اصلاح معاشرہ

کتاب التوحیدکی اہمیت

عبید الرحمن مدنی

    توحید دین حنیف اور ملت اسلامیہ کی وہ  بنیاد،جڑ اور اساس ہے جس پرتمام عبادتوں کی صحت وقبولیت کا انحصار اوردارو مدار ہے،جب کہ  دین میں شرک ،بدعات ،خرافات، بت پرستی،اعمال فاسدہ اور عقائد باطلہ وغیرہ انسان کےاعمال وعقائد کےلئےزہرہلاہل ہے اوراس امت کے لوگ خیرالقرون میں بلااختلاف راہ ہدایت پر تھے کیونکہ ان کے تمام امورومعاملات کتاب وسنت کے مطابق انجام پاتے تھے،مگرزمانہ جوں جوں عہد نبوت  سے دور ہوتا گیا ،لوگوں کے اعمال وعقائد کے اندر بگاڑ آتا گیا،شرک وبدعت کارواج عام ہوتا گیاچنانچہ ہر دور کی طرح تقریبا دوسو سال قبل بارھویں صدی ہجری میں امام محمد بن سعوداور امام محمد بن عبد الوھاب نجدی رحمہا اللہ کے عہدمیں ملک حجاز اور اطراف کے ممالک میں شرک،بدعات ،خرافات اور عقائد  باطلہ نے اپنا شکنجہ کافی مضبوط کر لیاتھایہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عقیدہ وعمل کے باب میں قرآن وحدیث کی روشن تعلیمات سے ہٹ کر متعدد فرقوں میں بٹ گئي تھی، راہ اعتدال سےمنحرف ہو کر انبیاء ،ولیوں اور دیگرمردوں ،اسی طرح صنم،حجر،شجر اور دیگر مخلوقات کی پرستش کرنے لگی تھی ، جسکا نتیجہ یہ نکلاکہ ان میں بدعات ، خرافات ، شرکیات، اباطیل اور شعبدہ بازیاں عام ہوگئیں، نیز اسلام اور مسلمانوں پر طعن وتشنیع کا دشمنان اسلام کیلئے دروازہ کھل گيا، مگر اس امت کے علماء کرام نے ہر زمانے میں اپنی اپنی قدیم وجدید تصنیفات ، توضیحات اور رشحات قلم کے ذریعہ ان تمام امور باطلہ کا مقابلہ کرتے رہے،چنانچہ  توحید خالص اورعقیدہ صافیہ کی حفاظت وصیانت اور بدعت و شرکیات  کی بیخ کنی کی خاطرسیکڑوں  کتابیں علماء ربانیین کے قلم سے عالم وجود میں آئیں مثال کے طور پرامام بخاری (متوفی256ھ)کی  کتاب التوحید ،امام احمد (متوفی 241ھ) کی کتاب التوحید،امام ابن خزیمہ(متوفی 311ھ)کی کتاب التوحید،امام ابن مندہ (متوفی 395ھ)کی کتاب التوحید،امام ابو اسماعیل عبد اللہ بن محمد انصاری ھروی(متوفی 481ھ)کی کتاب التوحید،امام ابن تیمیہ (متوفی 728ھ)کی کتاب التوحید،امام ابن رجب جنبلی (متوفی 795ھ)کی کتاب التوحید،امام ابن ابی العزابو جعفر الطحاوی(متوفی 792ھ)کی کتاب التوحیداورامام احمد بن علی مقریزی(متوفی 845ھ)کی کتاب التوحیدوغیرہ جیسی کتابیں اس کڑی کے انتہائي قابل رشک شاہکار ہیں  مگر اس سلسلے میں  امام محمد بن عبد الوھاب تمیمی نجدی(متوفی 1206ھ)کی مایہ ناز تصنیف”کتاب التوحید کو ایک خاص امتیازی مقام حاصل ہے، جواپنی انوکھی ترتیب ،علمی مواد، قوت دلائل اور استنباط مسائل کے اعتبار سے دیگر کئی کتابوں پر فوقیت رکھتی ہے۔

