اصلاح معاشرہ

اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت کے چند اسباب

ہر مومن کو اللہ تعالی کی محبت مطلوب ہے اور محبت کے ساتھ  عباد ت کرنی  ہے۔اور ہماری عبادت  خوف ، رجاء ومحبت سے مکمل ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالی کسی   بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو پکار کر اعلان کرتا ہے کہ بے شک میں اپنے فلاں  بندہ سے محبت کرتا ہوں   حدیث کے الفاظ ملاحظہ ہوں:۔ حدثنا محمد بن سلام اخبرنا مخلد اخبرنا ابن جریج قال اخبر نی  موسی بن عقبه عن نافع قال قال ابو ھریرہ رضی اللہ عنه عن البنی صلی اللہ علیه وسلم  وتابعه أبو عاصم عن ابن جریج قال اخبرنی  موسی بن عقبة عن نافع عن  ابی ھریرۃ عن البنی صلی اللہ علیه وسلم  قال:” إذا أحب  اللہ العبد  نادی جبریل : ان اللہ یحب فلانا فاحیبه فیحبه جبریل  فینادی  جبریل  فی أھل السماء ان اللہ یحب فلانا فاحبوہ ، فیحبه أھل السماء، ثم یوضع له القبول  فی الأرض” رواہ البخاری(4209)  ومسلم(2637) والترمذی والطبرانی واحمد۔

         ہم  سے محمد بن  سلام نے بیان کیا کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبردی  کہا ہم کو ابن جریج نے کہا مجھ کو موسی بن عقبہ نے انہوں نے نافع سے انہوں نے کہا ابو ھریرہ نے  آنحضرت ﷺ سے روایت کی اور مخلد کے ساتھ اس حدیث کو ابو عاصم   نے ابن جریج سے روایت کیا انہوں نے کہا مجھ کو موسی بن عقبہ نے خبردی انہوں نے نافع سے انہوں نے ابو ھریرہ سے انہوں نے انحضرت ﷺ سے آپ نے فرمایا : جب اللہ تعالی  کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو پکارتا ہے میں فلانے شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ توجبریل  اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور سارے آسمان  کے فرشتوں  میں منادی  کردیتے  ہیں کہ اللہ جل جلالہ  فلانے شخص سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو وہ سب اس سے محبت کرنے لگتے ہیں  پھر زمین والے (اچھے بندے) بھی اس کو مقبول سمجھ تے ہیں ۔

    اور اللہ تعالی کی محبت  کے اسباب بہت ہیں ان میں سے چند اہم اسباب کو میں یہاں انشاء اللہ ض ذکر  کروں گا ۔

پہلا سبب:عدل وانصاف  کرنا:اللہ رب العالمین عدل وانصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اسلئے ہمیں   عدل  وانصاف کا ہمیشہ خیال  رکھنا چاہئے  تاکہ اللہ سبحانہ  وتعالی  کے ہم  پیارے  چہیتے ومحبوب بن سکیں اللہ تعالی  کا فرمان ہے :”إن اللہ یحب المقسطین “(المائدہ:42)یقینا عدل والوں  کے ساتھ اللہ سبحانہ  وتعالی  محبت رکھتا ہے۔

دوسرا سبب: پاکی اختیار کرنا: اللہ سبحانہ وتعالی   پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے اس لئے  ہمیں چاہئے  کہ ہم ہمیشہ  پاک و صاف رہیں اور پاک  وصاف رہنا ایمان  کی شاخوں میں سے ایک   اہم شاخ ہے ارشاد باری تعالی ہے :”ویحب المتطھرین”(البقرۃ:222) اللہ تعالی  پاک رہنے  والوں سے محبت  کرتا ہے اور انہیں پسند فرماتا ہے۔

تیسرا سبب: صبر: اللہ تعالی  صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور اس کو بلا حساب اجر وثواب  عطا کرتا ہے اور جنت نصیب  فرماتا ہے اور صبر کی تین قسمیں  ہیں (1)الصبرعلی الطاعات، یعنی اللہ تعالی کے اوامر  کو بجالانے میں صبر سے کام  لینا ۔(2)الصبرعلی  المعاصی ،یعنی  گناہوں سے بچنے میں صبر سے کام لینا ۔(3) الصبرعلی  اقدار اللہ ، یعنی  اللہ تعالی  کی جانب سے  جو مصائب وتکلیفیں  مقدر  ہیں ان پر صبر کرنا ۔ ارشاد باری تعالی ہے  :”واللہ یحب الصابرین”(آل عمران:146) اور اللہ تعالی صبر کرنے والوں کو (ہی ) چاہتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔

چوتھا سبب: تقوی وپرہیزگاری اختیارکرنا:تقوی وپرہیزگاری  جو کہ پہلے والوں کی اور بعد والوں کی ، انبیاء  ورسل کی وصیت ہے جس کے  اپنانے  سے اللہ تعالی  کی محبت حاصل ہوتی ہے اور  روزی بھی ملتی  ہے، اللہ سبحانہ  وتعالی  کا ارشاد ہے :”إن اللہ یحب المتقین”(التوبة:4) اللہ تعالی  پرہیزگاروں سے محبت  کرتاہے ، اور انہیں دوست رکھتا ہے۔

پانچواں سبب اللہ تعالی پر توکل واعتماد:  توکل  یہ ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اس کے اپنانے  سے اللہ سبحانہ  وتعالی  کی محبت حاصل ہوتی  ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ  اللہ سبحانہ  وتعالی  پر بھروسہ  رکھیں وہی کارساز ہے اور بگڑی بنانے والا ہے ارشاد باری  تعالی ہے :”إن اللہ یحب المتوکلین”(آل عمران:159) بے شک اللہ تعالی  توکل کرنے  والوں سے محبت کرتا ہے ۔

