مضامین

زمین کائنات میں ہماراواحدمسکن وملجا

ابراہیم سجاد تیمی

ربِ کائنات نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں بنی نوع انسانی کو مظاہر فطرت پر غور وتدبر کرنے کا حکم دیا ہے، خصوصا زمین وآسمان کی تخلیق اوران کی بناوٹ پر تفکر وتدبر پرباربار ابھارا ہے تاکہ انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرسکے اور اس کی کاریگری اور خلاقی کااعتراف کرتے ہوئے اس کی عبادت وپرستش میں مشغول رہے۔ ارشاد ہے: 

’’ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللہَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا۝۰ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‘‘

” جو لوگ اٹھتے بیٹھتے اور پہلووں پر لیٹے لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور وفکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! یہ سب کچھ تونے یوں ہی عبث نہیں پیدا کیا ہے، تیری ذات پاک ہے، تو ہمیں جہنم کی آگ سے بچالے”۔ (1)

ایسے بندے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں جو اس کی نشانیوں پر غور وفکر کرتے اور پھر اعلانِ حق کرتے ہیں کہ یہ نظامِ کائنات کوئی کارِ عبث نہیں بلکہ اس پر وردگار کی عظیم نشانی ہے جو ہر طرح کی عبادت وپرستش کا حقدار ہے۔ ایسے بندے ہر دور اور ہرزمانہ میں رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وہدایت پرعمل کرتے ہوئے زمین اور آسمانوں کی تخلیق پر غور وفکر کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا اور سب اپنی اپنی رسائی کے مطابق اسرار ورموزِ کائنات کو معلوم کرتے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی جن مخلوقات کی تخلیق پر سب سے زیادہ تفکر وتدبر کرنے کی دعوت دی ہے، ان میں سرِ فہرست آسمان اور زمین ہیں۔ ویسے بنی نوع انسان کی رسائی اب تک محض فضا اورخلا تک محدود پیمانہ پر ہوئی ہے، مستقبل میں کتنا آگے تک انسان کی رسائی ہوپاتی ہے، یہ مکمل طور پر پردۂ غیب میں ہے اور اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ، تاہم سعی مسلسل جاری ہے جس میں رب کائنات کے منکرین کے کفر میں ازدیاد اور مومنوں کے ایمان میں اضافے کا بہت ساسامان موجود ہے۔ آسمان تک رسائی کی طاقت صرف فرشتوں اور جنات میں ہے۔ فرشتوں کی رسائی تو ساتوں آسمانوں تک ہے کیونکہ وہ رب کائنات کی خصوصی مخلوق ہیں جبکہ جنات کی رسائی صرف آسمان دنیاتک ہے اور وہ بھی زمین سے نظرآنے والے بیرونی حصے تک،اندروہ بھی نہیں جاسکتے، جیسا کہ سورہ الجن کی آیات: ۸-۹سے معلوم ہوتا ہے، ان دومخلوقات کے علاوہ کوئی تیسری مخلوق ہمارے علم میں نہیں ہے جس کی رسائی آسمان تک ہوسکتی ہو، ان دومخلوقات کے بارے میں بھی ہمیں قرآن کریم اورسنت نبویہ ہی نے جانکاری دی ہے۔ وگرنہ ہم اس سے بھی محروم ہی رہتے کیوں کہ یہ ایسا علم ہے جو انسانی بساط سے باہر کی شی ہے۔ آسمان کے بارے میں جس قدر جاننے کی انسان کو ضرورت تھی، اتنا علم ہمیں وحی کے ذریعہ اور معراجِ نبوی کے وسیلہ سے عطا کردیاگیا ہے اوراس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے ہیں۔ قرآنِ کریم کی کئی آیات: مثلا: البقرہ آیت(۲۹)، الإسراء (۴۴) ، المومنون (۸۶)، فصلت (۱۲)، الطلاق (۱۲)، الملک (۳)، نوح (۱۵-۱۶) میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں واضح طور پر بتادیا ہے کہ اس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے ہیں۔ لہٰذا ، اس باب میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے رب نے ان کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے، اسی پر آمنا وصدقناکہنے میں ہی انسان کی خیر وفلاح مضمر ہے کیوں کہ آسمان تو دور کی چیز رہا ، اربوں کہکشاوں میں سے کسی ایک بھی کہکشاں تک اس کی رسائی ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف زمین کو اللہ تعالیٰ نے انسان کا عارضی مسکن بنایا ہے، اسے ہر طرح کی سہولیات اور ذرائع سے پُرکرکے اور ہر طرح سے سجا سنوار کر انسان کے حوالے ایک نامعلوم مدت تک کے لئے کردیا ہے، وہ بھی اس مقصد سے کہ انسان یہاں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے انمول وسائل سے کام لے کر اس کی عبادت وپرستش کرتا رہے گا۔ سورہ البقرہ:کی آیات (۳۶-۳۸-۳۹) سے یہ بات بالکل واضح ہے۔ زمین پر وافر مقدار میں موجود وسائل سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے اوپر اور اس کے اندر بھی بے شمار نشانیاں ایسی ہیں جو خالقِ کائنات کی خلاقی وصناعی کی ہر پل شہادت دے رہی ہیں ۔ انسان کو ان پر بھی غور وفکر کرنے کی دعوت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جا بجا دی ہے تاکہ وہ ان سے اپنے خالق ورازق کے وجود اور اس کی کبریائی کی معرفت حاصل کرے۔