        مروجہ بدعات اور خرافات کی بیخ کنی کرنے اور اسلام کے صحیح اور حقیقی فہم کی نشر اشاعت کی راہ میں انتہائي مشہور ومقبول اور بابرکت ہے یہاں تک کہ اس کے مندرجات سے بہرہ ورہونے کو علماء کرام اپنی سعادت تصور کرتے ہیں۔اسی شرک وبدعت کادندان شکن جواب دینے والی  اور توحید  خالص کی دعوت دینے والی کتاب کی اہمیت ہماری تحریر کا موضوع ہے مگر اس سے قبل مؤلف کتاب  کی مختصر حالات زندگي قلمبند کردینا  مناسب معلوم ہوتا ہے۔

تعارف مؤلف:

       شیخ الاسلام ،ناصرالسنۃ، قامع بدعات وخرافات امام محمد بن عبد الوھاب بن سلیمان بن علی بن محمد ابو عبد اللہ تمیمی نجدی رحمہ اللہ کی ولادت باسعادت منطقہ نجد کے مشہور شہر عیینہ کے اندر1115ھ مطابق1703م میں ہوئي، آپ نے سن بلوغ سے قبل ہی قرآن کریم حفظ کرلیا ، اور اپنے والد محترم سے فقہ حنبلی ، تفسیر اور علم حدیث کا درس لیا اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ متوفی 728ھ اور امام ابن قیم متوفی751 ھ کی مؤلفات اور کتابیں زیادہ سے زیادہ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کاکافی اہتمام کیا کرتے ، لہذا آپ صحیح عقیدہ اور کتاب  وسنت کے علم میں مہارت اور دسترس حاصل کرتے ہوئے خالص توحید اور صحیح عقیدہ کے داعی اور حامل بن گئے ، آپ کے والد محترم کے علاوہ شیخ عبداللہ بن سالم بصری شافعی متوفی1134ھ، شیخ عبد اللہ بن ابراھیم بن سیف مدنی متوفی1140ھ،شیخ محمد حیات بن ابراھیم سندھی متوفی 1163ھ، شیخ اسماعیل بن محمد عجلونی شامی صاحب المصنف متوفی1162 اور شیخ عبد اللہ بن فیروز احسائي متوفی1175 آپ کے اساتذہ میں قابل ذکر ہیں۔

       آپ کے تلامذہ میں شیخ حسن بن محمد بن عبد الوھاب متوفی1224ھ،شیخ عبد اللہ بن محمد بن عبد الوھاب متوفی1242 ھ،شیخ عبد الرحمن بن حسن بن محمد متوفی1250،شیخ عبد العزیز ابن حصین متوفی1237ھ،شیخ سعید بن حجی متوفی1229ھ،اور شیخ حمد بن معمرمتوفی1225ھ،زیادہ مشہور ہوئے۔

آپ کی وفات  اسی شہر “عیینہ میں”1204ھ مطابق 1791م میں ہوئي انا للہ وانا الیہ راجعون۔

        شیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ نے بطوریادگار چند تصنیفات اور آثار چھوڑے ہیں مگر اکثر تصنیفات  چھوٹے چھوٹے رسائل کی شکل میں ہیں اور مطبوع ہیں،خالص  توحید کی دعوت،محاربت بدعت و شرک اور اہل بدعات وخرافات کے شکوک وشبہات کے جوابات دینے میں مصروفیت کے باوجود آپ کی تصنیفات وتالیفات جتنی بھی  ہیں وہ سب نہایت ہی اہم ہیں:۔

چند تالیفات:

