صرف ہمارے لئے ہی کام کریں گے۔ یہاں نہ کسی سے نفرت و عداوت ہے نہ کسی کے لیے بغض و کینہ،بلکہ یہاں تو صرف غم خواری و دلجوئی کی بات کی جارہی ہے۔ راستہ چلتے ہوئے بھی ہر ایرے گیرے کو سلام کیا جاتا ہے ، جان پہچان اور ان جان کی بھی خیریت لی جارہی ہے۔ اور ان ساری پیاری اداؤں کے ساتھ ساتھ دست گدا گری دراز کرتے ہوئے ووٹ کی فریاد بھی جاری ہے ۔ 

مذکورہ باتوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ سیاسی بازیگر جس عاجزی و خاکساری کا مظاہرہ الیکشن کے موقع پر کرتے ہیں وہ سوائے ڈھونگ کے اور کچھ نہیں ہے۔ یہ لوگ عوام کی آنکھوں میں صرف دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورنہ الیکشن کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جب ووٹ کی ضرورت پڑے تو راہ گیر کو بھی اپنا قریبی قرار دے دیا جائے لیکن جب ضرورت کی تکمیل کی باری آئے تو ضرورت مندوں کو بھلا دیا جائے۔

 جب کبھی الیکشن کا موقع آتا ہے تو اس طرح کی چیزیں ضرور سامنے آتی ہیں۔ کیا الیکشن کا معنی و مطلب یہی ہے کہ لوگوں کو دھوکہ میں رکھ کر اقتدار کی کرسی حاصل کی جائے ؟ انہی کے قیمتی ووٹ سے عہدہ و منصب حاصل کرکے انہیں فراموش کردیا جائے؟ آج حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ ہر کس و ناکس سیاست میں پنجہ آزما نے کی بات کرتے ہیں۔جسے خود اپنی نگہبانی کرنے کا شعور نہیں وہ سماج و معاشرہ کی نگہبانی کرنے کی بات کرتے ہیں ،لوٹ کھسوٹ ،رشوت ،بدکاری و مکاری،غیبت وچغل خوری،چالاکی و عیاری جیسی بدخصلتیں جن کی شرست میں داخل ہیں وہ قوم کا لیڈر و رہنما بن نے کی سوچ رکھتے ہیں۔ظاہر ہے جس کا من صاف نہیں اس کی باتیں اور عادتیں کیا صاف ہوں گی۔ سیاست ایک سنہرا پیشہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جس کی آئے دن پزیرائی ہو رہی ہے۔ وہ نوجوان جو اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کرکے اپنی قوم و ملت کی صحیح رہنمائی کر سکتے تھے آج وہ خود غرض سیاسی لیڈروں کے دم چھلے بن کر ان کے اغراض و مقاصد پورے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔جو قوم کی ضرورت پوری کر سکتے تھے وہ اپنے فائدہ کے لیے سماجی کارکن بنتے نظر آرہے ہیں۔ انہیں سفید کپڑوں میں نکلنا ،مذہب کے نام پر جذباتی بیان دینے میں سیاسی کردار نظر آرہا ہے۔ ملک کی حالت کو بد سے بد تر کرنے میں کوئی دقیقہ چھوٹنے نہیں دیا جارہا ہے۔

