فیروز ہارونیکالم نگارمضامین

 فروغ امن عالم میں اردو تصانیف کا کردار

فروغ امن عالم میں اردو تصانیف کا کردار

 فروغ امن عالم میں اردو تصانیف کا کردار

فیروز ہارونی

  اسسٹنٹ پروفیسر ،جواہر لعل نہروں یونیورسٹی ،دہلی۔

آج کے مقالے کی شروعات البرٹ آئین اسٹائن کے قول سے کرتا ہوں ۔,, Peace cannot kept by force it can only be achieved by understanding ,,

    یعنی امن طاقت سے نہیں قائم کیا جاسکتا ہے یہ صرف سمجھنے کے ذریعہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اور بہترین سمجھ آپکو بہترین کتابوں سے ہی ملے گی ۔ اور بہترین کتابیں آپکو ہرزبان میں ملیں گی لیکن آج میں اردو تصانیف کے حوالے سے اور خاصکر اردو کے ادبی تصانیف کے حوالے سے بات کرونگا ۔۔

         پوری دنیا میں جن لوگوں نے اپنی اپنی تصنیفات کے ذریعہ سے شہرت پائ ہیں ان میں بر تر اندرسل ،جیمس جوائ ، بورگیس ، قاضی نظر الاسلام ، منشی پریم چند ، رابندرناتھ ٹیگور ، قرۂ العین حیدر ، راجندر سنگھ بیدی ، سارتر ، مو پاسا ، ناظم حکمت ، محمود درویش ، کافکا ، حرمن ہیش ، چیخوف ،خلیل جبران ، ٹی ایس ایلییٹ منٹو ، علامہ اقبال ، فیض احمد فیض ، علی سردار جعفری ، سر سید احمد خان ، مولانا ابوالکلام آزاد ، مودودی وغیرہ  ہیں جنکو دنیا اور کسی حیثیت سے جانے یا ناجانے  لیکن اپنی کتابوں کی معرفت دنیا انکو ضرور پہچانتی ہیں ۔

        یہ ایک مسلمہ حقیقت ہیکہ ہندوستان بھر میں اردو زبان کی پیدائش ہی امن و شانتی لانے کے لئے ہوئی تھی کیونکہ یہ حقیقت سب کو پتہ ہوگا کہ جب مختلف ممالک کے لوگ ہندوستان تشریف لائے یہاں کے لوگوں کے ساتھ بودوباش شروع کیا تو عوام کے زبان کو قدرے مختلف پایا ۔آپسی بول چال اور اشاروں کنایوں سے بات آگے بڑھی اور لگاتار ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سے ایک نیا زبان وجود میں آئ جسکو ہم اردو زبان کے نام سے جانتے ہیں اسلئے اردو زبان کو لشکر کی زبان بھی کہتے ہیں ۔کیونکہ جسطرح سے لشکر میں ہر صنف اور ہر مذہب کے لوگ ہوتے ہیں بعینہ اردو میں بھی ہر زبان کے الفاظ مل جاتے ہیں ۔

      جب تک ہندوستان میں مغلوں کی حکومت رہی اردو کو قدرے شہرت نہیں ملی لیکن جیسے جیسے مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرتا گیا اردو کا چراغ روشن ہوتا گیا اور 1857 آتے آتے اردو ہندوستان بھر میں سب سے زیادہ بولی اور لکھی جانے والی زبان بن گئ ۔

                1857 سے بہت پہلے ہی اردو زبان اپنا دائرہ وسیع کر چکا تھا اسی زبان کو ذریعہ بناکر خواجہ بندہ نواز گیسو داراز ، بہاؤالدین باجن ، اور دیگر اولیا اللہ اور صوفیین نے عوام سے رابطہ قائم بھی کیا اور مزید اسی زبان کو ذریعہ بناکر  لوگوں نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت ، آپسی بھائ چارگی اور امن و آمان قائم  کی۔ چنانچہ شمس الر رحمن فاروقی شیخ بہالدین باجن (1506)  کو اردو کا باقاعدہ پہلا ادیب قرار دیتے ہیں اور انکی کتاب “ خزائن رحمت “  جسکو ذریعہ بنا کر انہوں دنیا میں امن امان قائم کرنے کی کوشش کی کو اردو کی ہی  کتاب قرار دیتے ہیں ۔اس سلسلے میں لکھتے ہیں ۔