(1)کتاب التوحید(مطبوع) جوہمارے مضمون کا موضوع بحث ہے۔(2) کشف الشبہات(ط)(3) الاصول الثلاثۃ وادلتہا(ط)(4) القواعد الاربع(ط)(5) اصول الایمان(ط)(6) فضل الاسلام(ط)(7) مسائل الجاھیلۃ(ط)(8) مختصرسیرۃ الرسول(ط)(9) الہدی النبوی(ط)(10) شروط الصلاۃ وارکانہا(ط)(11) الکبائر(ط)(12)نصیحۃالمسلمین(ط)(13)تفسیرالفاتحہ(14)تفسیر کلمۃ الشہادۃ(ط)(15) تفسیرلبعض سورالقرآن(ط)(16) ستۃ مواضع من السیرۃ النبویۃ(ط) وغیرہ۔●●●

  کتاب التوحید کی اہمیت:”کتاب التوحید” شیخ محمد بن عبد الوھاب متوفی 1206ھ رحمہ اللہ کی اہم ترین تالیفات میں سے ایک ہے جو معانی ، مطالب اور فوائد کے اعتبار سے عظیم حیثیت رکھتی ہے ۔عبارات پیچیدگي  وگنجلگ کے بجائے سہل اور آسان استعمال کی گئي ہیں،کتاب اپنے موضوع اور ترتیب کے  اعتبار سے بہت ہی اہم اور شاندار ہے، دلائل اور براہین کی حیثیت سے بلندمقام ومرتبہ پر فائز ہے، یہی وجہ ھیکہ علماء کرام اور تشنگان علوم دین نے عزت واکرام کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہردور اور ہر زمانے میں اس کے حفظ،اوردرس و  تدریس کا اہتمام کیا ،  اور شیخ موصوف رحمہ اللہ کے زمانہ سے لیکر آج تک علماء کرام نے اس پر شروحات، تعلیقات،حواشی ، تخریجات،تنقیدات،تسجیلات اور مختصرات قلمبند کرنے  کا کام انجام دیا ، اس کتاب کا  عربی کے علاوہ دنیا کی تقریبا 21(اکیس) زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جس سے اہل علم وغیر اہل علم کے نزدیک، کتا ب مذکور کی اہمیت ،افادیت اور امتیاز صاف طورپرواضح ہوجاتاہے۔

        امام موصوف رحمہ اللہ نے مذکورہ کتاب  میں توحید سے محبت ولگاؤاور شرک سے نفرت وبیزاری کےتعلق پر زیادہ کلام کیا ہے، رسولوں کی بعثت کے مقاصد اور شرک کے مضراثرات کو کتاب وسنت کے دلائل وبراہین کی روشنی میں اور بڑی حکمت عملی کے ساتھ واضح و ثابت کیا ہے، اور کتاب کی ابتداء، توحید الوہیت و عبادت سے کی ہے ، کیونکہ اکثرلوگ ان کے زمانہ میں توحید عبادت سے ناواقف اور نادان تھے،بہت سارے اعمال فاسدہ باطلہ اور شرکیات میں مبتلاہوگئے تھے،اور پھر یہ کتاب توحید اسماء وصفات کے ذریعہ ختم پذیرہوئي تاکہ توحید کی تینوں اقسام :توحیدالوہیت، توحید ربوبیت، اور توحید اسماء وصفات کو شامل ہوجائے۔

      امام موصوف رحمہ اللہ نے اس کتاب کے اندر لوگوں کو مقاصد توحید سے باخبر کرنے کیلئے ایک نئے انداز اور نئے طریقے سے چند ابواب ترتیب دے ہیں،ہر باب ایک دوسرے سے وسعت اور الگ الگ حیثیت رکھتا ہے اور وہ دائرے یہ ہیں:توحید کی معرفت، توحید میں اخلاص، شرک اور اس  کےتمام اقسام سے خوف اور اجتناب ، توحید کی حفاظت اور حمایت ۔

    ان سارے فوائد کے علاوہ موصوف رحمہ اللہ نے کتاب میں عقیدے کے کچھ عناوین ایسے قائم کئے ہیں جن کا تعلق ایسے ایسے مسائل سے ہے جو آپ کے اور ہمارے دور میں بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہیں اس سے کتاب مذکور کی قیمت اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ، اور وہ عناوین یہ ہیں:

