اصلاح معاشرہ

روزمحشرکاایک اہم سوال اوراس کاجواب

لیاقت علی خان

خضرکیونکربتائے کیابتائے

اگر ماہی کہے دریا کہاں ہے(اقبال)

     ارشادباری تعالی:(فکیف اذا جئنا من کل امة بشھید وجئنا بك علی ھؤلاءشھیدا)۔(41/4)

      ترجمہ: بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہر امت میں سے  احوال بتانے والے کو بلائنگے اور تم کو ان لوگوں کا (حال بتانے کو) گواہ  طلب کرینگے۔ (ترجمہ فتح محمد جالنددھری)

      مندرجہ بالا آیت کی نسبت سے قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب رحمت للعالمین (سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) میں ایک واقعہ بیان کیا ہے ” ایک دفعہ ابن مسعود رضی اللہ  عنہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم سنا رہے تھے۔ جب سورت نمبر41/4 پر پہنچے تو رسول راللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ٹھہرو، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آنکھوں سے آنسو جاری تھا”۔

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کا یہ قیمتی آنسو محشر کے دن اس حساب کے احساس کی ترجمانی کررہا تھا ۔ تفسیر ابن کثیر میں تفصیل سے اس کی تشریح لکھی ہوئي ہے۔ مختلف تفاسیر کو دیکھنے کے بعد میں نے جوسمجھا ہے وہ یہ ہے کہ ہر زمانے کے داعیوں اور مدعو طبقہ سے ایک دوسرے کے بارے میں شہادت لی جائيگی اور اس کے فرائض منصبی اور دعوت کا انکار کرنےوالی قوم اور قبیلے کے اندر سے ان کے نمائندوں کو کھڑا  کیا جائیگا کہ بتاؤ تم اور تمہاری قوم نے اس دعوت سے انکار کیوں کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی قوموں کو ان کے انبیاءسے مکاملہ کرایاجائیگاcross witnessلیاجائے گا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت سیدالمرسلین اور شفیع المذنبین پیش کیا جائيگا اور ہر دورکے متعلق تفصیل سے witnessاورcross witnessچلےگا ۔یہاں تک کہ امت محمدیہ کے خصوصی افراد، دعاۃ اور نائبین انبیاء یعنی علماءکی بھی اس میں شرکت ہوگي اور محشر کا ایک سخت مرحلہ ہوگا ۔ (داعی اور مدعو دونوں کے لئے)  ۔ ہر داعی کے سلسلہ میں اس کی مدعو قوم اور ان کے سرداروں سے پوچھا جائےگا کہ دعوت  پہنچی کہ نہیں پہنچي؟ اور اس داعی سے شھادت  مانگي جائےگي کہ اپنے شاہدوں کو لاؤ۔ محشر کے اس حساب وکتاب میں سارے انبیاء اور امت محمد یہ کے سارے  داعیوں سے حساب لیا جائےگا اور خصوصی طور پر امت محمدیہ سے (یکون الرسول شھیدا علیکم وتکونوا شھدا ء علی الناس)کےمطابق احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم   کے فرض منصبی کی انجام دہی کے بارے میں ان کی مدعو قوم سے شھادت لی جائےگي ۔  یہی وہ منظرمحشر ہے جس کو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نگاہ نبوت ، علم الیقین اور حق الیقین کی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور اس آيت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

