زبان و ادبمضامین

امن عالم کے فروغ میں مدارس کا کردار

امن عالم کے فروغ میں مدارس کا کردار ڈاکٹر عبدالقدوس

امن عالم کے فروغ میں مدارس کا کردار

      ڈاکٹر عبدالقدوس

            

زمین پر انسان کے کردار جو قرآن کے الفاظ میں استخلاف سے عبارت ہے اور علم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔تخلیق آدم کا فیصلہ اور حضرت آدم کو علم کی زیور سے آراستہ کرنا اس رشتے کا مظہر ہے۔انی جاعل فی الارض خلیفۃ کے فیصلے کے معا بعدوعلم آدم الاسماء کلھا اس حقیقت کا غماز ہے کہ زمین پر خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا تعلق جس صلاحیت اور تیاری سے ہے اس کی بنیاد علم ہے۔ علم اشیاء کے ساتھ خیروشر اور حق وباطل کا علم ہے جسے الہدیٰ کی جامع اصطلاح کے ذریعے بیان کیا گیا ہے اور جس کی روشنی میں انسان ان صلاحیتوں کابھرپوراستعمال کرکے ترقی کی معراج تک پہنچ سکتا ہے جو اس میں ودیعت کی گئی ہیں۔

    مذہب اسلام میں حصول علم کا معیاری مرکزمسجد یا اس سے متصل مدرسہ ہواکرتا تھے۔مدرسہ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کی جمع مدارس ہے۔اصطلاحی معنوں میں دین کی اعلیٰ درسگاہوں کے لئے مدرسہ کا لفظ استعما ل ہوتا تھا۔آج کل عالم عرب اور برصغیر ہندو پاک میں مدرسہ کا لفظ عام طور پر ایسے اداروں کے لئے استعمال ہوتا ہے جہاں پرابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن کا انتظام ہے اور اعلیٰ دینی درسگاہوں کے لئے”جامعہ“کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

    مدرسہ کی تاریخ مسجد سے شروع ہوتی ہے۔دور رسالت میں مسجد ہی اصل درسگا ہ ہواکرتی تھی جہاں علم کے پروانے شمع رسالت کے گرد طواف کرتے تھے۔بعد میں آگے چل کر جامع مسجد علوم وفنون کا مرکز بنتی گئی اور اس کے علمی حلقے عالم اسلام میں بڑے معروف ہوئے۔

       مدارس کی ضرورت، اہمیت اور افادیت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔مدارس کی ہمہ جہت خدمات پر جن حضرات کی گہری نظر ہے اور تاریخ کا ایماندارانہ اور منصفانہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔اسلام کے آفاقی پیغام سے ملک وملت کو روشناس کرانے کا فریضہ یہی مدارس انجام دیتے ہیں۔مدارس ہی کا فیض ہے کہ مسلم سماج کا رشتہ اسلامی اقدار وروایات اور تہذیب وثقافت سے استوار ہے۔وطن عزیز میں اسلام کے تحفظ وبقاکے اور قیام امن کے سلسلے میں مدارس کی خدمات نا قابل فراموش ہے۔مدارس مسلمانوں کے ثقافتی قلعے کے محافظ، اسلام کی بقائے حیات کے لئے شہ رگ اور پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں۔مسلم معاشرے کی مذہبی واخلاقی اقدار انہیں کے رہین منت ہیں۔ان کا ماضی بھی تابناک ہے اور حال ومستقبل بھی اسلامی امیدوں کی آماجگاہ۔

