پیام حدیث

بدعت کی خطرناکی !

عن عائشة قالت:قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم:”من أحدث فی أمرناھذامالیس منه فھورد”

ترجمہ: سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے روایت  ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ہمارے حکم (دین)میں ایسی  بات نکالی جو اس میں موجود نہیں  تو وہ مردود ونامقبول ہے۔(صحیح بخاری:2697،صحیح مسلم:17/1718)۔

فوائد حدیث:(1) سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا سے دوسری روایت  میں آیا ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

“من أحدث فی دیننا مالیس منه فھورد”

جس نے ہمارے  دین میں کوئي  ایسی بات  نکالی جو اس میں موجود نہیں تو وہ مردود ہے۔(جزء من حدیث لوین/مطبوع ح71وسندہ صحیح ،شرح السنۃ للبغوی :103وسندہ حسن)۔

(2)دین میں ہر وہ نئي بات جو قرآن وحدیث، اجماع  اور آثار سلف صالحین  سے ثابت نہیں بدعت کہلاتی ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے۔

سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری  رضی اللہ عنہ سے روایت  ہےکہ   رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”اما بعد!بے شک بہترین  حدیث کتاب اللہ ہےاور بہترین  طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا طریقہ ہے، اعمال میں بدعت سب سے برا عمل ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(صحیح  مسلم:43/867) معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے دربار میں ہر قسم کی بدعت گمراہی  ، باطل اور مردود ہے۔

(3)جو شخص کتاب وسنت  کو مضبوطی  سے پکڑتا ہے  اور ہر قسم کی بدعات  سے دور رہتا ہے تو یہ شخص صراط مستقیم  پر گامزن اور کامیاب ہے۔

(4)امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہم سے پہلے  گزرنے والے علماء فرماتے تھے  کہ سنت کو مضبوطی  سےپکڑنے میں نجات ہے۔ (سنن الدارمی:97وسندہ صحیح)

(5) عبد اللہ بن فیروز الدیلمی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مجھے پتا چلا ہے کہ دین کے خاتمے کی ابتداء ترک سنت سے ہوگي ۔ (سنن الدارمی :98وسندہ صحیح )۔

یاد رہے کہ حجت ہونے کے لحاظ سے حدیث اور سنت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں  جیسا کہ سلف صالحین  اور اصول حدیث سے ثابت ہے، لہذا جو شخص صحیح حدیث کا تارک  ہے وہ سنت کا بھی  تارک ہے، نبی کریم ﷺ نے تارک سنت پر لعنت بھیجی ہے۔(دیکھئے :سنن الترمذی:2154وسندہ حسن)۔

(5)امام حسان بن عطیہ رحمہ اللہ نےفرمایا :جو قوم اپنے دین  میں کوئي بدعت نکالتی  ہے تواس کے بدلے میں اللہ تعالی   ان سے سنتیں اٹھالیتا ہے ،پھر وہ سنتیں قیامت تک  ان کے پاس واپس  نہیں آتیں ۔(سنن الدارمی :99وسندہ صحیح)

(6) امام عبد اللہ  بن زید الجرمی رحمہ اللہ نے فرمایا : بدعتی  لوگ گمراہ ہیں اور  میں  یہی سمجھتا  ہوں کہ  وہ جہنم میں جائیں گے ۔(سنن الدارمی :101وسندہ صحیح)۔

(7) یاد رہے کہ شریعت میں بدعات کا تعلق  ان ایجادات سے ہے جن کا بغیر ادلۂ شرعیہ  کے دین میں اضافہ کیا گیا ہے، رہی دنیاوی  ایجادات تو ان  کا دین سے کوئي تعلق نہیں ہے بلکہ  حدیث”أنتم أعلم بأمر دنياکم”تم دنیا  کے معاملات زیادہ جانتے ہو (صحیح مسلم:2363،دار السلام :6128 )کی رو سے وہ تمام دنیاوی ایجادات جائز  ہیں جن کے ذریعہ  سے شریعت  پر کوئي  زد نہیں آتی ۔

