عبد الرقیب مدنیمضامین

فروغ امن عالم  میں عربی شعراء کا کردار

فروغ امن عالم میں عربی شعراء کا کردار

فروغ امن عالم  میں عربی شعراء کا کردار

عبد الرقیب رضاء الکریم  مدنی

 یہ ایک مسلمہ حقیقت ھیکہ یہ عالم یہ دنیا اور اس میں رہنے بسنے والے تمام انسان و حیوان  یہاں تک  کہ جمادات  بھی امن کے متلاشی  ہیں سکون چاہتے ہیں شانتی چاہتے ہیں ۔ سب کوئی محبت والفت شفقت وعاطفت اور بھائی چارہ  کے پرسکون  سایہ میں زندگی بسر  کرنے کا خواہاں ہیں ، کیونکہ اس عالم میں جنگ وجدل ، قتل وغارت گیری، ہنگامہ اور فتنہ فساد  برپا کرنا گویا کہ اپنے آپ کو ہلاکت وبربادی  کی دعوت دیتا ہے  جس کا خامیازہ خود انہیں  کو اٹھانا پڑتا ہے اور ہر جانہ بھی اسی کو بھر نا پڑتا ہے۔

چونکہ شعراء۔  چاہے اس کا تعلق  کسی بھی زبان  سے ہو۔ اسی عالم کا ایک فرد  ہوتا ہے  ایک جز ہوتا  ہے، اس لیے گردوپیش  میں رونما ہونے والے  حوادث وواقعات  سے جس طرح  بقیہ عالم متاثر  ہوتا ہے ٹھیک  اسی طرح شعراء  بھی متاثر  ہوتے ہیں بلکہ شعراء   ادباء،  علماء،  مفکرین  اور اہل قلم  وفن میں حوادث  وواقعات کو  بھانپنے  کا مادہ کچھ   زیادہ  ہی ہوتا ہے، پھر جب وہ ان حالات  کے ایجابی یا سلبی پہلو پر قلم کو   جنبش  دیتے ہیں   یا زبان کو حرکت  تو یہ پیغام  آنا فانا عوام الناس  تک پہنچ جاتا ہے  اور سماج  میں انقلابی  شکل اختیار  کرلیتا ہے  بقول  احمد حسن زیات:۔

 فکل تورہ سیاسۃ او نھضۃ اجتما عیۃ انما تعدھا  تورہ فکریۃ تظھر اولا علی  السنۃ الشعراء  اقلام   العلماء  لقوۃ الحسن  فیھم  وصفاء  النفس  منھم  ثم ینتقل تاثرھم  وتطورھم الی سائر الناس  بالخطا  بۃ  والکتابۃ  فتکون  القورہ  او النھضۃ”

ترجمہ: تمام سیاسی انقلاب  اور اجتماعی  کو ششیں  اور تحریکیں  اسی ذہنی انقلاب  کا نتیجہ  ہوتی ہیں جن کو پہلے شاعروں  کی زبانیں  اور علماء کے قلم  اپنی حساس،  دور رسی  اور  پاکیزہ طبیعتوں  سے رونما کرتے ہیں  پھر تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ  ان کے خیالات  عوام میں پھیل کر ایک انقلاب  کا باعث  بن جاتے ہیں ۔ [ تاریخ الادب  العربی، احمد حسن الزیات، صفحہ  رقم/7، دار المعرفۃ  بیروت  سے  سن2004 میں طبع  شدہ]

 اس بنیاد  پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ فروغ امن عالم  میں عربی شعراء  کی شراکت  کسی دوسری زبان  کے شعراء  سے جدا نہیں اور کمتر بھی   نہیں ۔

عربی  ادب کے مؤرخین  اور مصنفین  نے عموما  تاریخ ادب  عربی  کو پانچ پانچ  ادوار  میں تقیم  کرتے ہیں جس کا ذکر  مندرجہ ذیل  ہیں:۔

1۔ زمانہ  جاہلیت:۔  یہ دور پانچویں صدی  عیسوی  کے وسط  سے شروع  ہوتا ہے اور 622ء میں آغاز اسلام  پر ختم ہوجاتا ہے۔