چھٹا سبب اللہ  کی راہ میں جہادکرنا: یوں تو  جہادمیں  اسلام کی سربلندی ہےاور اس کے  بجالانے سے اللہ تعالی  کی خوشنودی  ومحبت حاصل ہوتی ہے  اور یہ عبادت وعمل اللہ تعالی کو نہایت  ہی محبوب ہے ارشاد باری  تعالی ہے:“إن اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیله صفا کأنهم بنیان مرصوص”(الصف:4) بے شک اللہ تعالی ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ  جہاد کرتے ہیں گو یا وہ  سیسہ پلائي ہوئي عمارت ہیں ۔

ساتواں سبب: احسان وبھلائي  کرنا :احسان کا بہت وسیع مفہوم ہے ہرنیک کام خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا مادی ہو یا معنوی ، زیادہ ہو یا کم وہ احسان وبھلائي ہے اور   اللہ تعالی  اس کو بڑھاتا ہے  دس گنا سے بے شمار گنا تک اس لئے  ہمیں  چھوٹے سے چھوٹے کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے  بسا اوقات ایک چھوٹا سا عمل  ہی اللہ تعالی  کی خوشنودی  ورضا ومحبت اورجنت کے حصول  کیلئے  کافی ہوتا ہے اللہ سبحانہ وتعالی  کا ارشاد ہے :”واللہ یحب المحسنین”(آل عمران:134) اللہ تعالی نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے۔

آٹھواں سبب: مؤمنوں کیلئے نرمی کا سلوک اپنانا اور کافروں  سے سختی  کا معاملہ  کرنا، اور کسی ملامت کرنے والوں  کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا اور یہ مذکورہ  اوصاف  اللہ سبحانہ وتعالی  کےبہت بڑے فضل وکرم میں سے ہیں اس لئے ہمیں  اغیار اور اپنوں کا خیال  کرنا ہوگا اور جو جتنا  زیادہ  قریب ہوگا اس کے ساتھ اتنا ہی زیادہ اچھا سلوک  کرنا ہوگا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی  کا ارشاد ہے :” فسوف  یاتی  اللہ بقوم یحبهم ویحبونھا أذلة علی المومنین أعزۃ  علی الکافرین  یجاھدون  فی سبیل اللہ ولا یخافون لومة لائم ذلك فضل اللہ یؤتیه من یشاء  واللہ  واسع علیم”(المائدہ:54)

     تو اللہ تعالی  بہت  جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگي اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگي  وہ نرم دل ہوں گے  مسلمانوں پر اور سخت ہوں گے کفار پر، اللہ تعالی  کی راہ میں جہاد کریں گے اورکسی ملامت کرنے والے  کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے  یہ ہے اللہ تعالی  کا فضل جسے چاہتا ہے نوازتاہے، اللہ تعالی بڑا وسعت  والا اور زبردست علم والا ہے۔

نواں سبب توبہ: توبہ  سے اللہ سبحانہ وتعالی  کی  محبت حاصل ہوتی ہے اور مومن تو بہ کے ذریعہ کامیابی  وکامرانی  سے ہمکنار  ہوسکتا ہے اور اسی توبہ  کے ذریعہ  حضرت آدم علیہ السلام  کو ابلیس   پر فوقیت حاصل ہوئي  ۔ اس لئے ہمیں زیاد ہ سے زیادہ توبہ  کرنی چاہئے  ، رسول اللہ ﷺ  ایک  دن میں ستر سے سو  بار تک توبہ  واستغفار  کرتے تھے  ارشاد باری تعالی ہے :”إن اللہ یحب التوابین”(البقرۃ:222)

بے شک اللہ تعالی توبہ  کرنے والوں سے محبت کرتا  ہے (اور انہیں پسند فرماتاہے)

دسواں سبب اتباع رسول ﷺ: ہمیں چاہئے  کہ ہم رسول اللہ ﷺ  کی اتباع کریں ان کی سنت کے مطابق زندگي  کو ڈھالیں  اور اس کواپنائیں،   اس کے بغیر ہم اللہ سبحانہ  وتعالی  کی محبت کو حاصل نہیں  کرپائیں گے اللہ سبحانہ  وتعالی  کا فرمان ہے :” قل إن کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم”(آل عمران:31)

 کہہ دیجئے  ! اگر تم اللہ تعالی  سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری  کرو خود اللہ سبحانہ  وتعالی   تم سے محبت کریگا اور تمہارے گناہ معاف  فرمادے گا اور اللہ تعالی  بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔

         یہود ونصاری  بھی دعوی کرتے ہیں کہ  وہ اللہ تعالی  کے چہیتے  اور محبوب ہیں  لیکن ان لوگوں کے جھوٹے دعووں سے اللہ تعالی  کی محبت حاصل نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ  اللہ تعالی  نے ایک معیار قائم کردیا کہ اس کے  محبوب بننے کیلئے  ایک ہی راستہ ہے  آخری رسول محمد ﷺ کی پیروی  واتباع کی جائے۔ اس لئے  اگر کوئي  ان کی اتباع  کرے تو وہ اللہ تعالی کا  محبوب بن جائیگا۔ اس کے علاوہ  تمام راستے مسدود  ہیں  ۔من عمل عملا لیس امرنا علیہ فہورد ۔(متفق علیہ)  اور اتباع رسول اللہ ﷺ سے گناہ بھی معاف ہوں گے اللہ تعالی کے  محبوب ہونے کے ساتھ ساتھ ۔

     اخیرمیں دعا ہے کہ اللہ تعالی  کی محبت کے مذکورہ اسباب وذرائع کو اپنانے کی توفیق عطا کرے۔آمین ۔

واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔•••

Comment here