اصلاح معاشرہ

اخلاق رسول اورمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی علامت

عارف سراج سراج العین     

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اس  وقت  سر زمین  عرب  کی جو صورت  حال تھی ہر کو ئی جانتا اور سمجھتا ہے ، کوئی ایسا  شر اور برائی نہ تھی جو  وہاں موجود نہ  ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی  اصلاح  وہدایت  کیلئے انتھک کوششیں کیں اوراس راہ میں مشقتوں ، پریشانیوں اور تکلیفوں کوبرداشت کیا، رب حکیم جسے عظیم بنانا چاہتا ہے اسے آزمائشوں اورپریشانیوں کی بھٹیوں سے گذارکر عظیم ومثالی بنا تاہے ‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ روئے زمین پر سب سے عظیم ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ،حسن وجمال ، صبروتحمل ، حلم وبردباری،  ایثار و قربانی ، عاجزی وانکساری کے پیکر اوراخلاق حسنہ  کےاعلی درجہ پر فائز تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سراپا قرآن کریم سےعبارت تھے ، حضرت  عائشہ رضی اللہ  عنہا کہتی ہیں (کان خلقہ القرآن )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  اخلاق سراپا قرآن کریم ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر ،نذیر اور رحمتہ للعالمین تھے ، ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کاواقعہ کسے نہیں معلوم  جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنا  نہیں چاہتے  تھے  ، مدینہ ان کے نزدیک سب سے گھٹیا شہر تھا ، اسلام کو سب سےبر ا مذہب جانتے  تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کابذات خود مشاہدہ کیا تو خود کہہ  اٹھے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  مجھے سب سےزیادہ محبوب ، آپ کا  شہر  سب سےزیادہ عزیز اور آپ کی لائی ہوئی شریعت دین اسلام میرے  نزدیک سب سے پیارا ہے۔سیرت کی کتابیں اسطرح کے واقعات سے بھری پڑی ہیں ، یہ وہ اوصاف حمیدہ ہیں جن کا  اعترف دشمنوں اور غیر مسلموں نے بھی کیا ہے ، مائکل ھارٹ نے سو عظیم شخصیات پر ایک کتاب لکھی  جسمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ سب سے پہلےکیا  اور انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ذکرکرنے پر کو‏ئی اعترض کرے تو کرے لیکن حقیقت اورسچ یہی ھیکہ روئے زمین پر سب سے عظیم شخصیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے !!کسی نے کیا ھی خوب کہاہے !

مائیں جنتی ہیں ایسے بہادر خال خال ۔

        آپ صلی اللہ  علیہ وسلم کوان خصائل ، شمائل ، فضائل اور مناقب سے مزین اسلئے  کیا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال  وافعال کی اتباع واقتد ا کرے اور تمام لوگوں سے بڑھ کراللہ اور  رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےمحبت اوران کی اطاعت کرے  کیونکہ اس کے بغیر  ایمان  ناقص ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے کردار وگفتار کو  اپنے لئے اسوہ اور آیئڈیل بنائے  اللہ  فرماتا ہے !(لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنہ ) (القلم !40)تمہارے لئے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی  بہترین آئیڈیل  اور نمونہ ہے صرف ماہ ربیع الاول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دینی پروگرام اور جلسے وغیرہ کرلینا ہی کافی نہیں اور باقی سال بھر آخرت کو فراموش کر کےدنیا کی فکرمیں منہمک رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت اور شرائع اسلام سے کوئي دلچسپی نہ ہو یہ کہاں کی عقلمندی اور ہوشیاری ہے؟اور یہ کیسی محبت ہے؟ بلکہ حقیقی محبت واطاعت کی علامت یہ ھیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال وافعال اور اعمال کا اتباع کیا جائے اور روز مرہ کی زندگي میں آپ کے احکامات اور فرمودات کونافذ کرنے کی کوشش کی جائے عربی شاعر کہاتا ہے:

لوکان حبک صادقا لاطعتہ

ان المحب لمن یحب مطیع

      اگر تمہاری محبت صادق ہوتی تو تم اس کی اطاعت کرتے کیونکہ محب( محبت کرنے والا) اپنے محبوب کی اطاعت کرتا ہے۔اللہ ہمیں اپنے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک  ایک قول وفعل کے اتباع کی توفیق عطافرمائے(آمین)

Comment here