2۔صدر اسلام    تا عہد بنی امیہ:۔ یہ دور  اسلام کے آغاز  سے شروع  ہوتا  ہے اور 137ھ  میں عباسی  حکومت  کے قیام  پر ختم  ہوجاتا ہے۔

3۔ دور  عباسی  :۔ یہ دور عباسیوں کی حکومت کے قیام   سے شروع ہو کر 656 میں بغداد تاتاریوں کے  قبضہ میں جانے پر ختم ہوجاتا ہے۔

4۔  دور ترکی:۔ بغداد  تاتاریوں  کے قبضہ  میں جانے  پر اس دور کی ابتداء  اور 1440ھ کی انقلابی  تحریک  کے شروع  ہونے پر اس کی انتہا  ہوتی ہے۔

5۔ دور حاضر:۔ محمد  علی پاشا  کے  مصر پر حاکم ہونے سے   اس کی ابتداء  ہوتی ہے  اور اب تک یہی دور جاری ہے۔

ان پانچوں  ادوار  میں ہزاروں شعراء  پیداہوئے  اور ان کے ہزاروں کلام  امن  کے قیام کے تعلق سے ہونا عین ممکن ہے، جن سب کا احاطہ کرنا  یہاں ممکن نہیں ہے نیز یہ جائے حصر بھی نہیں ہے، اس لیے  میں ہر دور کےکچھ چنندہ شعراء    کا چنندہ  کلام  موضوع کے متعلق پیش کرنے  کی جسارت کرونگا  امید   کہ  قارئین کرام  !دنیا میں  قیام  امن کے لیے  پیش پیش    رہیں گے۔

عصر  جاہلی  کے شعراء  کے کلام   کا  ایک نمونہ:۔

 وما الحرب  الا ما علمتم  وذقتم۔                    وما ھو عنھا  بالحدیث  المرجم

 حتی تبعثوھا  تبعثوھا  ذمیمۃ۔                        وتضر  اذا ضریتموھا  فتضرم

 فتعرککم  عرک الرحا بثقا لھا۔                        وتلقح کیشافا   ثم تحمل  فتتم                                

                              [تاریخ الادب  العربی :41-43]

  جنگ کوئی معمولی   شی نہیں ہے جس کا مزہ تم  نے چکھ لیا ہے۔

 اور میری بات  اٹکل  بچو نہیں   ہے جس کا  تم کو  تجربہ  ہوچکا ہے۔

جب تم لڑائی  کو برانگیختہ  کروگے تو وہ آگ کی طرح بھڑ ک اٹھے گی اور وہ شعلہ  مارنے والی ہوگی ۔ پھر وہ لڑائی تم  کو اس طرح  پیش  ڈالے گی جیسے چکی اپنے نیچے کی کھال چمڑے  پردانہ  کا آٹا  پیستی ہے اور حاملہ  ہوگی پھر سال  میں دو مرتبہ  جنے گی اور دو بچے  ایک ساتھ جنے گی ۔

 ان چند  ابیات  کے قائل  زمانہ  جاہلیت  کے مشہور  ومعروف   عر حکیم زھیر  بن ابی سلمی   ہیں، آپ زھیر بن ابی سلمی  بن ربیعہ  بن رباح المزنی  ہیں، آپ کی  ولادت باسعادت609میلادی کو ہے۔ آپ کا مشہور معلقہ صحیح معنی    میں فروغ امن کے لیے کوشش کرنے والوں  کی تعریف  ومدح  میں لکھا گیا ہے۔ واقعہ کچھ یوں    ھیکہ  جاہلی دور میں جب مرہ  قبیلہ کی دوبااثر  شخصیتوں  حارث بن عوف اور ہرمہ  بن سنان  نے عبس  اور ذبیان  میں صلح کرانے کی کوشش کی اور انہوں نے دونوں قبیلے  کے مقتولین  کی  دیتیں (خون بہا)  جن کا مجموعہ  تین ہزار اونٹ  ہوتا تھا  اپنے ذمہ لیکر  جنگ کی آگ  کو  فرد  کردیا تو شاعر پر ان سرداروں کی عالی ظرفی  نے عالم  وجد طاری  کردیا ، چنانچہ   اس نے اپنے مشہور  معلقہ  کے ذریعہ ان کی مدح  کی اور بعد میں  بھی برابر  ہرمہ بن سنان  کی مدح  میں لمبے لمبے قصائد  کہتا  رہا ، انہوں   نے اپنے  معلقہ  میں ایک جگہ بڑے ہی نرم لہجے  اور خوش  اخلاقی  سے مد مقابل  کو  امن وسلامتی  کی طرف  دعوت   دیا اور جنگ  وجدل  کے بھیانک  انجام  سے  باخبر  کرتے ہوئے ان  ابیات  کا ارشاد   فرمایا۔