 موجودہ دور میں سیاسی لیڈران جس نہج پر چل رہے ہیں اس سے تو یہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ لوگ عوام الناس کی فلاح وبہودی کے بجائے صرف اپنی معاشی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی متمنی ہیں۔ اکثر دیکھا جارہا ہے کہ سیاسی لیڈرانوں نے الیکشن کو اپنا خوبصورت بجنس بنا لیا ہے، جس طرح ایک بجنس مین اپنی تجارت و بجنس میں پہلے خطیر رقم صرف کرکے سامان تجارت خریدتا ہے،پھر اپنی تجارت کو نفع بخش بنانے کے لیے دن رات ایک کرکے محنت کرتا ہے تب جا کر اسے خواطر خواہ منافع حاصل ہوتا ہے ،ٹھیک اسی طرح سیاسی حضرات الیکشن کو بجنس کی شکل دیتے ہوئے یہاں بھی الیکشن کی نوعیت کے اعتبار سے روپیہ خرچ کرتے ہیں ، الیکشن جس معیار کا ہو اسی کے بقد رلاگت ہوتی ہے، اس میں سامان تجارت کوئی بازاری چیز نہیں ہوتی بلکہ اس تجارت میں لوگوں کے ضمیر سامان تجارت ہوتے ہیں ، جسے نہایت ہی خصیص اور گھٹیا قیمتوں میں خریدا جاتا ہے، ضمیر فروش لوگ بھی اپنے ضمیر کا سودا کرنے کے لیے معمولی سی رقم پر رال ٹپکائے رہتے ہیں۔ اس طرح سے انتخابات کے ایام میں بڑے پیمانہ پر ضمیر کی سودابازی ہوتی رہتی ہے ،جوں جوں ووٹ ڈالنے کا دن قریب تر ہوتا جاتا ہے توں توں اس تجارت میں بیش قیمت ضمیر فروش جو قیمت کے بڑھنے کے انتظار میں رہتے ہیں میدان میں آتے ہیں اور رات کے سہ پہر میں اپنے اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں۔سیاسی لیڈر بھی سمجھتا ہے کہ ایسا موقع بار بار نہیں آئیگا ، اسی دوران جتنی چاہے خریدرای کرلی جائے، اگر الیکشن میں کامیابی نصیب ہو جائے تو اگلے پانچ سال تک اپنی تجارت کا منافع حاصل کرتا رہوں گا،آج روپیہ پانی کی طرح بہ رہا ہے بہہ نے دواگلے پانچ سال میں معاملہ اس کے برعکس ہوگا، آج ایک ووٹ خریدنے میں ہزاروں لاکھوں روپیہ دینے کی ضرورت پڑ رہی ہے، لیکن یہی لوگ میرے لیے کروڑوں روپیہ کے آنے کی سبیل نکال رہے ہیں۔ آج میں روپیہ لٹا کر خود روپیہ کا پیڑ لگا رہا ہوں کل جب اس کے برگ و بار نکل آئیں گے تو اس کا پھل بھی مجھے ہی نصیب ہوگا۔ ان بے غیرتوں کو ذرہ برابر بھی شرم و حیا نہیں کہ جس بے دردی سے آج ضمیر کا سودا کررہے ہیں کل اسی بے رحمی سے پیروں تلے روند دئے جائیں گے ، سماج و معاشرہ کی فلاح و بہبودی کی خاطر ان کے قدموں میں حرکت نہیں ہوگی،انہیں صرف اپنی تجوریوں کے بھرنے کے سوا کوئی دوسری فکر دامن گیر نہیں ہوگی۔ کیونکہ انہوں نے چند روپیہ کے عوض ووٹ کی شکل میں ضمیر کا سودا کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم چاہے جو کریں ہمارے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ سکتی ،اس لیےکہ ہمارے خلاف جو آواز اٹھنے والی تھی ان کی زبانوں کو روپیہ کی چھری سے کاٹ دی گئی ہے، اور ہمارے من مانی کے خلاف جو انگلی اٹھنے والی تھی اسے بھی شل کر دی گئی ہے۔ اتنی بے حسی اور بے غیرتی کا منظر کبھی بھی نہیں دیکھا ہوگا جتنا کہ الیکشن کے دوران دیکھا جاتا ہے، کیسے لوگ اپنی خودداری چند پھوٹی کوڑیوں کے دام میں فروخت کرتے ہیں۔

مجھے معلوم ہے کہ اس بدعنوانی کے دور میں اچھائی کسی کو پسند نہیں آتی ، لوگوں کی اکثریت جس جانب جاتی ہے اسی طرف ہر کوئی جانے کی تمنا رکھتا ہے، اگر لوگوں کی پسندیدگی کے بارے میں ایک نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا ، ہر وہ کام جس کی شرعیت نے حرمت یا کراہیت بیان کی ہو آج وہ لوگوں کی چاہت ہے، رہن سہن سے لیکر کھان پان تک ،عادت و اطوار سے لیکر گفتار و کردار تک ،کسب معاش سے لیکر صرف معاش تک ہر پہلوؤں میں اسلامی تعلیم اور اسلامی نظریات کی خلاف ورزی کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے، ٹھیک اسی طرح سے سیاست و قیادت کے میدان میں بھی اسی اسلامی نظریہ کے خلاف لوگوں کا مزاج بن چکا ہے۔ حالانکہ قیادت ایک ایسا امر ہے جس کی جواب دہی بہت ہی مشکل ہے، جس کی پیش کرنے سے ہر کس و ناکس کو گریز کرنا چاہئے ،لوگوں کے مسائل کا حل بلا کسی ترجیح کے نکالنے ہی میں قیادت کی اصل روح باقی ہے، اگر قیادت و سیاست میں کسی نے ادنی سی بھی لاپرواہی کرتے ہوئے جانبداری کا پہلو اختیار کیا ایسے لیڈروں کی سخت سے سخت باز پرس کی جائیگی۔ اس سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابو سعید عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ تم خود کبھی حکومت کے کسی منصب کا سوال نہ کرنا،اس لیے کہ یہ منصب اگر تجھے بغیر سوال کئے مل گیا تو اس پر اللہ کی طرف سے تیری مدد ہوگی اور اگر سوال کرنے سے تجھے یہ ملے گا تو یہ تیرے سپرد کردیا جائے گا ،یعنی اللہ کی مدد شامل حال نہیں ہوگی۔