        کیا اس نہج نبوت پر ہم نے کبھی سوچا ہے ؟ اور اگر سوچا ہے  تو کیا ارض محشرمیں اس فرض منصبی کے احساس محاسبہ کیوجہ سے کبھی ہماری آنکھوں سے اشک آنسو بھی نکلے ہیں ؟ محشر میں ہمارے خلاف کون سی قوم کھڑی ہوگي؟ ہمارے بارے میں کس سے گواہی لی جائےگي ؟ تو سنئے! محشر میں تمام اقوام بلائے جائیں گے اور ان سے پوچھا جائےگا ۔ ان کے رہبروں سے پوچھا جائےگا یہاں تک کہ جو جس کو پہچا نےگا اس سے پوچھا جائےگا کہ بتاؤ یہ جو نیا بت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا دعوی کرتا تھا اس نے میرے دین کی دعوت  تم تک پہنچائي  کہ نہیں ؟ چنانچہ جو داعی جہاں بھیجا گیا تھا وہاں کے لوگوں سے پوچھا جائےگا، کہ بتاؤ اس داعی کہلا نیوالے اور خیر امم و بہترین امت ہونےکا ڈنکا پیٹےنے والے نے میرے یعنی اللہ کے بارے میں کچھ بتایا تھا کہ نہیں ؟ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں کچھ بتایا تھا کہ نہیں  اور یہ جو محشر  لگا ہوا ہے جہاں تم کھڑے  ہو اس کے سلسلہ میں کچھ کہا تھا کہ نہیں ؟ اس داعی نے  میرے دین کو تمہارے سامنے پیش کیا تھا کہ نہیں  ؟ اور اگر دین کی دعوت دی تھی تو تم نے قبول کیوں نہیں کیا؟  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے حجۃ الوداع کا  واقعہ سب جانتے ہیں   ذرا اس پر غور کیجئے۔

       حجۃ الوداع کے موقع پر تکمیل دین کا اعلان ہوچکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی امت سے ان  الفاظ میں خطاب فرما رہے تھے  ” شاید اس کے بعد میری تم سے ملاقات نہ ہوسکے” یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سے دریافت کیا کہ”کیا میں نے تم تک اللہ تعالی کا دین پہنچا دیا ہے”تو صحابہ نے  بیک آواز جواب دیا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین  ہم تک پہنچا دیا ہے ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :” انتم  تسئلون  عنی فما انتم قائلون ” کل قیامت  کے روز تم سے میرے بارے میں پوچھا جائےگا اس وقت تم کیا جواب دوگے ؟ صحابہ کے مجمع نے بیک زبان ہوکرجواب دیا تھا”نشھد انک قد بلغت وادیت ونصحت” ہم شھادت دینگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق  تبلیغ ادا کردیا تھا ۔ دین پوری طرح پہنچادیاتھا اور ہمارے ساتھ انتہائي خیر خواہی کی تھی(صحیح مسلم:3009)اب ہم ذرا اپنے کلیجے پر ہاتھ رکھ کر یوم محشر کے منظرکو نگاہ میں رکھتےہوئےسو چیں کہ ہمارا حشر کیا ہوگا؟

        ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ ایمان لانے سے پہلے صحابہ کون تھے ؟ کیا تھے ؟ کیا کرتے تھے؟ اور کیوں انہیں ایمان کی دعوت دینے  کی ضرورت پڑی؟ اگر ویسا ہی معاشرہ ہمارے سامنے ہو توہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ وہی نا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیا تھا ؟ اور پھر  جب صحابہ شاہد بنے تو بحیثیت شاہد کے ، بحیثیت بشیرکے اور بحیثیت نذیرکے انہوں نے کیا کیا ؟ یاد رکھئے یہ تینوں منصب اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت کو delegateکیاہےاوریہ امت محمدیہ کی delegated dutiesہیں اورہرdelegatedکا احتساب ہوتا ہے۔ کیا ہمارے ملک میں اس وقت وہ حالات نہیں ہیں جو   مشرکین مکہ اور منافقین مدینہ کے تھے ؟ کیا اس وقت اس ملک عزیز میں کفروشرک اور ظلمات کی بھرمار نہیں ہے ؟ کیا میری آنکھوں کے سامنے نسل آدم اورنسل جن جہنم کی آگ کے شکار نہیں ہورہی ہے؟ کیا اس وقت پوری دنیا کی سسکتی ہوئی  انسانیت اس دین کی محتاج اور متلاشی نہیں ہے؟ ہمیں  خود غور کرنا چاہئے اور کس طرح ہم اپنی ذمہ داری کے سبکدوش ہوسکتے ہیں اللہ تعالی سے اس کی توفیق کا سوال کرنا چاہئے۔