 انہوں   نے لڑائی کو آگ سے تشبیہ دیا  ۔ جس طرح   سے آگ  چنگاری  کو جنم  دیتی  ہے اسی طرح ایک لڑائی  متعدد لڑائی  کو جنم  دیتی ے۔  انہوں  نے  لڑائی  کو بچہ جننے والی  اونٹنی سے تشبیہ دیا وہ  اونٹنی جو سال میں دو بار جنتی ہے اور جوڑا جوڑا بچہ دیتی ہے  ، گویا کہ ایک لڑائی  چھوٹے چھوٹے بہت سارے لڑائی کو  اونٹی  کی طرح    جنم  دیگر چنگاری  کی طرح  بہت  دور تک  پھیلادیتے ہیں۔

عصر اسلامی  کے شعراء  کے کلام  سے  چند نمونے:۔

عہد بنو امیہ  کے تین بڑے شعراء میں  ایک معروف  شاعر  کا نام فرزدق  ہے ، انہوں  نے کہا:

تری  کل مظلوم الینا  قرارہ۔              ویھرب منا جھدہ  کل ظالم

  ہر مظلوم  کا ٹھکانہ  ہمارے پاس  ہے   ۔  اور ہر ظالم  ہم لوگوں سے بہت  تیز دور  بھاگتے  ہیں۔

 یہاں شاعر  فخر یلا  انداز  میں مظلوم  کی تائید میں شعر کہا ہے جس کا مختصر  خلاصہ یہ ھیکہ ظالم کو پناہ نہیں  دینا چاہئے  اس کی مدد نہیں کرنی چاہئے  اور مظلوم  کا ساتھ  دینا  چاہئے اس کو امن وامان  کے ساتھ  پناہ  دینا چاہئے۔

 آج دنیا کو اس کی بڑی ضرورت  ہے،  مظلوم  آج ایک ایک  انچ زمین کے لیے ترستا ہے  ، اپنے ہی گھر میں بے گھرہے، اس وسیع وعریض  دنیا میں انکے لیے  حدود بند  ہیں ، انہیں رہنے کے لیے  چھت  نہیں ہے کھانے کے لیے لقمۂ عیش نہیں   ہے اور ظالم  داد عیش دیتے ہیں   اسے “نابل” ایوارڈ سے  نوازا  جاتا ہے ۔

 عہد اسلامی  کے مشہور  شاعر  اور شاعر  رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  حسان بن ثابت  [رضی اللہ عنہ]  نے حقیقی  اخوت  اور سچا  دوست  کے بارے میں  کچھ یوں  فرمایا :

 اخلاء الرخاءھم کثیر۔                ولکن فی البلاء  ھم قلیل

 فلا یغررک حلۃ  من توخی۔       فما  لک عندنا  ئبۃ  خلیل

 وکل  اخ یقول: انا وفی۔           ولکن لیس یفعل  ما یقول

 سوی خل لہ حسب ودین۔        فذال  لما  یقول  ھو الفعول

 خوشحالی  میں دوست  واجبات   بہت   ہوتے ہیں ۔ مگر یہ حالی میں ہو کم ہی نظر آتے ہیں  اس لیے  تم  جس سے دوستی  کرنے جارہے ہو   اس سے دھوکہ  میں مت رہا کرو  کیونکہ مصیبت کے وقت وہ نہیں ہوتا ۔   ہر دوست  تو یہی کہتا ہے  میں تمہارا  سچا دوست  ہوں۔ لیکن وہ جو کہتا ہے  کرتا نہیں ہے۔

