اصلاح معاشرہ

مسلمانو! اب تو ہوش میں آجاؤ؟

محمد فیروزعالم ہارونی بخاری

    ہم اکسویں صدی میں زندگي گذار ہے ہیں اور اس وقت ہرچہار جانب ترقی ہو رہی ہے ترقی کی  رفتار اتنی تیز ہےکہ کوئي چاند میں  زمین خرید رہا ہے تو  کوئي سورج کے پاس پہنچ کر آلات کے ذریعہ سورج کی روشنی سے اس کی عمر متعین کرنے کی کوشش کررہاہے۔ نئے نئےآلات اور نئےنئے ایجادات ہمارے آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔ اونچے اونچے فلک بوس عمارتیں نت نئے  سانئس وٹکنالوجی کی ایجادات طرح طرح کے کمپیوٹر س اور ان میں آئے دن بدلتے ہوئے  سافٹ ویئر۔ ان سبھی چیزوں کو دیکھ کر ہماری آنکھیں لرزہ جاتی  ہے اور ہم  محو تماشا بن کر کھڑے ایک عجیب سی کیفیت دل میں لئے پزمردہ حالت میں ادھر ادھر جھانکتے ہیں ۔ جب دور دور تک نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں اس  امت مسلمہ کی  بے کسی دیکھائي دیتی ہے  کہ کبھی اس نے بھی ترقی کی منزلوں کو کس طرح  چابکدشی کے ساتھ طیے کیا تھا ۔

دوستو!

     جہاں آج یوروپ وامریکہ  چین وجاپان انگلینڈاوررشیہ  دنیا کی طاقتور قوموں میں شمار کیا جاتا ہے ان ممالک کے پاس ہر طرح کے جنگجو ہتھیار ہیں ہر طرح کی طاقتوں سے لیس ہیں، کسی بھی وقت کسی بھی ملک کو تباہ وبرباد کرسکتاہے۔ مگر وہیں دوسری  جانب جب ہم مسلم ممالک کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں ۔بار بار نظروں کو دوڑاتے ہیں دائیں بائیں  ہاتھ پیر مارتے ہیں مگر سوائے یاس وناامیدی کے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔   بالآخر ہم  عش عش کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ کہ آج پورے عالم میں ہرچہار جانب ترقی ہورہی ہے ہر طرف لوگو جوش میں، ہر شخص اپنی زندگي میں عروج کی منزلوں کو طے کر رہاہے۔اور ایک امت مسلمہ جس کی آنکھیں اشکبار، دل  کبیدہ خاطر ہے اور مجبوری  ولاچارگی کے ساتھ اپنے  گنتی  کے ایام گذاررہی ہےان کے پاس کوئي طاقت نہیں،کوئي قوت نہیں اگر ہے بھی تو وہ دوسرے سا مراجی طاقتوں کی   مرہوں نست ہےجس کو یہ مجبور ومقہور ممالک اپنی مرضی سے  جنبش تک  نہیں دے سکتے۔

    آج کہنے کو تو پوری دنیا میں سیکڑوں اسلامی ممالک قائم ہیں مگر سارے ممالک بے بسی  لاچاری اور مجبوری کی زندگی گزار رہی ہیں۔ دوسرے ممالک سے اس قدر  خائف ہیں  کے اگر کوئي غیر اسلامی ملک  کسی اسلامی ملک پر حملہ کردیتا ہے تو دوسرے تمام ممالک  محض تماشائي بن کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے  ہیں کیونکہ ان کو پتا ہے ہمارے پاس نہ طاقت ہے نہ قوت ۔ اگر  تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا  میں کوئي ایسان خطہ نہیں ہے جہاں مسلم آباد یاں یکسر نایاں ہوں بلکہ پوری دنیا میں  مسلمانوں کی آبادی ہے  کم وبیش ضرور ہے۔ مگر ہر جگہ مسلمانوں  کی ہی حالت زارہے۔

عزیز و اپنے دل میں ہاتھ رکھ کے بتاؤ!