      “ خزائن رحمت میں شیخ نے ایک عرصہ طویل کے لئے اردو زبان و ادب کے حدود اربعہ بیان کر دیئے ۔اس کی زبان ہندوی ، اس کی تحریریں ہندوستانی بھی ہیں اور فارسی بھی ۔ اس کے مضامین مذہبی صوفیانہ بھی ہیں اور دنیاوی بھی اسکی شاعری کی جڑیں عوام میں گہری ہیں اور ہر دلعزیز بن جانے کی صفت اس میں پوری طرح موجود ہے اس کے معاملات میں زہد و روحانی اور صوفیانہ پاکیزگی نمایاں ہیں ، اور وطن کی محبت بھی ایک نمایا وصف ہے ۔ ( اردو کا ابتدائ زمانہ از شمس الرحمن فاروقی ص ۶۹-۷۰)

      صرف یہی نہیں اس کے علاوہ بھی قاضی محمود دریائی ، سنت کبیر ، شیخ عبدالقدوس گنگوہی ، شیخ علی جیوگام دھنی وغیرہ کے تخلیقات و تصنیفات سے پتہ چلتا ہیکہ ان لوگوں نے دنیا بھر میں امن و امان قائم کرنے کے لئے زبان ہندوی جو بعد میں اردو زبان کہی گئ کو ہی ذریعہ اظہار بنایا ۔اس سلسلے میں مولوی عبدالحق ، محمود دریائ کے بارے میں لکھتے ہیں ۔

    “ ان کا ( قاضی محمود دریائ ) کا شرب عشق و محبت تھا اور یہی وجہ ہیکہ ان کا سارا کلام اسی رنگ میں رنگا ہوا ہے ۔ زبان ہندی ہے جس میں کہیں کہیں گجراتی اور فارسی عربی کے الفاظ بھی آ جاتے ہیں ۔ کلام کا طرز بھی ہندی ہے چونکہ موسیقی کا خاص ذوق تھا اس لئے ہر نظم کی ابتدا میں راگ راگنی کا نام بھی لکھ دیا ہے “ ( اردو کی ابتدائ نشو نما میں صوفیائے کرام کا کام از مولوی عبد الحق ص 58)۔

     یہ اردو کا ابتدائ دور تھا اس وقت بھی اردو ایک امن و شانتی کی بولی تھی صوفیائے کرام اسی زبان کے ذریعہ سے پورے ہندوستان اور اس کے گردو نواح کے دوسرے ممالک تک میں دعوت و تبلیغ اور حصوصا امن آتشی کا پیغام دیا کرتے تھے ۔

سامعین :- 

       زبان انسانی زندگی اور انسانی کلچر کا ایک جز لا ینفک ہے چنانچہ زبان کو  “ جزبات کی سانس “ کہا گیا ہے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں امن کو قائم رکھنے میں اردو زبان و ادب کا شروع سے ہی بہت بڑ ا کر دار رہا ہے ۔

      چنانچہ آپ دیکھئے مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر اپنے عمر کے آخری پٹاؤ میں خود اپنی تصنیفات ،روز نامچہ ،اخبار اور شاعری نیز عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے لئے اردو زبان کو ہی استعمال میں لائے تھے ۔

       اسی زمانے میں سر سید احمد خان نے اردو زبان کو ایک نئ پہچان  دی اور اردو زبان کو امن و امان قائم کرنے کا ذریعہ بنایا ۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے سید الاخبار کے ذریعہ سے ہندوستان میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کی اور کچھ ہی دنوں بعد “ آثار الصنادید “ کے ذریعہ سے دلی اور گردونواح کے آثار قدیمہ کو جمع کر لوگوں کو امن و شانتی کا پیغام دیا ۔

1857 کے بغاوت کے بعد ملک کی حالات بد سے بدتر ہوگئ تھی انگریز ہندوستانیوں اور خصوصا مسلمانوں کو زود و کوب کرنے انکو نیچا دیکھانے میں لگے ہوئے تھے۔ایسے نازک وقت میں اسی زبان اردو نے امن و آشتی قائم کرنے میں سب سے پیش پیش کام کیا  زمانے میں نہ صرف اردو ہندوستان کی زبان تھی بلکہ برطانیہ میں بھی اردو بولی اور پڑھی جاتی تھی ۔