 سوائے  اس دوست  کے جو عزت  ووقار  کا مالک ہوتا ہے دین مذہب کا پیکر ہوتا ہے ایسا دوست جو کہتا ہے وہ کرکے دیکھاتا ہے۔

 عالمی امن کا دار ومدار انفرادی   واجتماعی  زندگی میں “امن” کا ہوتا ہے  اور ایک معاشرتی زندگی میں امن تبھی آسکتا ہے جب بہتر سے بہتر اور نیک طنیت والے دوست واحباب  مہیا  ہو  ، جس کی طرف شاعر  نے  بڑے  ہی سلھجے   انداز میں اور آسان  اسلوب  میں اشارہ  فرمایا ہے۔

عصر عباسی  کے شعراء  کے کلام  سے چند نمونے:۔

 پانچویں  صدی ہجری  کے شعراء میں ایک  مشہور  ومعروف   شاعر کا نام  شریف عباسی  ہے متوفی504ھ  انہوں  نے دوست  اور دشمن  میں ہر احسان  وبھلائی  کرنے کو صدقہ  قرار دیتے ہوئے  فرمایا ہے:

 وان من  شرائط  العلو۔                                  العطف فی  البؤس  علی العدو

قد  قضت العقول  ان الشفقۃ۔                           علی الصدیق والعدد صدقۃ

وکل  انسان  خلابد لہ۔                                   من صاحب یحمل ما اثقلہ

 فانما  الرجال بالاخوان۔                                   والبد  بالساعد  والبنان

مقام وعزت  وشرافت   کے لیے شرط  ھیکہ دشمن کے فاقہ کشی  پر بھی اس پر رحم کیا جائے  علقمندوں   کا یہ قطعی فیصلہ ھیکہ  دوست  ودشمن  دونوں  پر مہر بانی کرنا صدقہ  ہے ۔

 اور ہر انسان کے لیے ضروری ھیکہ  اسکا کوئی  دوست ہو جس   اس کے بوجھ کو ہلکا کرے۔

 لوگ اپنے دوست واحباب  سے پہنچاتے جاتے ہیں  اور ہاتھ  کلائی  اور انگلیوں  سے۔

سماج  اور ملک  کی ترقی کے لیے  ضروری ھیکہ  سماج  کے ہر فرد   کی ترقی ہو ، ایک طبقہ کو چھوڑ کر  اور اسے ضروری حقوق  سے محروم  کر کے کوئی  ملک  ترقی  یافتہ  ہو نہیں سکتا ،  اس لیے ہر ایک   کو برابر  کا حق  عطا کرنا چاہئے  ہر ایک کے لیے  احسان  وبھلائی   کا ہاتھ پھیلا  دینا  چاہئے۔ آج دنیا میں  کتنی ایسی  قوم   ہیں جو ظۂم  کے شکار  ہیں اور تفریق  کا شکار  ہو کر ترقی  وتقدم  سے  متخلف ہیں۔

چوتھی صدی ہجری  کےشعراء:۔ میں سے ایک مشہور ومعروف شاعر کا نما نامی ابو الفتح علی بن محمد  بستی ہیں، متوفی400ھ آپ نے صلح اور  صفائی  احسان  اور بھلائی  کرنے پر ابھارتے  ہوئے یوں قلم بند کیا ہے۔

 من کان للخیر منا عا فلین لہ۔                                    علی  الحقیقۃ  اخوان  واخدان

 من جاء بالمال  قال الناس قاطبۃ۔                                  الیہ  والمال  للانسان  فتان

 من سالم  الناس  یسلم  من  عوائلھم۔                          وعاش  وھو قریر العین  جذلان

جو بھلائي   اور خیر کو   روکنے   والا ہوگا  درحقیقت  اس کا دوست  واحباب  نہ ہوگا۔ جو مال  سے سخاوت  کرتے ہیں  تمام لوگ اسی  کی طرف مائل  ہوجاتے ہیں   اور مال    انسان کے لیے فتنہ  ہے  جس نے لوگوں  سے میل جول  رکھا  وہ ان کی مصیبتوں  اور تکلیفوں  سے محفوظ رہے گا اور اس  حال میں زندگی گذارےگا   کہ وہ ٹھنڈی آنکھ  والا پرسکون  اور خوش  رہے گا۔