ہماری یہ زمین جو اس بے کراں کائنات میں محض ایک ذرہ کی حیثیت رکھتی ہے، اپنے اندر بے شمار امتیازات وخصوصیات سمیٹے ہوئی ہے جن میں سے سب سے بڑا اورسب سے حیران کن امتیاز یہ ہے کہ اسے ہی اللہ تعالیٰ نے انسان کو آباد کرنے کے لئے منتخب کیا ہے وگرنہ اب تک کی معلوم دنیا میں کوئی ایسا کرہ یا سیارہ دریافت نہیں کیا جاسکا ہے کہ جس میں آبادی توکجا، آثارِ حیات کا سراغ ہی مل سکے۔ پھر اسی پر سلسلۂ نبوت ورسالت کا جاری ہونا بھی اس کا وہ امتیاز ہے جو اسے روکشِ آفتاب بناتا بلکہ پوری کائنات میں آسمانوں کے بعد سب سے زیادہ ممتاز ومنفرد بنادیتا ہے، پھر یہ تخلیق اور بناوٹ کے اعتبار سے کس قدر حیران کن ہے ، اسے ایک امریکی ماہر اراضیات جے ایس لویس کی زبانی سنئے:

“زمین اپنے کرۂ ہوائی اور سمندروں ، پیچیدہ کرۂ حیات (بایوسفیر)، قدرے تکسید شدہ قشرِ ارض (Crust)سلیکا کا سے بھرپور آتشی، تہہ دار اور کثیر شکلی چٹانوں کے ساتھ ( جو میگنیشیم سلیکیٹ کے مینٹل اور قلب میں موجود) گرم لوہے پر بچھی ہوئی ہیں، اپنی برفانی چوٹیوں، صحراؤں ،جنگلوں، ٹنڈرا کے خطوں، جھاڑیوں سے اٹے مقامات ، تازہ پانی کی جھیلوں، کوئلے کے تختوں(Beds)،تیل کے ذخائر ، آتش فشانوں ، دھوئیں کے بادلوں، فیکٹریوں، گاڑیوں ، پودوں، جانوروں، مقناطیسی میدانوں، کرۂ روانی (آئنو سفیر)، وسط بحری گھاٹیوں (Mid-Ocean Ridges) اور تمام حیرت انگیز خوبیوں سمیت، عقلوں میں خبط کرپیدا دینے والی پیچیدگی کا حامل نظام ہے”۔