        اب ہم ذرا غور کریں کہ جو لوگ بھی ایمان والے ہیں دینی فہم والے ہیں ۔ اہل دانش ہیں اور جو وارثین انبیاء کہلاتے ہیں ان سے اس نسبت سے کیا سوال کیا جائےگا اور جس قوم سے اور ان کے رہبروں سے میرے  اور آپ کے بارے میں پوچھا جائےگا وہ میرے  بارے میں کیا جواب دینگے ؟ اور وہ مدعو قوم کون ہے؟ جس سے میرے بارے میں سوال کیا جائےگا؟ اگر  ہم یہ کہیں کہ فلاں مدرسے والے بتائیں گے، فلاں مسجد والے بتائیں گے تو وہ کیا بتائیں گےوہ تو خود اہل ایمان ہیں ۔ وہ تو خود داعی ہیں ۔ وہ تو خود شاہد ہیں ۔ وہ تو خود کٹگھرے میں کھڑے ہونگے اس لئے کہ یہ پوری امت شھداء علی الناس  ہے۔

        ہم ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اس وقت ہماری مدعواقوام میں سے کتنے لوگ ہماری طرف سے گواہی دینگے؟ ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ مدعو اقوام کے سامنے دین پیش کئے بغیر ہم منصب کا حقدار نہیں ہیں بلکہ اس فرض منصبی کو پورانہ  کرنے کی وجہ سے محشر میں سختی سے پکڑے جائیں گے،شاید  اس وقت منصب دعوت کی ذمہ داریوں کے پورانہ کرنے کی وجہ سے ہم پوری دنیا میں دھتکا ردیئے گئے ہیں اور ساری رسوائي کی وجہ بھی یہی ہے۔

خیرکاداعی تھا وہ ہم شر پسندوں میں ہوئے

شرمساری کس کی ہے محشر میں رسوا کون ہے۔

 اسی سلسلہ کی دوسری آیت پر بھی ہم غور کریں

4/42یومئذیود الذین کفرواوعصوا الرسول لوتسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا” اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کرینگے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور اللہ سے کوئي بات چھپا نہیں سکینگے (ترجمہ۔فتح محمد جالندھری)

        اس آيت کریمہ میں دو گروہ کی حالت بیان کی گئي ہے (1)کافر(2)پیغمبر کے نافرمان۔ کافر کی ایک تشریح یہ بھی ہے کہ جس کے سامنے قرآن پیش کیا گيا ہو ۔ ایما ن پیش کیا گيا ہو۔ اتمام حجت کی گئي ہو۔ دعوت پیش کی گئي ہو اور اس نے انکار کردیا ہو۔ تب وہ کافر کہلائيگا ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا ہو تو علماء فیصلہ کریں کہ وہ کیا کہلائیگا؟

        دوسری تشریح یہ ہےکہ جس نے قرآن، کو اللہ کے پیغام کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی رسالت کو چھپا یا ہو اور ان حقداروں تک جن کی امانت ہے نہ پہنچایا ہو (جیسا کہ مدینہ کے کچھ یہود وغیرہ نے کیا تھا) تو وہ بھی کافر کہلائيگا ۔ ان یہود نے کن باتوں کو چھپایا تھا ؟ دو باتیں خاص تھیں ۔ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آمد کی خبر اور ان پر ایمان لا نےاوراس خبرکودنیاکےلوگوں تک پہونچانے کا وعدہ اللہ تعالی نے تورات میں موسی علیہ السلام کے ذریعہ بنی اسرائيل سے لیا تھا (18،17،15Deutero nomy)چنانچہ قرآن کا طریقہ ان کو معلوم تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اتمام حجت کے بعد ان کے دلوں میں ساری باتوں کایقین بھی ہوچکاتھا پھر بھی وہ اپنی ذاتی بڑائي ، عصبیت ، مفاد اور خصوصی طور پر دوسرے گروہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبعوث ہونے کی خجالت کی وجہ سے انہوں نے حقیقت کو چھپا نے کی کوشش کی اس وجہ سے کافر ہوئے۔

