اصلاح معاشرہ

آہ رے غروروتحقیر

ابو عبد العزیزمحمدیوسف 

کہا جاتا ہ ےکہ یہ دور ترقی ، تہذیب وتمدن اور ثقافت  وکلچرکا عہد ہے، سائنس وٹکنا لوجی کا زمانہ ہے، آج علوم ومعارف کا  سمندرٹھاٹھیں مارتا ہوا نظر آتا ہے ، اور خالص مادی علوم نے لوگوں کے قلوب واذھان پر جادو کر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثرمسلمانوں کے دل ودماغ سے دینی علوم  کی قدر وقیمت اوجھل ہوتی جارہی ہے، علماء ربانیین  خال خال ہی نظر آتے ہیں ، حالانکہ آپ دیکھیں گے بہت سے ایسے لوگوں کو جو اپنے آپ کو صف علما ء میں شمار کرتے ہیں ، عوام الناس بھی ان سے مرعوب ہیں ۔ انہیں اپنے علم ومعرفت،وسعت اطلاع ، عمدہ ذہانت  وفطانت پر کافی ناز وغرور ہے، علم کا سمندر ہونے کا تصور دل ودماغ پر چھایا ہوا ہے، پر علم کی  گہرائي  وگیرائي انہیں نصیب نہیں ہے، وہ ابھی علمی کنواں کے اندر جی رہے ہیں ، علمی دنیا میں غوطہ زن  ہونے کی توفیق شامل  حال نہیں ہوئی ہے، لہذا اپنے آپ کو ایسے لوگوں کا  یکتائے روزگار، نا بغائہ زمانہ اور بے مثال بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ   ہوگا، ان کے نوک زبان وقلم سے دوسروں کی تحقیر وتنقیص چندہ مفیدنہ ہوگي بلکہ خود ان کی اخروی زندگی کیلئے باعث خسارہ ثابت ہوگي اگر قبل از موت توبہ کی سعادت نصیب نہ ہوئي۔

     مذکورہ صفات کے کچھ حاملین  ہمیں اپنے ارد گرد دیکھائي  دیتے ہیں ، کافی لوگ ان سے  نالاں وپریشان  ہیں  اور کیوں نہ ہوں، یہ حضرات اپنے   حواری ومریدوں کے ساتھ صرف نجی مجلسوں  ہی میں  نہیں بلکہ عام مجالس ومحافل کے  اندر بر ملا وبر سر عام اپنی علمیت ویکتائیت کا اظہار اور دوسروں کی تنقیص وتحقیر کا  تیرچلاتےہوئےذرہ برابر ہچکچاتے نہیں ، معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ کہتے ہیں : پورے مغربی بنگال کے طول وعرض میں ان کے علاوہ کوئي دوسرا ایسا  ہے ہی نہیں جسے حدیث کی “حاء” اردو کی “الف” اور بنگلہ کی “باء” کا علم  ہو چہ جائیکہ اسے “علم حدیث” ، “اردو زبان ” اور “بنگلہ بھاشا ” کا علم اور ان میں مہارت حاصل ہو  نہ لکھنے میں ، اور نہ بولنے اور پڑھنے میں۔ جی ہاں انہیں الفاظ کےذریعہ اپنےغرور وتکبرکا اظہار اور دوسرے علماء کی تحقیر واستہزاء کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتے ہیں ،  شوخی وبے حیائی کا یہ ایک نرالا انداز ہے، مگر اس میں کوئي تعجب کی بات نہیں ، ایسے شخص ومدعی علم کی علمیت کا جائزہ خود ان کی  تحریروں کے حوالہ سے  لیکردیکھ لیں ،  چہرہ نبوت سے ان کے چہرہ کا موازنہ کر لیں ، آپ کا تعجب کافور ہو جائیگا ،  صحبت اختیار کرلیجئے اخلاق کریمہ شرما جائیگا۔