1857 سے پہلے سودا نے قصیدے سے میر تقی میر نے شاعری اور مثنوی سے غالب نے شاعری اور خطوط اود دیگر کتابوں سے امن آمان قائم کرنے اور انگریزوں کو ہندوستانیوں کے ساتھ بے جا ظلم  کرنے سے روکا ۔۔

       فروغ امن عالم میں اردو زبان پر سب سے اچھا  اور سچا اگر کسی شخص نے کام کیا ہے تو وہ سر سید احمد خان ہیں انہوں نے 1857 کے بعد کے پیدا ہوئے حالات سے سمجھوتا نہیں کیا بلکہ اپنی تصانیف کے ذریعہ سے امن و امان پھیلایا ۔چنانچہ انکی تصنیف  اسباب بغاوت ہندو ، تاریخ شر کشی بجنور  ، جام جم ، وغیرہ تصانیف  لکھ کر اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہندوستانیوں پر بے جا ظلم و زیادتی نہ کیا جائے نیز  1857 کے غدر میں صرف ہندوستانی ذمہ دار نہیں تھے بلکہ اس میں ہندوستانی کے ساتھ ساتھ انگریز بھی برابر کے مورود الزام ہیں ۔

       آگے چلکر سر سید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا جہاں سے انہوں نے انگریزوں اور مسلمانوں کو براہ راست خطاب کیا ۔ تہذیب الاخلاق کے ذریعہ سے انہوں نے ہندوستانیوں کے کمزوریوں کا بھی اجالا کیا اور انگریزوں کو بھی آئنہ دیکھا نے کا کام کیا ۔جس سے نہ صرف انگریزوں میں بلکہ من جملہ ہندوستانیوں میں بھی امن و شانتی قائم ہوتا رہا ۔

1857 سے 1947  آتے آتے اردو زبان نے بہت سارے ادیب پیدا کئے جس نے اپنی اپنی تصنیفات کے ذریعہ سے عالمی پیمانے پر امن و امان قائم کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔جس میں نذیر اکبر آبادی سے لیکر اکبر الہ آبادی تک اور ڈپٹی نذیر سے لیکر مولانا عبد الحلیم شرر تک قابل ذکر ہیں ۔

     اس دور میں ڈپٹی نذیر نے مراۂ العروس ،فسانہ مبتلہ ، ابن الوقت ، تو بہ النصوح ، ابن الوقت لکھا اور پنڈت رتن ناتھ شرشار نے فسانہ آزاد ، اور مولانا عبد الحلیم شرر نے فردوس بریں لکھا ۔گرچہ یہ کتابیں ادبی کتابیں ہیں مگر باوجود اس کے ان کتابوں نے سوسائٹی اور سماج مین امن آمان پھیلانے اور سماجی نا برابری کو سدھارنے میں بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔چنانچہ ڈپٹی نذیر کی مراۂ العروس ، ابن الوقت اور توبہ النصوح ایسے ناول ہیں جس نے عورتوں اور مردوں کو شوہر اور بیوی کو اچھی زندگی جینے کا طریقہ سیکھایا ۔یہ کتابین نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ممالک میں بھی خوب پڑھی گئ اور ہندوستانیو کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے بھی ان کتابوں کو ہاتھوں ہاتھ قبول کیا۔۔

           بیسویں صدی آتے آتے اردو کا دامن بہت وسیع ہوگیا ۔اب مکتب سے لیکر کالج اور یونیورسیٹز تک اردو زبان کی پڑھائ ہونے لگی اب عام لوگ اسی زبان میں لکھنے پڑھنے بھی لگے لوگوں نے اس زبان کو نہ صرف ذریعہ معاش بنایا بلکہ اظہار خیال کے لئے بھی اسی زبان کو استعمال  کیا۔