ان تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود ربِّ کائنات نے اسے زندگی کا حامل اور زندگی کی پرورش کرنے کی تمام تر صلاحیتوں سے محض اپنے فضل وکرم سے نوازا ہے۔ یہ ہمارے نظامِ شمسی کا واحد رکن ہے جس پر حیات اورآثارِ حیات ہیں، وگرنہ نظامِ شمسی کے دیگر ارکان میں ہمیں اب تک حیات اورآثارِ حیات کاسراغ نہیں لگا ہے، مان لیجئے کہ ہم نظامِ شمسی کے سفرپررواں دواں ہیں ، ہم اس میں ایسےداخل ہورہے ہیں کہ سیاروں اور سورج کا استوا ہماری سیدھ میں ہے۔ ایسے سفر میں ہم سب سے پہلے پلوٹو پر پہنچیں گے اور اس کی 238درجہ سینٹی گریڈ کے منفی درجۂ حرارت کی ٹھنڈ ہمیں بھی برف کا تودہ بنا کر رکھ دے گی۔ وہاں سے آگے بڑھیں گے تو نیپچون سے سابقہ پڑے گا۔ اس کا درجۂ حرارت بھی منفی 2018درجہ سنٹی گریڈ ملے گا۔ وہاں ہم جتنی دیر ٹھہریں گے، تقریبا ہر پل ہمیں دو ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے قیامت خیز ہوائیں چلتی ہوئی ملیں گی۔ پھر ہم یورینس پہنچیں گے تو یہاں کا درجۂ حرارت بھی تقریبا 214منفی ڈگری سینٹی گریڈ ملے گا۔ اس کے کرۂ ہوائی میں ہائیڈروجن، ہیلیم اور میتھین گیس بکثرت موجود پائیں گے اور اسے بھی انسانی رہائش کے لئے قطعا ناموزوں پاکر آگے بڑھنے پر مجبور ہوجائیں گے اور پہنچیں گے زُحَل پر لیکن دیکھیں گے کہ یہ تو 75فیصد ہائیڈروجن اور 25فیصد ہیلیم پر مشتمل گیسوں کا ایک گولہ ہے، پھر اس کی کثافت بھی پانی سے کم ہے اور درجۂ حرارت بھی منفی 178ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔اسے بھی رہائش کے لئے ناموزوں پاکر ہم آگے بڑھتے ہیں اورنظامِ شمسی کے خوبصورت ترین سیارہ مشتری پر پہنچ رہے ہیں جو حجم میں ہماری زمین سے 318گنا بڑا ہے لیکن یہ بھی زحل کی طرح گیسی سیارہ ہے، اس کی فضا اورسطح میں فرق کرنا مشکل ہے۔ لہٰذا، یہ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ اس کی سطح کا درجۂ حرارت کتنا ہے۔ البتہ بیرونی حصوں کا درجۂ حرارت منفی 143ڈگری سینٹی گریڈ معلوم ہوتا ہے اور اسے بھی زندگی کے لئے ناموزوں پاکر آگے بڑھنے اور مریخ پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا درجۂ حرارت گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے تاہم یہ منفی 53ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ ہوتا ہے، اس پرزندگی کے موجود ہونے کی توقعات اور مفروضات کلبلانے لگتے ہیں لیکن دریافت شدہ شہادتیں بتاتی ہیں کہ یہ بھی زندگی سے یکسر خالی سیارہ ہے۔ پھر ہم زہرہ پر اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا درجۂ حرارت 450ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو سیسہ تک کو پگھلادینے کے لئے کافی ہے۔ اس کی فضا کی ہوا کا دباؤ بھی ارضی فضائی دباؤ یعنی زمین پر ہوا کے دباؤ سے نوے گنا زیادہ ہے جو زمین پر سطح سمندر سے ایک کلومیٹر کی گہرائی میں اترنے کے بعد ہی حاصل ہوسکتا ہے اور اوپر سے تیزابی بارش بھی مسلسل برس رہی ہے اور ایسے جہنمی ماحول میں رہنا ہمارے لئے ناممکن ہوجاتا ہے تو ہم عطارد پر پہنچ جاتے ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ اس کے دن اوررات میں درجۂ حرارت کافرق تقریبا ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور ایسے ماحول میں چونکہ زندگی پنپ نہیں سکتی، اس لئے ہم آگے بڑھ جاتے ہیں اورمتذکرہ بالاآٹھ سیاروں اور ان کے تقریباً 53 سیارچوں (Satellites) سے ہوتے ہوئے آخر کار ہم اپنے نیلے سیارہ یعنی زمین پر واپس آجاتے ہیں جس کی قابلِ رہائش فضا، متناسب درجۂ حرارت، سطح کے خدو خال ، مقناطیسی میدان، متنوع عناصر کی فروانی اور سورج سے انتہائی مناسب فاصلہ، ان سب کو دیکھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ اسے ہی بطورِ خاص زندگی کے لئے