     آخر کیا وجہ ھیکہ ہم اتنی تعداد  میں ہونے کے باوجود ہمارے اتنے سارے ممالک ہونے کے باوجود آج ہم بے  کسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ہم مظلوم  ومقہور کی زندگی گزار رہے ہیں ، حیف صد حیف! افسوس صد افسوس! کبھی ایسا دور تھا جب پوری دنیا میں ہماری طوطی بولتی تھی پوری دنیا میں ہماری حکومت قائم تھی ہر طرف  ہمارے چر چے ہرطرف ہماری ہی گونج تھی ۔ہم دنیا  پر قابض ومتصرف تھے ہمارے پاس دنیا کی بادشاہت تھی اور ہم دنیا پر حکومت کر تے تھے۔مگر اچانک کیا ہوگیا آج ہم ذلت ورسوائي کی زندگي گزار نے پر مجبور کیوں ہوگئے۔ کیا ہم نے کبھی اس مسئلہ پر غور کیا ہے، کیا ہم نے کبھی اس مسئلہ حقیقی کی طرف دھیان دیا ہے؟ جواب کیا ہے؟ یہی  نا کے ! نہیں ۔

     میرے عزیزو! آج پوری  دنیا میں ہماری  جگ ہنسائي  ہورہی ہے ہماری عزت محفوظ نہیں ہماری تہذیب  کو لوگ مٹانے کے درپے ہیں اور ہم در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اس کی  ایک ہی وجہ ہے وہ یہ آج ہم نے شریعت  کو بھلادیا ہم نے اپنے اسلاف کو بھلادیا اپنے ماضی کو بھلادیا ۔ ہم نے ان کامیاب سپاہیوں مصلحوں قائدوں کو بھلادیا جن کے  پر چم تلے ہم نے اسلام کے جھنڈا کو دنیا کے  کونے کونے تک پھیلا  یااورگاڑا تھا ۔ آج ہم نے عدل وانصاف کو بالائے طاق رکھدیا، اسلامی قوانین وضوابط کو ورے رکھ دیا ۔ آج ہم نے  نفرت پرستی کو اپنے اوپرلاد کر قرآن کو چھوڑدیا ۔ میں آپ کو کون کون سی برائي گناؤں۔

آپ اپنے ہی اداؤں پے غور کیجئے

ہم اگر عرض کرینگے تو شکایت ہوگي۔

      آج ہم جن گونا گوں حالات سے دور چار ہیں ایسی حالت اسلام نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔آج ہماری  ماؤں اور بہنوں کی عزت محفوظ نہیں ، ہم پر ظلم وبربریت کی  حد توڑی جارہی ہے مگر ہم  خواب غفلت میں پڑے ہیں ہماری حمیت بیدار نہیں ہوئي ۔

     مسلمانوں ذرا غور کرو کے آخر وہ کونسی  چیز تھی جس سے ہمارے اسلاف نے پوری دنیا  پر حکومت  کی وہ کونسی چیز تھی جس کےذریعہ ہمارے اسلاف نےاپنے ماؤں اور بہنوں کی عزت کو  بچا کے رکھا تھا وہ اتحاد واتفاق تھا۔اس وقت کے لوگ متفق تھے ان کا دل  ایمان سے لبریز تھا لوگ عابد وزاہد تھے سچے مسلمان تھے  امانت ودیانت داری ان کے دل میں کو ٹ کوٹ کر بھری ہوئي تھی علم کے دولت سے مالا مال تھے۔آج ہمارے پاس نہ علم ہے اور نہ کوئي کام کرنے کا جذبہ بس یہی وجہ ھیکہ ہم  بے رہ اوں کی زندگي گزار رہے ہیں ۔

