Uncategorizedاصلاح معاشرہ

برکت کی کرنیں

  ترجمہ: مفیض الدین مدنی          

 انسان  اس  دنیاوی زندگي میں   مختلف  قسم کےاعمال   وافعال   انجام  دیتا ہے  ان اعمال   میں سے جو عمل اللہ  کی نافرمانی  اور ناراضگي   کے لئے ہوتا   ہے ، وہ ختم  ہو جاتا  ہے اور جو عمل اللہ کی اطاعت  اور خوشنودی  کے لئے ہوتا  ہے   وہ بڑھتاجاتا  ہے ۔ اللہ  تعالی  نے فرمایا : (فاماا لزبد فیذھب جفاء واما ماینفع الناس  فیمکث  فی الارض)(سورۃ الرعد: 17)

       جھاگ  ناکارہ ہو کر چلا جاتا  ہے لیکن جو لوگوں  کو نفع   دینے والی  چیز  ہے  وہ  زمین میں   باقی   رہتی ہے ۔

 

       برکت کا سر چشمہ   صرف اللہ وحدہ لا شریک   کی ذات ہے :

        جو چیز  اللہ کے لئے نہ ہو تو اس کی برکت  ختم ہو   جاتی   ہے کیونکہ  اللہ  ہی برکت   عطا کرتا ہے اور ساری برکتیں اسی  کی جانب  سے ہیں  ، اللہ  کی ذات   برکت  والی ہے اور اپنے بندوں  میں سے جسے چاہتا  ہے برکت  عطا کرتا  ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا : ( وتبارك الذی  له ملك السموات  والارض  وما  بینھما  وعندہ علم الساعة  والیه یرجعون )( الزحرف: 85) اور  وہ بہت  برکتوں   والا ہے جس کے پاس آسمان   زمین   اور  ان کے درمیان  کی بادشاہت   ہے  اور قیامت    کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کی جانب   تم سب لوٹائے  جاؤ گے ۔

    اور جس چیز  کو اللہ کی طرف منسوب  کیا جائے  اس میں برکت   ہے اللہ تعالی   کا نام مبارک   ہے اسی کے نام   کے ساتھ   برکت  حاصل کی   جاسکتی   ہے  ۔ 

اللہ تعالی  نے فرمایا : ( تبارك  اسم ربك ذی الجلال  والاکرام )( الرحمن : 78) تیرے  پروردگار  کانام  بابرکت  ہے  جو عزت    وجلال  والا ہے ۔ 

     اللہ تعالی    اپنے رحم وکرم   سے برکت  عطا  کرتا ہے اور اسی  کے فضل  وکرم  سے برکتوں  میں اضافہ  ہوتا  ہے  فراوانی   وکثرت   رزق  وعمل    اور درازی عمر ،طول وطویل   مہ و سال  کا نام  نہیں  ہے  بلکہ کشادگي   رزق  اور  زیادتی  عمر حصول برکت   کا نام  ہے   ، مبارک  عمل کے ذریعہ  دنیا میں  ذکر خیر   اور آخرت   میں   پورا پورا ثواب  حاصل   کیا جاسکتا ہے  ،برکت  ہی  کے ذریعہ  دل کی صفائي ،  روح  کی پاکیزگي  اور اعلی   اخلاق   وکردار   حاصل ہوتے  ہیں ۔برکت   قلیل کو کثیر   اور کثیر   کو نفع  بخش   اور مفید  بنا دیتی ہے ۔

انبیاء کرام  بھی اللہ تعالی کی برکتوں کے محتاج  تھے

      اللہ تعالی  کی برکت سے کسی کو  بھی بے نیازی   نہیں  ہے   انبیاء  علیہم الصلاۃ  والسلام   بھی  اپنے خالق  کی برکت   کے طلب گار   تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   فرماتے ہیں 🙁 بین ایوب  یغتسل  عریانا  ،  فخر علیه  جراد  من   ذھب  فجعل  ایوب یحتثی فی ثوبه فناداہ  ربه ،  یا ایوب  الم اکن  اغنیتك عما تری  قال: بلی  وعزتک ولاکن  لا غنی بي عن  برکتك )( رواہ البخاری )