    9/11کے بعد ایک خاص مقصد کے تحت منصوبہ بند طریقے سے جتنا زہریلا پروپیگنڈا دینی مدارس، طلبہ، علماء اور صلحاء کے بارے میں کیا گیا ہے، شاید ہی اتنا کسی اور طبقے کے بارے میں ہوا ہو۔ دینی مدارس کے اْجلے دامن کو کن کن طریقوں سے داغدار کرنے کی بھونڈی کوشش نہیں کی گئی؟ دینی مدارس کو کس کس طرح دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی؟۔اسلام، مسلمان اور مدارس کوایک خاص رنگ میں پیش کیا گیا اور پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اسلام ایک دہشت گرد مذہب ہے،اس کی تعلیمات انسانیت کے خلاف ہے،مسلمان ایک وحشی قوم ہے،دہشت گردی اورقتل وخونریزی ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کا اڈہ ہیں۔یہاں پڑھنے والے طلباء اسلحہ باز،اسلحہ ساز ہوتے ہیں۔یہی لوگ پوری دنیا میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔دینی مدارس میں ہونے والی جسمانی ورزش کو دہشت گردی کی تربیت کہا گیا۔ کسی شخص کی انفرادی غلطی کو مدارس و علماء کے سر تھوپنے اور پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ جو کام کالج اور یونیوسٹیوں میں ترقی کی علامت قرار دیا گیا، اسے مدارس کے لیے قابلِ تعزیر گردانا گیا۔ دینی مدارس میں ہونے والی جسمانی ورزش کو دہشت گردی کی تربیت کہا جاتا ہے، جبکہ اسکولوں میں ہونے والی ورزش کو ایکسرسائز کا نام دیا گیا۔ کالج کا نوجوان اگر کراٹے کلب جاتا ہے، اسے ایتھلیٹ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ مدارس کے لڑکے عصر کے بعد ریاضت کریں انہیں طالبانائزیشن کا خطرہ قرار دیا جائے۔ انصاف تو دیکھئے! اگر قومیت وتعصب کے بدبو دار نعرے لگانے والے سر عام ملک کو توڑنے کی بات کریں تو واہ واہ! اور اگر قرآن وسنت کے حاملین دل جوڑنے کی بات کریں تو نفرین اور آہ آہ۔ حکومت کی جاسوسی کرنے والے،سر عام مہلک ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار ہونے والے،دستی بموں کی فیکٹری چلانے والے ملک مخالف حرکتوں میں ملوث لوگ کون ہیں اس سے ہرخاص وعام واقف ہے۔لیکن کہیں کوئی ہنگامہ نہیں،کوئی بیان بازی نہیں،میڈیا میں کوئی تال ٹھونک، آر پار، سول تو پوچھیں گے پروگرام نہیں؟

    دوسری طرف مدارس پر ہر طرف سے اعتراضات اور طعنوں کی بوچھاڑ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، جتنی باتیں اتنے طعنے ہیں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اسلام، مسلمان اور مدارس اسلامیہ کی کردار کشی میں سب سے پیش پیش ہیں۔

    جدید پروپیگنڈہ کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ”دشمن کومارنے سے زیادہ اس کو برانام دواور برا نام دینے کے لئے پروپیگنڈہ میں ہر حربہ استعمال کرو“استعمار اسی حکمت عملی کو مسلمانوں کی تہذیبی زندگی پر حملہ کرنے کے لئے بروئے کار لارہے ہیں۔9/11کے بعد سے کی جارہی ہر عمل کے پس پردہ ان کا خبث باطن ہے۔ورنہ یہی طالبان جب اشتراکی روس کے خلاف تھے تو اہل مغرب کی نگاہ میں انسانیت کے نجات دہندہ(Savior) تھے۔یہ وہی افغان طالبان ہیں جن کی مسجدوں کی طرف رخ کر کے امریکی حکومت میں قومی سلامتی کے مشیرزبگینوبریزنسکینے پاک افغان سر حدکی ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے ہو کر بڑے حسرت بھرے لہجے میں کہا تھا”سرحد کے اس پار روسی ملحدوں کے زیر قبضہ مسجدوں سے آذان نہ سن کر میرا دل افسردہ ہورہا ہے“۔آج وہی امریکہ اور اس کے حواریین مساجد ومدارس کو اپنے منفی اور معاندانہ پروپیگنڈے کا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔

    مدارس کی طرف میلی نظر سے دیکھنے والے کبھی اس پر کیوں غور نہیں کرتے کہ مشرق ومغرب کے سیکولر تعلیمی ادارے کس درجے، کس نوعیت اور کس مقدار میں تنگ نظراور دہشت گرد پیدا کرتے ہیں۔یہاں یہ سوال بے جا نہیں ہوگا کہ مغرب ومشرق میں قوم پرستانہ،صہیونی، صلیبی، سنگھی اور طبقاتی دہشت گرد کس نرسری میں پیدا ہوتے ہیں؟۔دنیا کا کون سا مدرسہ ان کو ٹریننگ دیتا ہے۔ان کی خون آشامیوں پر اہل مغرب کے ہاں وہ تڑپ کیوں نہیں پائی جاتی انہیں دہشت گرد کہتے ہوئے ان کی روح کیوں کا نپ جاتی ہے؟

    مغرب کے حکمراں طبقے، سیاسی مفکرین، کلیسائی قیادت،صلیبی ذہنیت اور ہندوستان میں انہیں پروردہ تربیت یافتہ اندھ بھکت (سنگھی ذہنیت) کے حاملین کا بڑا مسئلہ مسلمانوں کی تعداداور آبادی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی وہ سوچ ان کے لئے سوہان روح ہے جس کے تحت وہ اسلامی تہذیب کے مطابق اپنا تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔تقویٰ کے ساتھ اسلامی شریعت کے مطابق زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔ہر قسم کے استعمار کی غلامی قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ان لوگوں کو ایسے مسلمانوں کے وجود پر کوئی اعتراض نہیں جو ہواکے رخ پر اڑنے کو تیار ہوں،جن کے دل ہرآن اسلامی تعلیمات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں،جو استعمار کی جنگی،سیاسی،یاانتظامی،افواج کے وفادار سپاہی بننے اور امت مسلمہ کے خلاف سلطانی گواہ بننے کے لئے تیار ہوں،یا جن کے لئے زندگی کامحورپیٹ کی پوجا ہو۔

    اسلام ایک آفاقی دین اور ملکوتی مذہب ہے۔اس کی تعلیمات میں روحِ انسانیت کی ان تمام مشکلات کا مداوا موجود ہے جو اسے دنیاوی امور میں مختلف موڑ پر محسوس ہوتی ہیں،لیکن اسے کیسے حاصل کیا جائے؟ان پریشانیوں کو خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام صفہ کے قیام اور وہاں جمع ہو کر صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ دور کردیا اور امت کو گویا یہ سبق دیا کہ اگر تمہیں دین اسلام کی بقا اور اس کی صحیح اور اصل شکل میں اشاعت مطلوب ہے اور اس کے ذریعہ اپنی دینی و تعلیمی حالت کو سنوارنا چاہتے ہو،تو تم بھی مقام صفہ کی طرح دینی درس گاہیں قائم کر کے اپنے کو اور اپنی نسلوں کو تعلیمات اسلامیہ سے روشناس کراؤ اور علم کی شمع روشن کر کے جہالت کا خاتمہ کردو۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اس مشن کو آگے بڑھایا اور مدارسِ اسلامیہ کے قیام کو کسی نہ کسی شکل میں لازمی سمجھ کر اس پلیٹ فارم کے ذریعہ امتِ مسلمہ کی تمام دینی،اسلامی اور معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے اور ان کی علمی تشنگی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی،جس کا لازمی اثر یہ ہوا کہ آج مدارسِ اسلامیہ اپنی مرکزی حیثیت کی بنا پر حیاتِ اسلامی کا جزوِ لانیفک ثابت ہورہے ہیں۔

    اسلامی مدارس حفاظتِ دین کے قلعے اور علوم اسلامیہ کے سرچشمے ہیں۔ان کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ایک طرف اسلامی علوم کے ماہر،دینی کردار کے حامل اور فکری اعتبار سے صراطِ مستقیم پر گامزن ہوں، دوسری طرف وہ مسلمانوں کی دینی و اجتماعی قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں۔ان میں تہذیب و ثقافت،غیرت و حمیت،ایما ن داری،وفاشعاری اور ان تمام اخلاقی و معاشرتی قدروں کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے،جن سے دنیا میں بسنے والے ایک امن پسند شخص کو آراستہ ہونا چاہیے۔