       اس نرالا شخصیت اوراس کے دم چھلے بغض وحسد کے شکار ہو کر ایک ایسے امر کا انکار اور اس پر نکتہ چینی کرتے نظر آتے ہیں ، جس کا جواز نصف النہار کی طرح روشن ہے اور جس پر بر صغیر  پاک وہند وغیرہ کے علماء کا اتفاق ہے، تا دم تحریر کسی کے انکار ونکیر سے ہم واقف نہیں ،چنانچہ مدینہ  منورہ کی عالمی شہرت یافتہ اور بے مثال  ومایہ ناز اسلامک یونیورسٹی میں جن خوش نصیبوں کو  علوم شرعیہ دینیہ کی تحصیل کا موقع میسر ہوتا ہے، جہاں کم از کم  چار سال تک قیام پذیر رہ کر صاف وشفاف علمی چشمہ سے اپنی تشنگي بجھاتے ہیں ، مسجد الرسول کی  خیرات وبرکات سے اپنے دامن کو بھرتےہیں پھر وہاں سے فارغ التحصیل ہو کر مختلف دعوتی وتعلیمی وتدریسی اداروں سے منسلک ہوکر بند گان  رب العالمین کو فیض پہونچاتے ہیں ، اور ایک لمبی مدت سےایسےلوگوں سے پوری دنیا سیرا  ب ہورہی ہے اور ان کا ایک خاص اور الگ مقام ومرتبہ اور پہنچان خواص وعوام کے بیچ قائم ہے، ان حضرات علماء کرام کو بابرکت ، باعزت اور مقدس شہر “مدینہ منورہ”کی طرف منسوب کر کے “مدنی ”  کہا جاتا ہے، علماء وخواص سبھی انہیں اس باعزت نسبت سے یاد کرتے ہیں ، اس میں نہ کوئي شرعی  ودینی قباحت ہے اور نہ ہی کوئي لغوی ولسانی خامی ہے، اس کے باوجود ان  طرار بے باک صاحبان  کو اس نسبت پر اعتراض وانکار ہے، نجی مجلس کیا عوام کے بیچ میں بھی اس انتساب پر نکتہ چینی اور اس سے متصف علماء کرام کی تحقیرکرتے نظر آتے ہیں، کہتے ہیں :کوئي  مدینہ میں پڑھ لیا تو  “مدنی ” ہوگیا ،کوئي “مکہ” میں پڑھ لیا تو “مکی ” ہوگيا الخ، در اصل یہ ان فضلاء وعلماء کی تئیں ان صاحب کے بغص وحسداورنظرحقارت کا ایک اچھو تہ انداز ہے، مقصدان کی قدرومنزلت کو داغدار کرنا ہے کیونکہ انہی کی وجہ سے صاحب کا مقام ومرتبہ خاک میں ملتا نظرآتاہے،  لوگوں کی توجہ ونظر اب ان کے بجائے مدنی حضرات کی طرف اٹھنے لگي ہے ، جو ان کیلئے انتہائي ناقابل برداشت صورت حال ہے ۔

       مگر یہ انداز فکر،  یہ سلوک اور تعامل علماء ربانیین کے اخلاق سے میل نہیں کھاتا ، بہر حال مقصد تحریریہ ھیکہ کہ ان حضرات نے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل علماء حضرات کو “مدینہ” کی طرف نسبت کر کے”مدنی” کہے جانے پر نکتہ چینی کرتے ہیں، حالانکہ اس انتساب کا تعلق ایک ایسے علم کے ساتھ ہے جس میں خود انہیں مہارت تامہ رکھنے کا زعم باطل ہے، جس کا علم نہ رکھنے کا خود دوسروں کو طعنہ دیتے ہیں ۔ اس کا تعلق علوم الحدیث سے ہے۔

      محدثین کرام اور علماء مصطلح الحدیث  اسے “انواع علوم الحدیث” کے  پینسٹھویں نوع کے تحت ذکر کرتے ہیں ۔ جس پر “معرفۃ اوطان الرواۃ وبلدانھم”(راویوں کے وطن وملک کی معرفت  ” کا عنوان اور باب قائم کرتے ہیں ۔ چنانچہ اس نوع کے تحت اس مسئلہ کا ذکر کیا جاتا ہےکہ ” کم المدۃ التی ان اقامھا الشخص فی بلد نسب الیھا”؟ کتنی مدت اگر کوئي شخص کسی شہر وعلاقہ اور ملک میں قیام کرے تو اس کی طرف اس کا انتساب صحیح ہوگا؟ ملاحظہ ہو اس سلسلہ میں چند محدثین کرام کے اقوال:

1۔امام حاکم نیسا پوری (405ھ) نے “تاریخ نیشاپور” میں امام عبد اللہ بن المبارک کا یہ قول روایت کیا ہے کہ ” ان من اقام فی مدینة اربع سنین فھو من اھلھا ، وروی ذلك عن غیرہ ایضا”جو شخص کسی شہر وعلاقہ میں چار سال تک قیام کرے وہ اسی شہر کے رہنے والوں میں سے شمار ہوگا۔ ابن المبارک کے علاوہ دوسرے علماء سے بھی یہی قول مروی ہے۔(الارشاد الی طلاب الحقائق للنووی :2/805/249،تھذیب الاسماء لہ:1/14۔ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ، المنھل الروی فی مختصر علو م الحدیث النبوی لبدر الدین محمدبن ابراھیم بن جماعۃ (733ھ) ۔واللفظ لہ۔ تحقیق الدکتور محی الدین عبد الرحمن رمضان ص 139،دارالفکر)۔

2۔حافظ ابو عمر وعثمان بن عبد الرحمن شہر زوری معروف بہ ابن الصلاح(643ھ) فرماتے ہیں :” النوع الخامس والستون : معرفة اوطان الرواۃ وبلدانھم۔۔۔ من کان من الناقلة من بلد الی بلد،واراد الجمع بینھما فی الانتیاب فلیبد ابا لاول ثم بالثانی المنتقل الیه، وحسن ان یدخل علی الثانی کلمة “ثم”فیقال فی الناقلة من مصر الی دمشق مثلا:” فلان المصری ثم الدمشقی”۔

     “پینسٹھویں نوع : راویوں کے وطن اور علاقوں کی پہنچان : جو شخص ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف منتقل ہوتا رہے اور دونوں شہروں کی طرف اپنا انتساب کرنا چاہے توپہلے شہر کی طرف نسبت کرے پھر دوسرے شہر کی طرف ۔ اور دوسرے شہر کے ذکر کے وقت اس پر “ثم” داخل کرنا بہتر ہے چنانچہ مصرسے دمشق کی طرف منتقل ہونے والے کے بارے میں ۔ مثال کے طور پر ۔”فلان مصری پھر دمشقی “ہےکہا جائیگا۔

    (معرفۃ انواع علم الحدیث:ص505۔506،تحقیق ماھریاسین الفحل،العلمیۃ 2002)نیز دیکھئے:”الخلاصۃ فی اصول الحدیث”للحسین بن عبد اللہ الطیبی(743ھ)ص134،تحقیق صبحی السامرائي ، عالم الکتب :1985ء)

3۔حافظ ابن کثیر (774ھ) تحریر فرماتے ہیں:

“النوع الخامس والستون۔۔ومن کان من بلدۃ ثم انتقل منھا الی غیرھا فله الانتساب الی ایھما شاء، والاحسن انه یذکرھما،فیقول مثلا: الشامی ثم العراقی ، اوالدمشقی ثم المصری ، ونحو ذلك وقال بعضھم:انما یسوع الانتساب الی البلد اذا اقام فیه اربع سنین فاکثر: وفی ھذا نظر”

اگر کوئي شخص ایک علاقے کا رہنے والا تھا پھر وہاں سے دوسرے علاقے میں منتقل ہوگيا تھا تو اسے اختیار ہے کہ جس کی طرف چاہے منسوب ہو ،بہتر یہ ہے کہ ان دونوں کا ذکر کردیا جائے مثلا کہے: شامی پھر عراقی، یا دمشقی پھر مصری وغیرہ۔

       بعض نے کہا ہے: جب کسی علاقے میں چار سال یا زیادہ رہے تو پھر اس علاقے سے انتساب صحیح ہے۔ اور اس میں نظر ہے”

(الباعث الحثیث شرح اختصار علوم الحدیث لاحمد محمد شاکر:2/677،مکتبۃ المعارف ، اختصار علوم الحدیث ، مترجم ص173،مکتبہ اسلامیہ ، لاہور)

4۔حافظ سخاوی محمد بن عبد الرحمن (902ھ)لکھتے ہیں:

    ” ولا حد لاقامة المسوغة للنسبة بزمن، وان ضبطة ابن المبارک باربع ستین ، فقد توقف فیة ابن کثیرحیث قال: انما یسوغ الانتساب الی البلد اذا اقام فیه اربع سنین فاکثر !ثم قال : وفی ھذا نظر”بل قال البلقینی (805ھ) انه قول ساقط لا یقوم علیه دلیل”