     یعنی  ایو ب علیہ السلام   کپڑے   اتار کر غسل  فرما رہے تھے  کہ اسی درمیان   سونے   کی ٹڈی   اتر پڑی  ،  تو ایوب  اسے اپنے کپڑے   میں ڈالنے   اور سمیٹنے  لگے   اس وقت  اللہ تعالی  نے پکارا    اے ایوب   میں نے تم کو  اس سے بے نیاز   نہیں کیا ہے ؟ تو ایوب  نے کہا  جی ہاں ! لیکن  میں    آپ کی برکت  سے بے نیاز  نہیں ہو ں ،  انبیاء کرام   اور داعی  عظام  بھی  اور اچھے  اورنیک   کاموں کی طرف  دعوت   دینے  کی  بدولت  مبارک   ہیں ۔

  عیسی علیہ السلام نے فرمایا  (وجعلنی مبارکا این ما کنت واوصانی بالصلاۃ  والزکاۃ ما دمت حیا )  سورۃ مریم : (31)

  اور اس نے مجھے بابرکت   کیا ہے جہاں بھی  میں رہوں ، اور اس نے مجھے  نماز اورزکوۃ  کا حکم  دیا ہے  جب  تک میں زندہ  رہوں ۔

 اور نوح علیہ السلام ،اللہ کی برکتوں  کے ساتھ اتارے گئے (قیل  یا نوح  اھبط بسلام  مناوبرکات علیك  وعلی امم ممن  معك ) سورہ ھود:(48)۔

         فرما دیاگیا   کہ اے نوح !  ہماری  جانب سے سلامتی   اور ان برکتوں  کے ساتھ اتر جو تجھ  پر  ہیں  ،  اور تیرے ساتھ  کی بہت   سی جماعتوں  پر ۔  اور نوح علیہ  السلام   نے اپنے رب  سے مبارک   نزول  کی دعا فرمائي : ( وقل رب انزلنی  منزلا مبارکا  وانت  خیر المنزلین )(سورہ المومنین : 29)

 اور کہنا  کہ اے میرے رب  ! مجھے  بابرکت اتار نا   اتار  اور تو ہی  بہتر   ہے  اتارنے  والوں  میں ۔

 اور اللہ نے ابراھیم  علیہ السلام    اور  ان کی اولاد  کو برکتیں  عطا   کیں ۔

اللہ تعالی   نے فرمایا  :(وبشرنا ہ  باسحاق  نبیا  من الصالحین وبارکنا علیه وعلی  اسحاق ) سورہ الصافات: (112، 113)

 اور ہم نے اس  کونبی اسحاق علیہ  السلام  کی بشارت  دی جو  صالح لوگوں میں سے ہوگا  ،  اور ہم  نے ابراہیم  واسحاق  علیہما السلام  پربرکتیں نازل  فرمائیں ۔

      اور اللہ تعالی  نے ابراہیم  اوراس کے اہل خانہ  پر برکتیں نازل فرمائي : ( رحمة اللہ  وبرکاته علیکم  اہل البیت انه حمید مجید ) (سورۃ   ھود: 73،)  تم پر اے  اس گھر  کے لوگو اللہ کی رحمت  اور اس کی برکتیں  نازل   ہوں  ، بیشک  اللہ حمد وثنا  کا سزا وار   اور بڑی شان والا ہے۔

    ابن القیم رحمہ اللہ   فرماتے ہیں : ابراہیم   علیہ السلام  کا  یہ مبارک  پاک  گھر دنیا   کے تمام  گھر انوں   میں سب سے زیادہ  شریف گھر ہے۔ابراہیم  علیہ السلام  کے بعد جو بھی نبی دنیا  میں تشریف   لائے وہ  ابراہیم   علیہ السلام  کے اہل خانہ  سے آئے ۔ ان کے اہل خانہ  کے بعد  جو بھی  اولیاء   اور نیکوکار  جنت میں  داخل  ہوئے وہ  اسی اہل خانہ   کے طریقہ   اور دعوت  سے داخل  ہوئے ۔  اور نبی کریم  صلی  اللہ علیہ وسلم  نے اپنے رب  کی طرف سے عطا  کردہ  چیزوں میں برکت  کی دعا فرمائي ، اور کہا (وبارك لی فیما اعطیت ) (رواہ الترمذی)۔ تو  نے  ہمیں جو عطا  کی   اس میں  برکت  دے ۔