    ان مدارس نے امتِ مسلمہ کو دین کے ہر شعبے میں رجالِ کاردیے ہیں؛خواہ عقائد ہوں یا عبادات،یا معاملات،یا معاشرت،یا اخلاق،غرض کہ دینی زندگی کے تمام شعبوں میں امت کی راہ نمائی کے لیے افراد تیار کیے ہیں۔ان اداروں میں امت کے نونہالان غذائے روحانی کے ذریعہ نشوونما پاتے ہیں اور شدہ شدہ تعلیمات اسلام و اخلاقیہ سے شادابی و سیرابی حاصل کر کے ایک مضبوط تناور درخت بن کر عوام الناس کو اپنے گھنے سائے اور میٹھے پھلوں سے مستفید کرتے ہیں۔جس کے ذریعہ امت تازہ دم،تندرست و توانا ہو کر اسلامی دھارے کی طرف اپنی زندگی کورواں دواں رکھتی ہے۔

    استخلاصِ وطن کی تحریک میں دینی مدارس کے علماء وفضلاء کا جو رول رہا ہے،وہ ایک تاریخی ریکارڈ کا درجہ رکھتا ہے۔فضلائے مدارس نے ہی اسلام کی عزت و ناموس کی پاسبانی کی اور بگڑ ی ہوئی معاشرت کو سنوارا۔ان مدارس سے وطن کے سپاہی،ملک کے محافظ اور مجاہدین ملت پیدا ہوئے ہیں،جنہوں نے باطل کے ایوانوں میں رخنہ پیدا کردیا اور عملاً میدان میں اتر کر سرفروشی کی بھی سنت تازہ کردی۔

    ملک کی آزادی کے بعد ملت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کوپھر سے جمع کرنا اور تنکے سے آشیانہ بنانا جیسے مشکل ترین کام کو صحیح معنوں میں مدارس کے تربیت یافتہ علماء نے ہی انجام دیا۔ملتِ اسلامیہ کی دست گیری کی اور اسے منزل جستجو میں سرگرم کرنے کا فریضہ انجام دیا۔اس سلسلے کا سب سے اہم پہلو تعلیم کے پھیلاؤ اور خواندگی کے مشن کو تحریک دینے اور آگے بڑھانے کاہے۔”تعلیم سب کے لیے“کے فارمولے کے تحت مدارس و مکاتب نے بنیادی تعلیم کو اْن فقرزدہ اور خاک نشین طبقات کے لیے بھی آسان اور قابل حصول بنادیا،جہاں تک پہنچنے میں حکومتی مشنریاں تھک ہار جاتی ہیں۔

    مفت تعلیم، جو ایک فلاحی ریاست کے تصور میں ترجیحی حیثیت رکھتی ہے،ملک کے مدارس اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔تعلیم کو ہر اعلیٰ و ادنی طبقہ تک یکساں طور سے پہنچانے میں حکومتی اسکیمیں ناکام رہی ہیں؛لیکن دینی مدارس کا تعلیمی و تنظیمی ڈھانچہ ہرطبقے کے لیے یکساں طور پر یکساں تعلیم کو یقینی بناتا ہے۔خدمت خلق کے میدان میں دینی مدارس کے فضلاء کی خدمات نمایاں ہیں۔قدرتی آفات اور دیگر مواقع پر مدارس کے فضلاء اپنی خدمات فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔یہ مدارس اپنے طلبہ میں محنت و جفاکشی کا مزاج پیدا کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ بہت سے مدارس کے فضلاء آج ایسے عہدوں پر نظر آتے ہیں جو ان کے اختصاص سے ہٹ کر ہیں۔حال میں کئی یونیورسٹیوں کے ذمہ دار اساتذہ دینی مدارس کے فضلاء ہوئے ہیں اور اب تو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور عالمی زبانوں پر حاوی ہونا ان کے لیے کوئی بڑی چیز نہیں رہ گئی۔بہر حال امت کی تعلیمی حالت کو پروان چڑھانے،قوم و ملت کو عزت و شرافت اور باوقار زندگی عطا کرنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کو فروغ دینے میں مدارسِ دینیہ نے اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں۔مدارس مجموعی طور پر پورے ملک اور قوم کا اثاثہ ہیں۔ان کی حفاظت اور نصر ت و اعانت کی کوششوں میں ہاتھ بٹانا ہر ایک کا فریضہ ہے۔