       اس دور میں منشی پریم چند ، علامہ اقبال ، داغ دہلوی وغیرہ ادیب پیدا ہوئے ۔ منشی پریم چند نے سوز وطن ، منگل سوتر ، گئودان ، نرملا، پریم پچیسی وغیرہ ناول اور افسانے لکھے ۔اور افسانوں اور ناولوں کے ذریعہ سے پوری سوسائٹی کو آئنہ دیکھا ۔پریم چند کے ناولوں اور افسانوں کو پوری دنیا کے سیکٹروں زبانوں میں ترجمے کئے گئے ۔اسی دور میں علامہ اقبال نے بانگ دارا ، بال جبریل ، ضرب کلیم  اور ارمغان حجاز  لکھ کے نہ صرف مشرقی فلسفہ کا لوہا دنیا کو منوایا اور خود شاعر مشرق بن گئے بلکہ انہوں نے مشرقی اقدار اور مغربی تفوق کو بھی ساتھ ساتھ لیکر چلنے کی وکالت کی بقول علامہ اقبال ۔

مشرق سے ہوں بیزار نہ مغرب سے حذر کر 

فطرت کا اشارہ ہے ہر شب کو سحر کر ۔

    ملکی امن و آشتی اور فروغ امن عالم کے لئے اردو زبان کا استعمال  ترقی پسند تحریک نے بھی خوب کی ہے ۔۔چنانچہ فیض احمد فیض ،علی سردار جعفری ، جوش ملیح آبادی نے شاعری سے اور منٹو بیدی ، عصمت ، نے افسانوں اور ناولوں سے بیک وقت پوری دنیا سے مخاطب ہوئے ۔

    چنانچہ منٹو نے تقسیم اور طوائف پر افسانے لکھے جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ عصمت نے عورتوں کے مسائل پر لحاف اور بیدی نے بھی تقسیم پر لاجونتی لکھا ۔اسی ترقی پسند تحریک میں فیض نے نقش فریادی اور جوش نے خاتون مشرق اور خداکے قاتل ، علی سردار جعفری نے آزادی ، آٹھو،  ایک خواب وغیرہ لکھ کر پوری دنیا میں اپنا پیغام پہنچانے کا کام کیا ۔اس سلسلے میں فیض کا ایک شعر قابل ذکر ہے ۔۔

نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مئے پی ہے 

عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

     اسی دور میں مولانا محمد علی جوہر ، مولانا ابوالکلام آزاد  ، پنڈت جوہر لالا نہرو وغیرہ نے اردو زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا ، مولانا آزاد نے ترجمان القرآن ، تذکرہ ، الہلال ، البلاغ اور دیگر سیاسی میدان میں اردو کو اظہار کا ذریعہ بنایا اسی طرح پنڈت جواہر لالا نہرو نے بھی اردو کا ہی دامن تھاما ۔نیز پہلی عالمی جنگ کے بعد دوسری عالمی جنگ اور تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو الگ رکھنے میں اردو زبان نے  بہت مثبت کام کیا ہے ۔

            بیسویں صدی کے کے نصف اخیر اور آکسویں صدی کے شروعات تک پوری دنیا کا منظر نامہ ہی بدل گیا نت نئے ایجادات ہوتے گئے اور صنف صنف کے ذرائع سے پوری دنیا کا ہی بدل گئ ہے ۔اب لوگوں کے ذوق اور دیکھنے پرکھنے کا نظر بھی یکسر بدل سا گیا ہے ۔لیکن ایسی صورت حال میں بھی اردو نے اپنا دامن مزید وسیع وعریض کر دیا ہے ۔پہلے جہاں صرف چند ممالک میں اردو کی تعلیم ہوتی تھی اب دنیا بھر کے لگ بھگ ہر ترقی یافتہ ممالک  میں اردو بولی اور لکھی جا تی ہے ، اور فروغ امن عالم میں دوسرے زبانوں کے ساتھ ساتھ  شانہ بشانہ ملاکر چل رہی ہے جو ایک خوش آئند کام ہے ۔

      چنانچہ اردو زبان کے تصانیف چاہے وہ مذہبی ہوں ، سیاسی ہوں یا کے کسی اور فنون سے ، بغور پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہیکہ اردو زبان نے ہمیشہ از اوّل تا حال ہر طرح کی صنفی ، طبقاتی ، لسانی ، مذہبی تفریق اور تقسیم کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کی ہے اور امن آمان قائم کرنے میں ہمیشہ پیش رفت کی ہے اور آگے بھی رہتی دنیا تک اپنی پیش رفت جاری رکھے گی ۔

فیروز ہارونی 

Comment here