  اور مسلمانوں   کے درمیان آپس میں  ملاقات  کے وقت   تحیہ  وسلام بھی طلب  سلامتی اور حصول برکت  ورحمت  کے لئے ہے۔

قرآن اور صلہ رحمی  کی برکت

         اور قرآن کریم    انگنت  بھلائیوں، بے شمار  نیکیوں والی مبارک،  مضبوط  ،فیصل  اور غالب کتا ب ہے ۔اللہ تعالی  نے اس کتا ب کو رحمت  وشفاء،  حق وباطل     کے درمیان  تفریق کرنے والی  اور ہدایت   کا سر چشمہ   بنا کر  نازل کیا ہے ۔ اللہ تعالی  نے فرمایا : ( وھذا ذکر مبارک  انزلنا ہ )(سورۃ الانبیاء : 50)اور یہ نصیحت  وبرکت  والا قرآن بھی  ہمیں نے نازل  فرمایا  ہے  ۔

        اور سورہ بقرہ   مبارک سورہ ہے جسے سیکھنے   اور پڑھنے  کا حکم دیا  گیا ہے۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :  سورہ بقرہ کو سیکھو  اس سورہ کا  سیکھنا،  حاصل کرنا   برکت  ہے اور اسے  چھوڑ دینا  حسرت ہے ۔  اور  جادو گر  اسے نہیں حاصل   کرسکتا ۔(رواہ احمد )

       اور رزق   کی کشادگي اور عمر کی زیادتی  صلہ رحمی   میں ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا  کرتے     جو رزق   میں کشادگي    اور اپنے  پیچھے  ذکر جمیل  چھوڑجاناچاہتا  ہے  وہ صلہ رحمی   کرے (رواہ  البخاری ) اور خرید وفروخت  اور معاملات میں سچائي کا برتنا   ہمیشہ بھلائي اور بابرکت  کمائي  کا ذریعہ  ہے ۔

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  فرمایا  کرتے :بائع  ومشتری   بیچنے  اور خریدنے  والوں کو  جدا ہونے سے قبل تک  اختیار ہے اگر دونوں  نے سچائي    کو ملحوظ رکھا  اور عیب کو نہیں چھپایا  تودونوں کے بیع  میں برکت دی جاتی ہے اور اگر دونوں جھوٹ   بولیں   اور عیب  کو چھپائیں تو  بیع میں برکت ختم  کردی  جاتی ہے ۔( متفق علیہ )

مبارک شادی

     اسلام خاندان  وفیملی    کی تاسیس  ووجود  کے پہلے ہی  دن  سے صالح  اور مبارک  معاشرہ   کا خواہاں رہا ہے ، اس لئے   نکاح  کے وقت میاں بیوی  کے لئے برکت کی دعا کو مشروع  قرار  دیا ہے ۔ ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ جب   کوئي آدمی   شادی کرتا تو  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   اس کے لئے   برکت کی  دعا دیتے  اور یو ں  فرماتے : ( بارك اللہ  لکما وعلیکما وجمع  بینکما فی خیر( امام ترمذی نےاسےروایت  کیا ہے  اور حسن کہا  ہے ) اور سب سے زیادہ بابرکت  بیویاں وہ  ہیں  جن  کی شادی میں خرچ  کم کیا گیا  ہو۔  اور مبارک  وکامیاب  شادی  وہ ہے جس میں  آسانی اور سہولت   برتی گئي  ہو ۔

           نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   فرمایا کرتے  ،عورتوں   میں سب سے زیادہ   بابرکت  عورت وہ ہے  ،  جس کی شادی  میں خرچ   کم گیا گیا ہے ۔ (رواہ احمد ) اور مبارک  بیوں وہ  ہے جو  اللہ  کی فرمانبرداری  اور اطاعت   الہی کے  اندر  رہ   کر شوہر  کے حقوق  ادا کرتی ہے ۔

          اور وہ لڑکا مبارک ہے جس نے اپنے  رب   کی اطاعت  گذاری  کرتے ہوئے پروان چڑھا ،  نبی کی سنت  کو مضبوطی  کے ساتھ   پکڑا  رہا  اور گناہ ونافرمانی سے اپنے کو بچائے رکھا ۔ اور جب آدمی گھر  میں داخل ہو تو اہل  خانہ  پر سلام  کہنا بھی  حصول برکت  کے لئے  مشروع قرار  دیا گيا ہے۔  انس رضی اللہ  عنہ  فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا  اے بیٹے  جب تم اپنے  گھر والوں  کے پاس جاؤتو سلام  کرو ۔ تم  اور تمہارے  گھر والوں  پر برکت  نازل  ہوگي ۔ (ترمذی نے روایت کیا ہے   اور اسے حسن   صحیح  کہا ہے )

مبارک اعمال

        جو چیز  جتنی زیادہ  بابرکت  ہوگي وہ اتنی زیادہ  مفید ہوگی اور جس چیز  کے  اندر اور جس پر اللہ  برکت عطا کر دے وہ مبارک ہے۔  اور مبارک شخص  وہ ہےکہ وہ جہاں  رہے لوگ اس  سے  استفادہ  کریں ۔ اور جب بندہ اپنے رب سے قریب  تر ہوتا ہے تو اسکےوقت میں  برکت عطا  کی جاتی  ہے ۔  وہ تھوڑے  سے وقت میں بہت سارا کام انجام دیدیتا ہے،ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صلاۃ فجر  سے پہلے  بیمار    کی عیادت  فرمائي ،نماز جنازہ میں  شرکت  کی ، مسکین   کو کھانا  کھلایا   اور بحالت  روزہ صبح  کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :  آج تم میں سے کس   نے بحالت روزہ صبح کیا ؟،ابو بکر  نے کہا :  میں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد  فرمایا  :کس نے جنازے   میں شرکت کی؟ ابو بکر  نے کہا: میں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :کس نے مسکین کو کھانا  کھلایا  ۔کہا :میں! رسول  نے فرمایا  :  تم  میں  سے کس نے مریض کی عیادت   کی  ابو بکر نے کہا: میں !آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا  جس آدمی کے اندر یہ ساری چیزیں  اکٹھی وجائیں  وہ جنتی ہے  (اسے مسلم نے روایت کیا ہے ) اور بہترین صحبت  نیک لوگوں  کی صحبت ہے ۔اور سب سے پاک  ومقدس  مجلس  مجلس ذکر ہے۔  جس میں   صرف فرشتے  حاضر ہوتے ہیں ۔ جس مجلس میں فقط بیٹھنا باعث بخشش   ہے۔ فرشتے   عرض  کرتے  ہیں:   اے پروردگار  فلاں شخص  ذکر کے خاطر نہیں آیا  ہے  وہ تو اپنی خاص  ضرورت پوری کرنے آیا  ہے  ۔  اللہ تعالی فرماباہے: یہ  ایسے لوگ  ہیں  کہ ان کے  ساتھ  بیٹھنے  والے محروم  نہیں ہوتے ہیں  ( متفق  علیہ) ان کی  یہ برکت  اپنی  اور اپنے ساتھی پر ہے ۔  اور امر بالمعروف   ونہی عن المنکر  سے نفس پاک   ہوتا  ہے حالات درست ہوتے ہیں  اور معاشرہ میں برکت   نازل   ہونے لگتی ہے ۔

 اور جو گفتگو  میں سچائي   کو اپنا  اوڑھنا بچھونا بناتا ہے  اس کی زبان  میں حکمت ڈال   دی  جاتی ہے  اور اس کے اعمال   درست  کردیئے جاتے ہیں ۔