    دینی مدارس کے دامن پر، تشدد پسندوں کی جانب سے جو الزام (دینی مدارس دہشت گرد اور امن مخالف ادارے ہیں) لگاہے وہ واقعی تناظر میں صرف ایک تہمت کی حیثیت رکھتا ہے دراصل مدرسہ مشن سے جس خاص طبقہ (اسلام مخالف طبقہ) کو تکدر اور انقباض ہے وہی، مدرسہ مخالف کاز اور حرکات میں مساعد ومعاون ہوتا ہے، اس جہت سے اس کے افعال واعمال، مدارس مخالف ہی ہوتے ہیں،چونکہ نظریاتی سطح پر اس مفروضے کو تشہیر دی جاتی ہے اور اسے عوامی مقامات پر نمایاں کیاجاتا ہے جس سے ذہن سازی اور فکرسازی کی راہیں بھی ہموار ہوجاتی ہیں مگر تشہیرکا سہارا اسے ناقابل تکذیب سچ بنادیتا ہے اور غالباً اسی منہج عمل نے مدارس اسلامیہ کے پر امن ہونے کے حوالے سے غور وفکر کی راہ کھول دی ہے اور یہ دعوت دی ہے کہ مدارس کی امن پسند شبیہ کو سامنے لایا جائے اور ان کی خدمات کو اس تناظر میں جانچا جائے تاکہ زہرزدہ فضاؤں  میں مدارس کے کردار کو زہریلی ہواؤں سے محفوظ رکھاجاسکے۔

    مدارس اسلامیہ کی خشت اول امن کے گارے سے تیار ہوتی ہے اور اس کے مقاصد واہداف میں سلامتی اور تحفظ کا سایہ فگن ہوتا ہے اس واقعیت کے باوجود یہ پروپیگنڈہ کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے اور انتہاپسندی کے مراکز ہیں، معروضیت مخالف ہیں۔پوری دنیا میں جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی وہ رحمۃ للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی، رحم جس کا کام، سلامتی جس کا اعلان اور تحفظ جس کا نظام تھا، اسی روشنی سے جلاپانے والے ہزاروں مدارس دینیہ گزرے دور سے لے کر آج تک اسی اساس پر قائم ہیں ہندوستان میں دینی مدارس بھی اسی نظام امن کے پیامبر اور محافظ ہیں، دینی مدارس کی بنیاد ہی امن وسلامتی کے عنوان سے بنتی ہے اوراس کی تشکیل بھی خیروخوبی کے صدائے عام سے ہوتی ہے۔

    اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کے بنیادی کردار سے انکار، ایک برملا حقیقت کا انکار ہوگا! جن بنیادوں پر ان کا قیام عمل میں آیا ہے اس کا نتیجہ اور ہدف صالح اقدار کی تشکیل و تعمیر ہے، ان مدارس کا پس منظر یا ان کی تگ و دو (Works) کا نتیجہ، بہترین علماء، صاحب کردار فضلاء اور انسانیت کے علمبردار، حاملین اسلام کی پیداواری اور معاشرہ کی برائیوں، قباحتوں اور داخلی شورشوں کا انسداد ہے درحقیقت ان مدارس کا جو اساسی منثور اور بنیادی ہدف (Main  target) ہی وہ ہے ”عالمی ضرورتوں کی اسلامی تکمیل“ یہی وہ دائرہ ہے جس کے تحت سارے مدارس کا وجود عمل میں آ یا ہے، گویا اپنے عمومی اور اساسی مفہوم میں مدارس دینیہ کی تاسیس عالمی ضرورتوں کی اسلامی تحصیل و تکمیل اورانسانی احتیاجوں کی بھرپائی ہے۔ یہی مدارس کا خاص ہدف ہے اور عام ہدف بھی، ان سے گریز، یا دامن کشی، اپنی اساس سے اعراض ہوگا، اوراگرایسا ہے تو واقعی یہ المیہ اور نامسعود (Unfortunate) ہے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ، حقائق کا صحیح اور مناسب جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اپنے اساسی منشور سے تھوڑے بہت گریزاں ہیں، یہ کوئی خواہ مخواہ کا قیاس اور رائے زنی نہیں، بلکہ موجودہ دینی اداروں کے اقدامات، رویوں اور عمل سے یہ بات معلوم ہوتی اور واقعی یہ بڑی تکلیف دہ ہے، اس حوالے سے دینی جامعات کو غور وفکر کی ضرورت ہے۔