      توحید کی اہمیت وفضیلت کا ذکر، شرک اور اسباب شرک سے اجتناب مثلا ہاتھ میں کڑااوردھاگہ پہننا، شجراورحجرسے تبرک حاصل کرنا تعویذ اور جھاڑپھونک کرنا، جادو کاذکر، کاہن اور نجومی سے مقدر کی چانچ کرانا اور غیر اللہ سے مدد وفریاد طلب کرنا وغیرہ اور یہ چيزیں آج امت مسلمہ کیلئے  ایک ناسوراور زہر ہے، اسی طرح سے موصوف رحمہ اللہ  نے اللہ اور اس کے رسول سے استہزاء وم‍ذاق اور حکم بغیر ما انزل اللہ وغیرہ کئي اہم عناوین ذکر کیے  ہیں جس سےکتاب کی اہمیت دو چند جاتی ہے۔

     اس کتاب کی جس قدر شرحیں لکھی گئي ہیں اس سے بھی اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ذرا زیر نظرشروحات کو دیکھئے۔

تیسرالعزیز الحمید شرح کتاب التوحید تالیف شیخ سلیمان بن عبد اللہ بن محمد متوفی 1233ھ

تحقیق التجرید شرح کتاب التوحید تالیف شیخ عبد الہادی بن محمد بن عبد الہادی بکری عجیلی متوفی1262ھ

فتح المجید شرح کتاب التوحید تالیف شیخ عبد الرحمن بن حسن بن محمد متوفی1285ھ

فتح اللہ الحمید المجید شرح کتاب التوحید تالیف شیخ خالد بن محمد بن حسن بن محسن رحمہ اللہ متوفی۔۔

  الدر النضید شرح کتاب التوحید تالیف شیخ  احمد بن حسن نجدی متوفی (6) القول السدید فی مقاصد التوحید تالیف شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی متوفی 1376ھ(7) حاشیہ علی کتاب التوحید تالیف شیخ عبد الرحمن بن محمد بن قاسم عصبیمی متوفی 1392ھ(8) الدر النضید فی شرح کتاب التوحید تالیف شیخ سلیمان بن عبد الرحمن بن محمد متوفی1397ھ(9) افادۃ المستفید بشرح کتاب التوحیدتالیف شیخ عبد الرحمن بن  احمد بن محمد الجطیلی متوفی 1404ھ(10) التوضیح المفید لمسائل کتاب التوحید تالیف شیخ  عبد اللہ بن محمد بن احمد الدویش متوفی 1409ھ ،(11) الجامع الفرید للاسئلہ والاجوبۃ علی کتاب التوحید تالیف شیخ عبد اللہ بن باز جار اللہ الجاراللہ متوفی1414ھ،(12)التعلیق المفید علی کتاب التوحید تالیف شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن بازمتوفی1420ھ، (13) الدر النضید علی کتاب التوحید تالیف شیخ سعید بن عبد العزیز الجندول المولود/1341ھ رحمہ اللہ،(14) التعلیق المختصر المفید علی کتاب التوحید تالیف شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ،(15) اعانۃ المستفید بشرح کتاب التوحید/شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ،(16) الشرح السدید علی کتاب التوحید تالیف شیخ  ڈاکٹرعبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین رحمہ اللہ متوفی1349ھ،(17) مغنی المرید الجامع لشروح کتاب التوحید تالیف شیخ عبد المنعم ابراھیم حفظہ اللہ ،(18) القول المفید علی کتاب التوحید تالیف شیخ محمد بن صالح العثیمین متوفی1417ھ،(19)کتاب الجدید فی شرح کتاب التوحید تالیف شیخ محمد بن عبد العزیز السلیمان القرعاوی مولود/1353ھ،(20) فضل الغنی الحمید تعلیقات مہمۃ علی کتاب التوحید تالیف شیخ  یاسر برھامی حفظہ اللہ ،(یہ ساری کتابیں  مطبوع ہیں)