بابرکت مال

       مبارک  مال  وہ  ہے جس کی بھلائي  بیشمار   اور فائدے   انگنت  ہوں  ،  اور جس  مال کو رضاء الہی   کے خاطر   نیکی   اور بھلائي   کے  کام میں خرچ  کیا گيا، ہو جو حلال اور  تھوڑی  نفع پر قناعت کر لے، اور معاملات  میں سچائي   کو پیش نظر  رکھے تو ان کے مال  واولاد   میں برکت نمایاں ہوگي ۔ رسول  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا  :  جس نے حق کےساتھ   لیا اور صحیح  جگہ پر    خرچ کیا تو یہ کیا  ہی   خوب   عمدہ  مدد ہے  (بخاری  ۔) اور  دنیا میں  خوشی  ومسرت   اور سکون واطمینان  فقط  حلال  کمائي   سے ہی حاصل ہوتی  ہے ۔اور بھلائي   کے راستے   میں خرچ   کرنے سے  مال میں اضافہ   ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : صدقہ  کرنے سے مال  گھٹتا نہیں (  رواہ مسلم)آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے مزید فرمایا   :  تم بھلائي  کے راستے  میں خرچ  کرو  اللہ تمہارے  اوپر خرچ کریگا ۔ (رواہ  البخاری  )

      اور جو شخص   بن مانگے   بے  نیازی     حرص  وطمع  اور دلی  چاہت  کے بغیر    دی ہوئي  چیز  کو لے تو اس میں برکت  عطا  کی جاتی ہے۔  رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :جس کسی کے رضا وخوشی  سے  کوئي چیز لے   تو اس میں برکت    دی جاتی ہے ، اور جو شخص   کسی چیز   کی حرص   وطمع    رکھتے  ہوئے   لے تو اس سے برکت  سلب  کر لی جاتی ہے ۔ ( اسے ابن حبان  نے روایت کیا ہے )

مبارک  کھانا

          مبارک کھانا   وہ  ہے  ،  جس کے کھانے     کے وقت   تم نے بسم اللہ    کہہ کر  اپنے  قریب سے  کھایا ہے   اور پلیٹ   کے بیچ  سے کھانے   سے باز رہا  ہے  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : برکت کھانے   کے برتن  کے بیچو  بیچ  اترتی  ہے ،  اس لئے  تم برتن کے کنارے  سے کھاؤ  ،  اور بیچ  سے نہ کھاؤ ۔( اسے   ترمذی   نے روایت  کیا ہے،  اورحسن کہا ہے )  اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم   نے حصول   برکت کے لئے  کھانے   سے فارغ  ہونے پر پلیٹ   اورانگلیوں  کو  چاٹنے   کا حکم   دیا ہے، اور فرمایا : تمہیں نہیں معلوم  کہ کھانے   کے کس دانہ  میں برکت  ہے ( رواہ مسلم)  اسی طرح   ایک ساتھ  کھانے میں   بھی برکت   ہے۔

       اور علیحدہ  علیحدہ  کھانے   میں بے برکتی ہے ۔   وحشی  بن  حرب  رضی اللہ عنہ   نےکہا :  کہ صحابہ کرام   نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض  کیا  کہ ہم جب کھاتے ہیں تو آسودہ   نہیں ہوتے ہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا  شاید  تم لوگ  علیحدہ علیحدہ   کھانا  کھاتے  ہو ، صحابہ  نے کہا :  جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا     : کھانا   ایک ساتھ  بسم اللہ کہہ کر کھا ؤ  ، تو برکت   حاصل ہوگي ۔ ( رواہ  ابو داؤد )

          اور سب سے محترم  ومکرم   مفید   اور بابرکت    پانی زمزم   ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا : زمزم   کاپانی مبارک   اور  کھانوں  میں  سے ایک  کھانا  ہے جس   کے پینے سے آسودگی   اور طاقت    وقوت   حاصل ہوتی  ہے ۔

Comment here