(8)امام ابوزرعہ  یحی بن ابی عمر السیبانی رحمہ اللہ (متوفی148ھ) فرماتے ہیں : یہ کہا جاتا تھا کہ بدعتی  کی توبہ اللہ تعالی قبول  نہیں کرتا  اور (دوسری بات یہ ہےکہ ) بدعتی  ایک بدعت چھوڑ کر اس سے زیادہ  بری بدعت میں داخل ہوجاتا ہے۔(کتاب البدع والنہی عنہا:144،وسندہ حسن)۔

معلوم ہواکہ  اگر کوئي  بدعتی  اپنی بدعت  سے لوگوں کے سامنے توبہ کر لے تو پھر بھی کافی عرصے تک اسے زیرنگرانی رکھنا چاہئے  ، کیونکہ عام اہل بدعت کا یہی دستور ہےکے وہ ایک بدعت سے نکل کر دوسری  خطرناک بدعت سے دو چار ہوجاتے ہیں ۔

اما م ابو بکر محمد بن الحسین الاجری رحمہ اللہ  (متوفی:360ھ)فرماتے ہیں :” اللہ تعالی اس بندے  پر رحم کرے  جس نے ان فرقوں  سے ڈرایا اور بدعات سے دوری اختیار کیا ، اس نے اتباع کی اور بدعات کی پیروي نہیں کی ، اس نے آثار کو لازم  پکڑا اور صراط مستقیم طلب کی اور اپنے  مولی کریم (اللہ ) سے مدد مانگي۔  “(الشریعۃص18،دوسرانسخہ ص20قبل ح 30 ،ماخوذ مع التلخیص از”اضواء المصابیح  فی تحقیق مشکواۃ المصابیح :1/192۔195)۔

 صفحہ 48کابقیہ :میں مقیم  رہے۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفروس میں جگہ عطا کرے۔

بلاشبہ  وہ ایک بڑے  انسان تھے  بڑے بڑے  مناصب پر فائز رہے مگر آپ کا اپنا گھر صرف دو کمرے اور ایک باورچی خانہ  پر مشتمل تھا ۔ وہ فرش زمین پر رات کو سوتے اور صبح بچھونا  سمیٹ کر رکھ لیتے۔ اس گھر میں کوئي  الماری  نہیں تھی ۔ ان کے کپڑے دروازے کے پیچھے  جانب  لٹکے  رہتے تھے۔

ایک دن  حرم شریف ائمہ کرام  کو اپنے گھر پر دعوت دی۔ تو ان کے کمرہ میں اتنی جگہ نہیں تھی کہ یہ چند مہمان بھی بیٹھ سکیں لہذا دوسرے کمرہ سے ان کی فیملی  باہر نکل گئي تاکہ  اس کمرہ میں بھی کچھ لوگ بیٹھ جائیں۔

شاہ فہد رحمہ اللہ  نے ایک گھر خرید نے کے لئے  دس ملین سعودی  ریال  موصوف کو دیا مگر قربان   جائیے اس مادی دور کے اس متقی  اور زاھد انسان پر کہ انہوں سارا پیسہ رفاہی  کاموں اور فقراء ومساکین  کے لئے تقسیم کردیا۔

وہ جنکے دیکھنے  کو آنکھیں  ترستیاں  ہیں ۔

موصوف اب اس دنیا میں نہیں  رہے مگر ان کی خوبیاں آج زبان زد خاص وعام ہیں ۔آج کے مادی  اور شہرت پسند دور میں ایسی  شخصیتیں  کہاں ملتی  ہیں ۔ ان کی زندگي  یقینا عوام ، علماء  اور ذمہ داران  ہر ایک کے لئے قابل  عبرت  ہے۔

بار الہ  تو ہمیں عبر ت حاصل  کرنے کی توفیق عطا فرما اور موصوف  کو جنت الفروس میں جگہ عطا کر۔

 

اللہ تعالی ہم سب کو بدعت وضلالت  سے بچائے  اور قرآن وحدیث کو مضبوطی  سے تھامے اوران پر عمل کرنے کی توفیق سے نوازے ۔ آمین ۔

Comment here