            کیا ان دونوں چیزوں کے چھپانے کے ہم مرتکب نہیں ہو رہے ہیں ؟ کیا لوگوں کو کبھی ہم نے یہ بتایا ہے کہ یہ قرآن آپ کے لئے نازل ہوا ہے، یہ آپ کے مالک کی طرف سے آپ کے مسائل کا حل ہے ؟ آپ کے سارے امراض کے لئے شفاء کلی ہے، کیا ہم نے ان کو کبھی بتایا ہے کہ محمد عربی   صلی اللہ علیہ وسلم   آپ کے مالک کی طرف سے آپ کی ہدایتوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں ۔ وہ آپ کے سب سے بڑے اور بہترین خیر خواہ ہیں ؟ وہ آپ کے ہیں اور آپ ان کے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی ان سے کہا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب جو ہمارے پاس آپ کی امانت ہے آپ اسے قبول کرلیجئے اور اللہ کے واسطے ہمیں کل محشر کی پکڑ سے بچا لیجئے اور کل محشر میں میرے گواہ بن جائیے ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقہ پر ہم نے دنیا میں اپنا گواہ تلاش کرنے کے بعد اللہ کو کبھی گواہ بنایا ہے ؟ اگر نہیں تو سونچئے کل محشر میں کیا حشر ہوگا؟

         آيت مذکورہ کادوسرا حصہ یہ ہے کہ کل محشر میں پیغمبر کے نافرمان کون لوگ ہونگے ؟ ایک حدیث کا مفہوم یوں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا “میری ساری امت جنت میں جائيگي  سوائے اس کے جس نے میرا انکار کیا ۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ  انکار کرنے والا کون ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا ووہ سارے لوگ جنت میں جائینگے جنہوں نے میری اتباع کی اور وہ سارے لوگ جنہوں نے میری نافرمانی کی وہی انکار کرنے والے ہیں ۔

        مثال کے طورپرکہ اگر کوئي اولاد والدین کی نافرمان ہو  تو وہ اولاد تو اپنے والدین کی ہی کہلائےگي لیکن نافرمان کہلائےگي۔ اسی طرح  امت کا وہ فرد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیغامات اور احکامات کو مستحقین تک نہیں پہنچائےگا وہ نافرمان کہلائےگا باوجود  کہ قرآن پاک کی سیکڑوں آیتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیکڑوں حدیثیں صاف صاف  یہ حکم دے رہی ہیں کہ قرآن کو سارے جن وانس تک پہنچاؤ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا “انتم شھداء اللہ فی الارض ” تم زمین پر  اللہ کے گواہ ہو یعنی اللہ کے دین کے گواہ۔ اس زمین پر جو بھی مخلوق بستی ہے اس دین کی مستحق کے سامنےوہ  حتی المقدور اللہ تعالی کے دین کی گواہی پیش کرتی ہے۔ یہ پوری امت شاہد ہے لہذاغائب یعنی مشرکین ہنود، یہود ، نصاری اور دیگر اقوام عالم تک اس دین اور قرآن کو پہنچانا اس کی ذمہ داری ہے، اوریہ اس کا فرض منصبی ہےاسی لئے اسے امت وسطہ بنایا گیا ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے سے لیکر قیامت تک یہ پوری امت اس کام پر مامور ہے۔ اور جوجتنی صلاحیت کامالک ہے وہ اسی اعتبار سے جو ابدہ ہوگا۔ اب ذرا ان آیات پر بھی غور کریں۔

19/6۔(واوحی۔۔۔۔۔ومن بلغ ) اور میرے پاس اس قرآن کی وحی آئي ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ تم کو ہوشیار کردوں اور جس کو یہ پہنچے وہ دوسروں کو ہوشیار کردیں۔ لیکن یہ چيزمحل غوروتدبرہےکہ کس کو ہوشیار کرنا ہے؟ الناس کو!

52/14۔ ( ھذا بلاغ للناس۔۔۔۔۔ اولو االالباب) یہ قرآن الناس کے نام اللہ تعالی کا پیغام ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل  نصیحت پکڑیں،(فتح محمد جالندھری)

     کیا ہم نے اقوام عالم پر اس کلام ربانی کو پیش کیا ہے ؟ انہیں شرک سے روکا ہے؟ کفر پر  ٹوکاہے؟ اگر نہیں تو کل محشر میں یہ اقوام اور قرآن  دونوں ہم پر حجت ہونگے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی محشرمیں یہ شکایت کریں گے کہ( “یارب ان قومی اتخذوا ھذا القرآن مھجورا” )اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”