تخلیق کیا گیا ہے بلکہ ایسا واقعتا ہے بھی کیونکہ یہ کائنات اپنی بے پناہ وسعتوں کے باوجود آسمانوں کے گھیرے میں ہے اور اس میں موجود ہرسیارہ اپنے اپنے مدار میں گردش کررہا ہے-کل فی فلک یسبحون-(الانبیاء: ۳۳) گویا کائنات کا ہرسیارہ بلکہ ہر کہکشاں بھی فضا میں اور اپنے اپنے دائرہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر تابعداری اور کامل اطاعت بجالارہی ہے اور سب میں اس قدر مناسب توازن اور ہم آہنگی کارفرما ہے کہ اسے دیکھ اورسن کر رب کائنات کی تحمید وتقدیس اور تسبیح بے اختیار زبان سے جاری ہوجاتی ہے اوردل اس رب کریم کے ہم انسانوں پر فضل وکرم کا ترانہ گنگنانے لگتا ہے۔ دنیا کے درجۂ حرارت کی موزونیت ، کرۂ ہوائی اورعملِ تنفس کے لئے آکسیجن کی موزونیت، زمین کی کمیت اور مقناطیسی میدانوں کی جسامت میں موزونیت، غرضیکہ زندگی کو پنپنے کے لئے جتنی بھی چیزوں میں موزونیت درکار ہے، بدرجہ اتم یہیں موجود ہے اور ایک ایک شی کی موزونیت پرربِ کائنات کی حمد وثنا کئے بغیر نہیں رہاجاتا۔ اگر ہم زندگی کے لئے لازمی اجزاء کی فہرست مرتب کرنا چاہیں، تو اچھی خاصی لمبی فہرست تیار ہوجائے گی۔ تاہم یہاں پر ہم امریکی ماہر فلکیات ہیوگ رَوس نے اپنے طور پر جو فہرست تیار کی ہے ، اس میں سے چند باتیں آپ کے سامنے رکھیں گے، آپ انہیں بغور پڑھیں اوران پر تفکر وتدبر کریں تو ہمیں امید ہے کہ آپ کی زبان بھی باربار “فَبِأَیِّ آلاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ” کا وردکرنے لگے گی:
ہیوگ رَوس لکھتے ہیں کہ سطحِ زمین پر قوتِ ثقل اگر زیادہ ہوتی تو فضا میں بہت زیادہ امونیا اور میتھین گیسیں جمع ہوجاتیں اور اگرکم ہوتی تو زمین کے کرۂ ہوائی میں بہت زیادہ پانی جمع ہوجاتا۔ مرکزی سیارہ سے زمین کا فاصلہ اگر جتنا ہے، اس سے زیادہ ہوتا تو پانی کا چکر جاری رکھنے کے لئے یہ سیارہ بہت زیادہ سرد ہوتا اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو پانی کا چکر جاری رکھنے کے لئے سیارہ بہت گرم ہوتا۔ قشرِ ارض کی موٹائی جتنی ہے، اگر اس سے زیادہ ہوتی تو کرۂ ہوائی سے بہت زیادہ آکسیجن ، قشرِ ارض میں منتقل ہوجاتی اور اگر کم ہوتی تو ارضِ حرکی اور آتش فشانی سرگرمیاں بہت شدید ہوتیں۔ محو ر پر گردش کادورانیہ اگر طویل ہوتا تو دن اور رات کے درجۂ حرارت کا فرق بہت زیادہ ہوتا اور اگر مختصر ہوتا تو کرۂ فضائی میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار بہت تیز ہوتی۔ البیڈو (Albedo) یعنی سطحِ زمین تک پہنچنے والی مجموعی روشنی اوراس کی منعکس ہونے والی مقدار کی باہمی نسبت اگر زیادہ ہوتی تو برفانی عہد مسلسل قائم رہتا اور اگر کم ہوتی تو شدید گرین ہاؤس اثر رونما ہوتا، ہوا میں آکسیجن اور نائٹروجن کا باہمی تناسب اگر زیادہ ہوتا تو ترقی یافتہ زندگی کے لئے درکار تعاملات بڑی تیز رفتارسے ہوتے اور اگر کم تر ہوتا تو ترقی یافتہ زندگی کے لئے تعاملات نہایت سست رفتار سے ہوتے۔ اگر زمین پر زلزلیاتی سرگرمی اورزیادہ ہوتی تو زندگی کی بیشتر اقسام صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہوتیں اور اگر کم ہوتی تو دریائی بہاؤ کے ساتھ سمندری تہہ تک پہنچنے والے اہم غذائی اجزاء بازیافت (Recycle) ہوکر چٹانوں میں اٹھان کی بدولت براعظموں میں پھر سے شامل نہ ہوتے۔ اسی طرح، اگر مقناطیسی میدان اس سے زیادہ طاقتورہوتا جتناطاقت ور وہ بروقت ہے تو برقی مقناطیسی طوفان بھی بہت شدید ہوتے اور گر کمزور ہوتا تو ستاروں سے آنے والی ہلاکت خیز شعاعوں سے تحفظ مناسب طور پر فراہم نہیں کرسکتا تھا۔ فضا میں اوزون کی سطح یعنی تناسبی مقدار اگر زیادہ ہوتی تو زمین پر درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوتا اورسطح تک الٹراوائلٹ شعاعوں کی بہت بڑی مقدارہروقت پہنچ رہی ہوتی۔