    جہاں تک میں سمجھتاہوں وہ یہ ہے کہ ہماری دینی جامعات کی گریزپائی یا دامن کشی، فقط یونہی نہیں، اس میں دینی مدارس کی جدیدکاری کے عنوان سے چلنے والی تحریکات کے ردعمل کی نفسیات اور خوف کارفرما ہے اور شاید اس معاملہ میں مسلم علماء اور قدامت پسند ماہرین شرعیات کا عناد اور ہٹ دھرمی قابل معافی ہے کیونکہ وہ رد عمل کی نفسیات ہے، اگرچہ یہ ردعمل انتہا پسندانہ اور منفی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسے رد عمل سے مسلم امۃ کا نقصان ہے،اس حوالے سے غور وفکر اور تدبر کے مظاہرہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

    بہرکیف ان نقائص (جوکہ کچھ خاص حالات کے پیداوار ہیں) کے باوجود دینی مدارس کی افادیت، تعمیری حیثیت، اخلاقی ساکھ، تشکیلی امیج اور بنیادی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، آج بھی وہ مشعل راہ اور نقوش ہیں، اسے اپناکر، اقدار کی اصلاح کرسکتے ہیں، اخلاقیات کی اشاعت ہوسکتی ہے، تعلیم کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے، ناخواندگی کا انسداد ہوسکتا ہے، برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور ہر طرح کی قباحتوں کو فنا کے گھاٹ اتارا جاسکتا ہے۔

    درحقیقت دینی مدارس کا سارا نظام، عملہ طلبہ اور فاضلین جس کام اور مشن پر مامور ہیں وہ لاتفسدوا فی الارض کی تمثیل اطاعت پر مبنی ہے اس کا بنیادی مشن ہی معاشرے میں امن وسلامتی کی اشاعت ہے، جس قرآن وحدیث کی تعلیم ان مدارس میں ہوتی ہے اس کی خمیر ہی معاشرہ سازی اور انسانی نسل کی اصلاح وتعمیر ہے، مدارس دینیہ کے پورے مقاصد صرف اور صرف بنی نوع انسان کی اصلاح و تعمیر کے ارد گرد گھومتے نظر آتے ہیں، ان مدارس کا تعلیمی جائزہ یہ بتلاتا ہے کہ دنیا کا سب سے معتدل، اور متوازن نصاب مدارس اسلامیہ میں رائج ہے جس نصاب میں تشدد، انتہا پسندی اور غلو آمیزی کا درس نہیں ہوتاہے بلکہ امن وسلامتی، اصلاح وتعمیر اور معاشرہ سازی کی تعلیم دی جاتی ہے درحقیقت مدارس اسلامیہ کا نصاب وہ بہترین مشعل راہ ہے جس کی روشنی میں نصاب سازی اور ازسر نو تعلیمی نظام کی تخلیق پوری دنیا کو امن وسلامتی کی راہ پر لاکھڑا کرے گا، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سورج جیسے روشن حقیقت کو سمجھا جائے اوراسے برتاجائے۔