      یہ امت وسط کیا ہے؟ ، اس کا کام کیا ہے ؟ اور اسے کس بات کا  حکم کیا ؟ ہم سب ان تمام چیزوں سے آگاہ ہیں مگر عملا اس کے منکر ہیں،ایک بات اور قابل غور ہےکہ یہ قرآن  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت وسط کس کے لئے ہے ؟ قرآن کے بابت ارشاد الہی ہے۔

52/68۔وما ھو الا ذکرللعالمین” اور لوگو یہ قرآن اہل عالم کے لئے نصیحت ہے  (فتح محمد جالندھری)

قرآن کیا ہے؟”ھدی للناس”۔۔۔”ھذا بلاغ للناس”

قرآن کیوں نازل ہوا؟

1/25۔( تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا” وہ خدائے عزوجل بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن (الفرقان) نازل کیا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے (فتح محمد جالندھری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے لئے مبعوث ہوئے؟ارشاد باری تعالی ہے:

158/7۔ (قل یایھا الناس انی رسو ل اللہ الیکم جمیعا”) اے محمد سارے لوگوں سے کہدیجئے کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔مزید ارشاد باری ہے:

28/34۔(وما ارسلناك الا کافة للناس بشیراونذیرا)۔ اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرا نے والا بنا کر بھیجا ہے (فتح محمد)

یہ امت یعنی امت محمدیہ کس کے لئے  ہے؟

110/3۔(اخرجت للناس۔۔۔۔)

        اللہ تعالی نے واضح کردیا کہ تم خیر امت ہو جوتمام لوگوں کی  نفع رسانی کے لئے مبعوث کئے گئے ہو۔ اللہ تعالی نےلوگوں کی ہی خیر خواہی کے لئےلوگوں ہی میں سے کچھ  کو چنا ہے۔ فرض کیجئے کہ اس ملک میں ٪20 خیر امت کے لوگ ہیں توانہیں ٪80الناس کی نفع رسانی کے لئے چنا گیاہے، لہذا الناس کی نفع رسائی کئے  بغیر یہ امت خیر امت کہلا ہی نہیں سکتی ۔ اسے خیر امت ہونیکے  لئے الناس کے ٪80 کی نفع رسانی کرنی پڑیگي اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو یہ امت اپنے منصب کی مستحق ہی نہیں رہیگي۔

      میں نے اپنی  طالب علمی کے زمانے میں اسلامی تاریخ کی ایک یورپین مورخ کی کتاب میں سقوط بغداد ،تاتاریوں کا حملہ اور تاتاریوں کے قبول اسلام کے سلسلہ میں ایک جملہ پڑھا تھا جو آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے اور میں اکثر لوگوں کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں  وہ جملہ یہ تھا:

When muslim fails islam  stands

        اس میں کوئي دورائے نہیں کہ موجودہ دور میں مسلمان پستی میں ہیں لیکن اسلام کھڑا ہوگيا ہے ۔ اسلام لوگوں کو مسخرکررہا ہے ۔اسلام لوگوں کی ضرورت بن چکا ہے ، یہ ان کی پیاس ہے  اور انکی سیربی بھی ہے یہ ان کی تڑپ ہےاور ان کا سکون بھی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئي انقلاب آئے اور وہ اسلام کے محافظ بن جائیں ۔ جس طرح اللہ تعالی  بے نیاز ہے اسی طرح اس کا دین بھی بے نیاز ہے، دنیا کے نقشہ پر نگا ہ ڈالیں خبروں کو پڑھیں ۔ کتنے بت خانے نے اور صنم کدے سے کعبہ کو پاسباں مل رہے ہیں ۔ دنیا کے ایوانوں میں  اسلام کے چرچے ہورہے ہیں اور ہم ہیں کہ خوفزدہ ہیں ۔ اللہ سے ڈرنے اور فرض منصبی  کو پورا کرنے کی بجائے تماشہ اور تماشائي بنے ہوئے ہیں مکر سے ڈررہے ہیں اور اللہ کی نصرتوں کا بھروسہ نہیں ہے۔ آج کے حالات میں اگر ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ جنت مل جا ئے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت مل جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا  پاک کوپیش نگاہ رکھ کر اس پر عمل پیراہوں کہ ” اے علی رضی اللہ عنہ اگرتمہاری کوششوں سے ایک شخص بھی ایمان میں داخل ہوجائے تو تمہاری نجات کے لئے کافی ہے”۔