عصر حاضر کے شعراء  کے کلام   کا نمونہ:۔

 مصر  میں فتنۂ بغاوت   کے وقت جنہیں قید  کر کے  جزیرۃ  سرندیپ  بھیج دیا گیا تھا  انہیں میں سے ایک شاعر مجدد  محمود  سامی پاشا  بارودی ہیں۔  اگر امر القیس کو شاعری  کی تمہید  اور قصیدہ   گوئی  کی اصلاح  کا شرف حاصل ہے  اور بشار  کوشاعری  کے ترقی دینے اور حسین  بنانے  میں فضیلت  حاصل  ہے  تو یقینا بارودی کے  سرعربی  شاعری  کی احیاء  وتجدید  کا سہرا  جاتا ہے۔انہوں  نے  جنگ وجدل  کے برے  نتائج  سے اپنی قوم کو کچھ اس طرح مخاطب  کیا ہے۔

 نصحت قومی: قلت  الحرب  مفجعۃ۔                       وربما تاج امر غیر  مظنون

 فخالفونی  وشبوھا مکابرۃ۔                                    وکان اولی  بقومی لو اطاعون

 تاتی الامور علی مالیس  فی خلد۔                          ویخطئی  الظق  فی بعض  الاحایین

[دیوان  البارودی التقدیم  مصر1/27:دار المعارف1917ء]

میری  قوم  کو  میں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا   کہ :

 شئی ہے کبھی کبھار  ایسی شئ آجاتی ہے   جو  وہم   وگمان   میں بھی نہیں ہوتا ۔

تومیر ی قوم  نے  تکبر  کرتے ہوئے  میری مخالفت  کی لیکن  اچھا ہوتا  اگر میری قوم میری بات سن لی  ہوتی  خواب  وخیال  میں جو نہیں ہوتا ہے کبھی ایسے معاملات  پیش آجاتے  ہیں اور بسا اوقات گمان  بھی  خطا کرجاتا ہے۔

انسان جہاں پیدا ہوتا ہے  فطری    طور پر  اس جگہ   سے محبت  کرتا ہے  اور کرنا بھی  چاہے لیکن  کچھ غدار ہوتے   ہیں جو ملک  کے لیے خطرہ  ہوتا ہے  اور کبھی کبھی اس کی وجہ سے دوسرے   معصوم  لوگ  بدنام ہوجاتے  ہیں ۔

عصر حاضر  کے شعراء میں سے ایک عراقی  شاعر  کا نام  محمد علی  محسن الکاظمی ہیں   جن کی ولادت20/اپریل1871 ء اور وفات1935ء  انہوں   نے اپنے وطن  کی حمایت  وحفاظت  پر ابھارتے  ہوئے کہا:

ومن  لم تکن اوطانہ مفحرالہ۔ فلیس لہ فی موطن  المجد  مفخر

 ومن  لم یبن  فی قومہ  ناصحا  لھم۔  فما ھو الا خائن یتستر

 ومن کان  فی  اوطانہ حامیا لھا  فذکراہ   فی  الانام  وعنبر

 ومن لم   یکن من دون اوطانہ  حمی۔  فذاک  جبان  بل اخس  واحقر

 وطن  جے کے لیے باعث فخر  نہ ہو تو شریفوں  کے وطن میں  اس کا کوئی جگہ  نہیں ہے۔

اور جو قوم  کا خیر خواہ  نہیں بن سکا  گویا  کہ وہ چھپا ہوا غدار  ہے

جو وطن  کا حامی ہوتا ہے  تو لوگوں  میں اس کی  یا مسک عنبر   کی طرح  خوشبودار ہوتی ہے

 جو وطن  کی حمایت   وحفاظت نہیں کرتا ہے  تو ہو بزدل   ہے  بلکہ اس سے حقیر اور گیا گذرا  ہوتا ہے۔

Comment here