مذکورہ حدیث میں حکومت کے کسی عہدہ یا منصب کی آرزو اور اس کے لیے کوشش کرنا ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے، اس لئے کہ یہ بہت بڑی ذمے داری ہے جس سے عہدہ بر آہونا نہایت مشکل امر ہے ، البتہ جس کو بغیر مانگے یہ منصب مل جائے وہ اسے قبول کرلے کیونکہ بن مانگے یہ اسی کو ملے گا جس میں اس کی خاص استعداد و صلاحیت ہوگی ، علاوہ ازیں اللہ تعالی کی طرف سے بھی اس کی مدد ہوگی اور اسے خیر کی توفیق ارزانی ہوگی جبکہ خود خواہش کر کے حاصل کرنے والا اللہ کی طرف سے خیر اور سداد کی توفیق سے محروم رہے گا چنانچہ آج اس حقیقت کا عام مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ، جمہوری حکمران خود کوشش کر کے بلکہ جائز و ناجائز ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر اقتدار حاصل کرتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ خیر و بھلائی کی توفیق سے وہ محروم رہتے ہیں۔ اس طرح کوئی حکمران اچھا اور کامیاب ثابت نہیں ہورہا ہے کیونکہ سب اللہ کی مدد اور اس کی توفیق سے محروم ہیں۔ 
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! کیا آپ مجھے کسی جگہ کا عامل (سرکاری عہدیدار) نہیں بنا دیتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا ،اے ابو ذر! تو کمزور ہے ، اور یہ منصب ایک اہم امانت ہے ، یہ قیامت والے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگا ، سوائے اس شخص کے جو اسے حق کے ساتھ اہلیت کی بنیاد پر حاصل کرے اور ان ذمے داریورں کو پورا کرے جو اس کی بابت اس پر عائد ہوتی ہیں۔ (مسلم شریف) اس میں ان لوگوں کو سرکاری مناصب حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں دو شرطیں موجود ہوں ، ایک، اس منصب کی اہلیت اور دوسری ،اس منصب کی ذمے داریوں کی ادائیگی کی استعداد و قوت ، جیسے کوئی حکمران بنے تو عدل و انصاف قائم کرنے اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی صلاحیت و قوت سے بہرہ ور ہو ، مالیات کے شعبے کا انچارج بنے تو اس کی اہلیت اور اس کی ذمے داریوں کی ادائیگی کی استعداد سے مالا مال ہو ،گورنر یا کسی شعبے کا وزیر ،مشیر یا کلرک وغیرہ جو بھی بنے ، اس کی اہلیت بھی اس میں موجود ہو اور دیانت و وامانت سے اس کی ذمے داریوں کو ادا کرنے کا جذبہ و استعداد بھی ہو ۔ کیونکہ یہ ایک بہت بڑی امانت ہے ، مذکورہ شرطوں کے بغیر اسے حاصل کرنا ایک گونہ خیانت ہے جس کی سزا قیامت کے روز اسے بھگتنی پڑے کی۔

 
     اس میں کوئی شک نہیں کہ وزارت و سیاست کا تعلق زندگی کے بیشتر پہلوؤں سے ہے،اس کے بغیر ماحول و سماج کی صحیح و درست تعمیر نہیں ہوسکتی ،سماج و معاشرہ کی ترقی کے لیے ایک باشعور ،دور اندیش،مردم شناسی کے ساتھ ساتھ مزاج شناسی سے واقف لیڈر ورہنما کی ضروت ہے۔جوقائدانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ اخلاق کریمانہ سے مزین ہو۔اس طرح کی صفات و خوبیوں سے لیس انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی میدان میں آگے بڑھیں ،ان کی پیش قدمی سے لوگوں میں خوشی وفرحت پیدا ہوگی۔ لوگوں کو خوشحال زندگی گزارنے کی امید پیدا ہوگی۔ ایسے نبض شناس لیڈروں کی فتحیابی کے لیے نہ زیادہ تشہیرو اعلان کی ضرورت پڑتی ہے نہ ہی انہیں در در جاکر لوگوں سے اپنی فتح و فیروز مندی کی صدا لگانی پڑتی ہے، اس لیے کہ تعمیری مزاج رکھنے والے لیڈر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی خواہش ہر کسی کے دل میں ہوتی ہے، لوگ بیک زبان و یک مشت ہوکر ایسے باکردار لیڈر کا انتخاب کرکے اپنی فلاح بہبودی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔

Comment here