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔

        اسی فرض منصبی کے پورا کرنے میں ہمارے مدرسے بھی محفوظ رہینگے ، ہماری مسجد یں   بھی محفوظ رہینگي ۔ ہمارا گھر بھی محفوظ رہیگا اور ہم بھی محفوظ رہینگے ورنہ جو حالات آر    ہے ہیں اس میں سنبھلنا مشکل ہے ۔ ایسے ہی حالات میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب کو جو حکم دیا تھا وہ آج بھی ہمیں آوازدے رہا ہے۔ “یایھا المدثر قم فانذر وربک فکبر” اگر اس کام کے کرنے کا شوق دل میں چٹکیاں لے رہا ہے تو اس کی یہی شرط ہے جو اللہ تعالی نے اپنے محبوب کو سورہ مزمل میں سکھائي تھی اور وہ ہے  نالۂ نیم شبی۔

 مجھے آہ وفغان نیم شب کا پھر پیام آيا

 تھم اے رہروکہ شاید کوئي مشکل مقام آیا(اقبال)

اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے اور اللہ تعالی سے اس کی نیابت مانگ لی اور ہمارے آنسوؤں اور ہماری گڑگڑ اہٹ نے اللہ کو راضی کرلیا تو ہم کا میاب ہوجائینگے ۔ اور پھرباطل کاغرانا، نفس کا فریب اور شیطانی وساوس ہمیں مکڑے کے جالے  سے بھی کمزورنظر آنےلگیں گے اور اس مکڑ جال کی حقیقت ہم پر کھل جائیگی اور پھرہماری نگاہ میں اس کی کوئي حقیقت باقی نہیں رہیگي اور ہمارا خوف اورہماری گھبراہٹ جاتی  رہیگي ۔ اس کی ایک شرط اورہے کہ میری نگاہ ہمیشہ اللہ کی پکڑ اور اسکی نصرتوں کی طرف ہو۔ یہ آپ کے اور آپ کےمالک کے بیچ کا راز ونیاز کا معاملہ جس کی ترجمانی  اقبال نے اپنی زبان میں یوں فرمایا ہے۔

ہودید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر

ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئي

       بہر حال ان چیزوں سے قطع نظر اپنے اپنے فرض منصبی کی بابت غور کرنا ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اس کی بجا آواری لازمی ہے ۔ راستہ تو اللہ تعالی دکھا دےگا”والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ” اسی کے ساتھ”لیکون الرسول شھیدا علیکم وتکونوا شھداء علی الناس ” کی ادائيگي میں “ھو مولاکم فنعم المولی ونعم النصیر” کے مکمل یقین کے ساتھ دنیا کے قوموں کے حق ادا کرنا ہے۔

      ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے رستم سے گفتگو کرتے ہوئے اس دعوت کاجو مقصد کو بتایا تھا ۔ وہ اس کی روح ہے” اللہ نے ہم کو اس لئے بھیجا ہے کہ ہم  نکالیں جس کو وہ(اللہ )چاہے بندوں کی عبادت سے اللہ کی عبادت کی طرف اور مذہب کی زیاتیوں سے اسلام کےعدل و انصاف کی طرف”

         پوری انسانیت  جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے اور آپ پوری انسانیت کے لئے اللہ کے پیغمبر اور انسانیت کے راہنما  ہیں، قرآن حکیم پوری انسانیت کا دستور عمل  ہےاور اسلام پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے اتمام نعمت ہے، یہ پیغام ملت اسلامیہ کے پاس ایک امانت ہے،انکی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس پیغام  کو پوری انسانیت تک بغیر کسی  لاگ لپیٹ کے ، بلا کسی دنیاوی مفاد کے ان کی امانت اور  ان کا قرض سمجھ کر پہنچانا ہے، یہ اس امت کا فرض منصبی ہے۔ اگر ہم نے حق ادا نہ کیا توہم سے سختی سے پوچھ گچھ ہوگي اور محشر میں رسوائي بھی ہوگي۔

Comment here