(21) فتح المجید شرح کتاب التوحید تالیف شیخ عثمان بن عبد العزیز بن منصور متوفی 1282ھ(خ)

(22) شرح کتاب التوحید تالیف شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن عبد العزیز ابابطین متوفی1282ھ(خ)

(23) حاشیہ علی کتاب التوحید تالیف شیخ اسحاق بن حمد بن عتیق متوفی1343ھ

(24) شرح کتاب التوحید تالیف شیخ عیسی بن محمد بن عبد اللہ الملاحی متوفی1355ھ

(25) شرح کتاب التوحید تالیف  شیخ صالح بن عبد العزیز بن محمد آل الشیخ مولود/1378ھ(خ)

(26) شرح کتاب التوحید تالیف شیخ علی بن خضیرالخضیر حفظہ اللہ (خ)

(27) شرح کتاب التوحید تالیف شیخ عبد الرحمن البراک حفظہ اللہ

(28) کتاب التوحید مع تعلیقات مختصرہ مفیدہ تالیف شیخ محمد بن عبد العزیز المسند حفظہ اللہ

(29) مع عقیدہ السلف کتاب التوحید الذی ھو حق اللہ علی العبید لمحمد بن عبد الوھاب ، اعداد /شیخ مصطفی العالم حفظہ اللہ(خ)

(30) القول المفید فی اختصار کتاب التوحید تالیف شیخ مروان بن ابراھیم القیسی (ط)

(31) مختصرکتاب التوحید اعداد /ابراھیم بن عبد اللہ السماری حفظہ اللہ(ط)

(32) الملخص فی شرح کتاب التوحید تالیف شیخ دصالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ(ط)

(33) تحقیق وتعلیق علی کتاب التوحید تالیف شیخ محمد منیرالدمشقی متوفی1317ھ

(34) الشرح المفید علی علی کتاب التوحید تالیف شیخ عبد اللہ القصیر حفظہ اللہ

(35) شرح کتاب التوحید تالیف شیخ سلیمان بن محمد الھیمیۃ حفظہ اللہ

(36)الدرالنضید فی تخریج کتاب التوحید تالیف شیخ صالح بن عبد اللہ العصیمی حفظہ اللہ(ط)

(37) ضعیف کتاب التوحید تالیف شیخ صغیر بن علی الشمری حفظہ اللہ (ط)

(38) انتقادات علی ضعیف کتاب التوحید تالیف شیخ اسماعیل الانصاری متوفی1417ھ(م)

(39) تخریج احادیث منتقدۃ  فی کتاب التوحید  تالیف شیخ فریح بن صالح الھلال

(40) تنبیہات علی کتب تخریج کتاب التوحید تالیف ناصربن حمد الفہد۔

       خلاصہ قول یہ ھیکہ کتاب التوحید شیخ محمد بن عبد الوھاب نجدی متوفی1207ھ کی اہم ترین تصنیفات میں سے ہے، شیخ موصوف رحمہ اللہ نے مذکورہ کتاب کے اندر توحید اور اس کی اہمیت وفضیلت اور اس کے برخلاف شرک اور اسباب شرک کو بہت ہی حکمت عملی سےثابت کر نے کیلئے کتاب وسنت کی نصوص پر اعتماد کیا ہے جس میں موصوف رحمہ اللہ نے قرآنی آیت اور احادیث نبویہ کےذریعہ مدلل انداز میں منکرات دین کی تردید کی ہے جسے کتاب مذکور کی علمی اہمیت وخصوصیت بحسن وخوبی واضح ہوجاتی ہے ۔

     آخر میں رب کریم سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں خالص توحید پر قائم رکھے اور شرک سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس عمل کو میزان حسنات میں شمار کرےاور اس کتاب کے مصنف رحمہ اللہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔صلی اللہ علی نبینا محمد وسلم

Comment here