گویا اگر ان تناسبات میں سے کسی ایک تناسب وتوازن میں ذرا بھی کمی بیشی ہوتی تو زمین پر زندگی کا امکان ہی نہیں ہوتا چہ جائیکہ یہ انسان جو ہر وقت رب کائنات کی ناشکرگزاری پر کمر بستہ ہے، یہاں زندہ رہتا اوراس کی زندگی کا تسلسل جاری رہتا۔ یہ تو بس اسی کا فضل وکرم ہے کہ اس نے انسان کو ایسا محفوظ گھر عطا کیا ہے جو کائنات میں انتخاب ہے۔ (دیکھئے: کائنات کی تخلیق، ص:۶۸-۹۳)اور ہاں! یہ تو بس چند حقائق ہیں جنہیں ہم نے اس لئے بیان کیا ہے کہ انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرے، اس رب کی جس نے اسے اس کائناتِ بسیط میں زمین کی صورت میں ایک ایسا گھر عطا فرمایا ہے جس کی چھت آسمان ہے اورایسا محفوظ ومتناسب گھر ہے کہ اس کی تعمیر میں پوشیدہ حکمتیں دیکھ کر ایک قلبِ سلیم رکھنے والا انسان یہ اقرار کئے بغیر رہ نہیں پاتا کہ اس ڈیزائن کے پیچھے کوئی ماہر ترین ڈیزائنر ضرور ہے۔ ہاں! وہی ڈیزائنر ہے اللّٰہ جو کائنات اورکائنات کی ہر چیز کا رب ہے اور ہمیں اسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے۔

حاشیہ:

1۔(آل عمران:۱۹۱)

Comment here