“جواز انتساب  کے لیے  اقامت کی کوئي زمانی حد بندی نہیں ہے ،گرچہ ابن المبارک نے اسے چار سال کے ساتھ مقید کیا ہے، لیکن اس سلسلہ میں ابن کثیر نے توقف اختیار کیا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں : جب کسی علاقہ میں چار سال یا اس سے زیادہ اقامت اختیار کرے تو اس کی طرف  نسبت صحیح ہوگي ! فرمایا:  “اور اس میں نظر ہے” بلکہ امام بلقینی کا کہنا ہے کہ ابن المبارک کا یہ قول پایہ اعتبار سے  گرا ہوا ہے جو دلیل سے عاری وخالی ہے۔

(فتح المغیث بشرح الغیۃ الحدیث :4/517،تحقیق الدکتور عبد الکریم بن عبد اللہ الخضیر، محاسن الاصطلاح :607،فتح الباقی علی الفیۃ العراقی للحافظ الشیخ زکریا بن محمد الانصاری (925ھ)مع التبصرۃ والتذکرۃ للعراقی (806ھ):3/279،دارالکتب العلمیۃ)۔

5۔اور امیر محمد بن اسماعیل صنعانی (1182ھ)کہتے ہیں :

“وقد اختلف العلماء فی جواز النسب الی البدان او القری ایجوز مطلقا بلا تحدید سکنی مدۃ معینۃ ام ھو مقید بمن سکن مدۃ معینۃ؟فالمروی عن عبد اللہ بن المبارک تقیید ذلک بالسکنی اربع سنین ، وقال جمع: لاحد لذلک”۔

    شہروں  اور بستیوں کی طرف جواز انتساب کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ کیا بلا تحدید مدت معینہ مطلق طور پر انتساب جائز ہے یا یہ انتساب متعین مدت کے ساتھ مقید ہے؟ تو ابن المبارک سے چار سال تک سکونت اختیار کرنے کا قول منقول ومروی ہے، جبکہ بہت سارے علماء نے کہا ہےکہ اس کی کوئي حد بندی نہیں ہے “۔

(توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار:2/505، المکتبۃ السلفیۃ المدینۃ المنورۃ ۔نیزدیکھئے : تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی للسیوطی (911ھ)2/524،تحقیق طارق عوض اللہ ، دار العاصمۃ 2003ء،دوسرانسخہ تحقیق نظر محمد الفاریابی:2/913،اسعاف ذوی الوطر بشرح نظم الدررفی علم الاثرللسیوطی، تالیف الشیخ محمد بن علی الایثونی الولوی:2/379۔380،مکتبہ الرباء الاثریاء، الشذا الفیاح من علوم ابن الصلاح للشیخ برھان الدین الآبناسی ، (802ھ):2/788،تحقیق صلاح فتح ھلل ، مکتبہ الرشد ،تیسیر مصطلح  الحدیث ، للدکتور محمود الطحان ص176،الوسیط فی علوم ومصطلح الحدیث للشیخ محمد بن محمدابو شھبۃ ص 694‍)،

     قارئین کرام! تفصیل بالا سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی شہر وملک میں چار سال  یا اس سے زیادہ اقامت اختیار کرنے والے کے لیے۔ ابن المبارک وغیرہ کے قول کے مطابق اور چار سال سے کم قیام پذیر رہنے والے کے لیے ۔ صحیح قول کے مطابق ۔ اسی شہر وعلاقہ کی طرف اسکا انتساب  صحیح وجائز ہے، تو پھر جامعہ اسلامیہ میں زیر تعلیم رہنے والوں اور چارسال  یا اس سے زیادہ مدینہ منورہ میں اقامت اختیار کرنے والوں کے لیے اس شہر مقدس کی طرف انتساب کیوں کر صحیح نہیں ہوگا ؟

    اس کے اور محدثین کے ذکر کردہ مذکورہ مسئلہ کے درمیان کونسا فرق ہے ؟ کیا اس کا انکار کرنے والے نے اس مسئلہ کو کتب  علوم الحدیث کے  اندر نہیں پڑھا ہے ؟یا یہ تجاھل عارفانہ ہے؟  یا تو پھر کینہ وحسد اور بغض وغرور ہے؟

فان کنت لاتدری فتلك مصیبة

وان کنت تدری فالمیصبة اعظم

اعاذنا اللہ من کل ذلک۔

Comment here