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سےکیا بات بنے۔

     آج ہماری مسلم عورتیں،مسلم لڑکیاں نہ مسلم کہلانے کی لائق ہیں نہ اسلام کی کوئي پاسداری ان کے اندر ہے۔جدھر دیکھو  عریاں اور بے حجابی  کے ساتھ گھوم رہیں ہیں حال تو یہ ھیکہ لڑکیاں جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتی ہیں آج کلبوں میں ہوٹلوں میں اور بڑے بڑے بازاروں میں غیر مردوں کے ساتھ گھومتے  نظر آرہی ہیں۔ آج مسلمانوں میں ہی سب سے زیادہ شرابی   کبابی پائے جاتے ہیں ۔وہ اسلام جس نے شراب کو حرام کیا ہے آج اسلام کے ماننے والے ہی شراب کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں۔

      اسلئے  مسلمانوں ہوش میں آجاؤ  اور اللہ رب العالمین پر ایمان لے آؤ اس کی رسی کومضبوطی سے تھام لو اور یاد رکھو یقینا جیت اسی کی ہوگي  جو ان کے دین پر قائم ودائم رہے اور اپنے آپ کو ایمان کی دولت سے مالا مال رکھے۔

“ولا تھنو ا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین”

    مسلمانوں آجاؤ ایک پلیٹ فارم پر آجاؤ ایک جگہ متحد ہو جاؤ ایک   کے سننے پر  آجاؤ اپنے رب العزت کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ایک زبان ہو کر ایک مذہب ہو جاؤ آپسی لڑائي  اور چھگڑے کو بالائے طاق رکھ کر ایک رب کریم کے سائے تلے جمع ہوجاؤ اورایک زبان ہو کر  کہہ دو۔

 ہم مسلمان ہیں ہم مسلمان ہیں ہم مسلمان ہیں ۔

         دوستو یاد رکھو! اگر ہم اپنے آپ میں  لڑتے رہے جھگڑتے رہے حنفی اہلحدیث بریلوی شیعہ سنی وغیرہ وغیرہ مسلکوں اور فرقوں میں بٹتے رہے  تو یاد رکھنا وہ دن دور نہیں جب ہمیں گاجر اور مولی کی طرح کاٹا جائیگا اور  ہمارا وجود اس دنیا سے مٹادیا جائیگا اور ہماری حالات سوائے خاک  چھاننے اور فقیری کی زندگي گزارنے کے اور کچھ نہیں رہیگا۔

      اخیر میں  میں تمام قارئین سے عرض کرتا ہوں جو بھی  حضرات اس تحریر  کو پڑھے وہ ضرور اپنے گھروں کی طرف دھیان دے کیونکہ  سب سے پہلے اصلاح گھر سے ہوتي ہے اپنے اولاد کواپنے  بیٹوں اور بہنوں کو اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ اتحاد واتفاق کا درس دے ۔

(بقیہ صفحہ3کا)         اور کفار کے درمیان بطور حد فاصل تھی۔ ایک دن وہ تھاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور  مسلمان مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے لیکن پھر ایک دن وہ آيا کہ  بہت قلیل عرصہ میں  پورا نقشہ بدل گیا اور  مکہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا،اس قلیل عرصہ میں یہ تبدیلی معمولی تبدیلی نہ تھی خانہ کعبہ کفارکے نزدیک بھی سب سے زیادہ محترم تھا اور اس وقت بھی انٹرنیشنل شناخت کا حامل تھا،اس گھر پر پرچم توحیدلہرانے کا مطلب صاف ظاہر تھاکہ کفرپاش پاش ہوگیا اور اس کا پاش پاش ہونا یقینی تھا۔ اب اسلام کو دبانا ممکن نہیں رہا۔

الحمدللہ اس مختصر سی سورۃ کریمہ کا اعجاز آج بھی دنیا دیکھ رہی ہے اسلام میں آج بھی لوگ جوق در جوق داخل ہورہے ہیں ۔اور دن بہ دن اسلام کی  شان وشوکت اور نشرواشاعت  میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو کامیاب بنائےآمین ۔

Comment here