     مدارس اسلامیہ کا مکمل تعلیمی، تربیتی، اخلاقی، انتظامی، معاشی اور سماجی نظام اعتدال و توازن کا مظہر ہے اس کا ہرحصہ قابل اعتماد،اور ہر شعبہ اعتدال وامن پسندی کا داعی ہے مدارس کے صرف وبذل میں جس اعتدال کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ اقتصاد وتوازن کا اعلیٰ ترین مظہر ہے جس میں عیاشی، عیش کوشی اور سامان عیش وطرب کی فراہمی کے لئے سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوتا بلکہ بنی نوع انسان کے لئے سامان درس ہوتاہے،اس کا متوازن معاشی نظام ان تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کو یہ درس دیتا ہے کہ کھربوں اور کروڑوں روپے خرچ کرنے اور سامان تزئین کے بے پناہ استعمال کرنے کی وجہ سے آنے والے تعلیمی خرچ میں جو اچھال پیدا ہے اور جس طرح تعلیم کو مہنگا بناکر پیش کیا گیا ہے جس کی بناء پر ہزاروں اور لاکھوں غریب بچوں کی دسترس سے تعلیمی حصولیابی دور ہوگئی ہے وہ افسوس ناک ہے کاش کہ یہ عیاشی اور دھماچوکڑی ختم کی جائے تاکہ غریب سے غریب بچہ تعلیمی اسلحہ سے لیس ہوسکے اور علوم وفنون کا حاصل کرنا آسان ہوسکے۔

    مدارس دینیہ کا انتظامی نظام وقار وسنجیدگی اور عدل ومساوات کا بہترین نمونہ ہے اگر یہ نقوش ہماری ہم عصری، عصری یونیورسٹیاں اپنالیں توطلباء کی جانب سے ہونے والے احتجاجات اور اس کے نقصان میں ہونے والے ہرجوں سے محفوظ رہنا آسان ہوجائے گا۔ مدارس اسلامیہ کا اخلاقی نظام، اخلاق ومروت کے مظاہرہ کی دعوت دیتا ہے، سچ یہ ہے کہ طلباء علوم دینیہ کا حسن سلوک اور طرز معاشرت اتنا بلند اور ارفع ہے کہ اسے ہم سماوی رفعتوں سے تعبیر کرسکتے ہیں آج ضرورت ہے کہ دینی مدارس کے ان نقوش کو اپنایا جائے اور ریگنگ کی انتہاء پسندی جوکہ اخلاقی دہشت گردی کی ہی ایک نوع ہے، اسکا سدباب کیا جاسکے۔

     دینی مدارس، سراپا امن وسلامتی ہیں اس کا کردار ماضی میں بھی صاف ستھرا اور روشن تھا آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا درحقیقت دینی مدارس، ایک ایسا مشعل ہیں جس کی روشنی میں امن کا شہر قائم کیاجاسکتا ہے اورپرامن معاشرہ کی تکمیل ہوسکتی ہے آج اس کی ضرورت ہے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس ضرورت کو ضروری اور لازم سمجھاجائے۔

ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ملک میں قومی یکجہتی کے قیام اور امن و محبت کی فضا کو عام کرنے میں مدارس اسلامیہ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہندوستانی مدارس نے ملک کی آزادی کی تحریک اور اس وقت ہندوستانی عوام کے درمیان یکجہتی کے ماحول بگاڑنے والوں کے خلاف مہم میں کلیدی کردار اداکیا تھا اور آج بھی جب ملک میں نفرت کا ماحول قائم ہورہا ہے، اخوت،مساوات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے تو مدارس اسلامیہ ان حالات میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ برادران وطن کے ساتھ مل کر ملک میں امن و امان اور محبت وبھائی چارہ کا ماحول قائم کرنے۔ فرقہ پرست قوتیں مدارس اسلامیہ کو بدنام کرنے کیلئے مہم چلارہی ہیں ایسے حالات میں مداراس کے ذمہ داران کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

    اس وقت مذہبی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور فرقہ واریت کے تسلسل نے بہت سے نئے مسائل سے دوچار کیا ہے۔انتہا پسندی فی نفسہ مذموم ہے خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی،اس لئے کہ کسی کام میں اس انتہا تک چلے جاناجو شرعا اورعقلا غیر مطلوب ہے،منع ہے۔اس وقت پورے عالم اسلام بالعموم اور وطن عزیز بالخصوص جن تباہ کن مسائل سے دوچار ہے ان میں مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت بھی شامل ہے۔معمولی معمولی مسائل میں معاملہ اس قدر شدید ہو جا تا ہے کہ ایک دوسرے پرسخت قسم کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور بسااوقات معاملہ حد سے زیادہ سنگینی اختیار کرلیتے ہیں۔اس سلسلے میں دینی مدارس کو مثبت کردار ادا کرتے ہوئے معاشرہ میں وسعت نظری اور تحمل کے جذبہ کو فروغ دینے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔

    اخیر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مدارس کے سلسلے میں چند تجاویز آپ کی خدمت میں رکھوں تاکہ مدارس کی افادیت میں مزید اضافہ ہو اور قومی وبین الاقوامی سطح کے اسلام دشمن عناصر کو مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی کاکوئی موقع نہ ملے۔

    (۱)فاصلہ کی دیوار کوڈھانے کی کوشش:     ہر دور میں طاغوتی نظام کے علمبردار مختلف،سیاسی،حربی اور نفسیاتی ہتھکنڈوں کے ذریعے داعی اور مدعو قوم کے درمیان فاصلہ کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جارحیت کی دیوار، غیر ضروری مسائل کی معرکہ آرائی کی دیوار،پروپیگنڈہ مہم کی دیوار،اسلاموفوبیا کی یوار۔مگر ایسے میں مدارس کو حکمت،عزم واحتیاط بصیرت ودانش اور افہام وتفہیم اور دعوت دین کے ذریعے ان دیواروں کو ڈھانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔یہی بقائے باہم اور اشاعت وفروغ دین کی کلید ہے۔مدارس کے خلاف طوفان بد تمیزی میں مسلسل شدت آتی جارہی ہے۔آئے دن پرنٹ والیکٹرانک میڈیا مدارس کے خلاف اشتعال انگیزرپورٹ شائع کئے جارہے ہیں ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر مسلم براردران وطن کو مدارس سے جوڑا جائے،گاہے بگاہے انہیں مدعو کیا جائے،انہیں مدارس کا نظام دکھا یا جائے۔ان تک دعوت دین پہنچائی جائے۔پر امن اور خوشگوار ماحول میں اگر گفت وشنید ہوتو ممکن ہے بدگمانی دور ہو اورامن وسلامتی کی راہ کھلے۔

    (۲)     کھلے ماحول کو فروغ دیا جائے:      اس سیا ق میں خود محصوری اپنی دنیا میں مست رہنے والی ذہنیت اور پالیسی بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔دینی اور دعوتی نقطہ نظر سے یہ رویہ قابل مذمت ہے۔مدارس کے طلباء کو جدید حالات سے واقفیت،بدلتے رجحانات کی معلومات،نت نئے افکار ونظریات سے آگاہی انتہائی ناگزیر ہے۔اردو اور عربی کے ساتھ قومی زبان(ہندی)اوربین الاقومی زبان(انگریزی) میں مہارت وقت کی ضرورت ہے۔اس لئے کہ مدارس کی تحفظ وبقا اور دعوتی مشن کی تکمیل کے لئے ان دونوں زبانوں پر عبور حاصل کرنا نا گزیر ہے۔اس کے بغیر ملک کی اکثریتی طبقہ اور علماء کے درمیان راست تال میل نہیں سکتا ہے۔”زبان یارمن ترکی ومن ترکی نمی دانم“کا معاملہ جب تک رہے گا داعی اور مدعو قوم کے درمیان حجاب رہے گا اور جب تک یہ حجاب نہیں اٹھتا غلط فہمیاں باقی رہیں گی،شکوے اور اضطرابات جنم لیتے رہیں گے اور معمولی چنگاریوں کو تخریب پسند عناصر شعلوں میں تبدیل کرکے نشیمن کو خاکستر کرتے رہیں گے۔

    قومی تہواروں کے موقع پر سیکولر،انصاف پسند،امن پسند برادران وطن کو مدعو کیا جائے،ساتھ ہی ان کے مذہبی رہنما، اہل علم، دانشور، صحافیوں کو توسیعی خطبات کے لئے مدعو کیا جائے۔اس مقامی عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور مدارس کے سلسلے میں جو زہر ان دماغ میں بھرا گیا ہے وہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔

Comment here