زبان و ادبمضامین

امن عالم کے فروغ میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تحریری وتقریری خدمات ڈاکٹر عبداللہ صابر

امن عالم کے فروغ میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تحریری وتقریری خدمات ڈاکٹر عبداللہ صابر

امن عالم کے فروغ میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تحریری وتقریری خدمات

ڈاکٹر عبداللہ صابر

     معزز قارئین !

     میرے لئے یہ خوشگوار امر اور سعادت کی بات ہے کہ گذشتہ صدی کے بالاتفاق سب سے بڑے مسلم اسکالراوربلااختلاف امن واماں کابے باک علمبردار، امام الہند، ترجمان حقیقت مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کی”امن عالم کے فروغ میں تحریری وتقریری خدمات“ کے حوالے سے گفتگوکروں۔چند منٹوں میں تو کیا چند گھنٹوں میں بھی اس موضوع کا حق ادا کرنا ممکن نہیں ہے۔ مذہبیات، بین ملی سماجیات، سیاسیات، ادبیات اور صحافت کے جن اہم ترین مسائل کو مولانا نے اپنی زندگی میں بحث و نظر کو موضوع بنایا اور برتا تھا وہ ہمیں مسلسل باز بینی اور بازفہمی کی دعوت دیتے ہیں۔ عقیدہئ توحید اور وحدت دین کا نظریہ، ہندوستانی وطنیت، مسلم قومیت،عثمانی خلافت، عالمی وحدت اسلامی (پین اسلامزم)، عدم تشدد، ستیہ گرہ، تقسیم وطن، مذہبی رواداری اوربین مذاہب امن وآشتی جیسے موضوعات پرمولانا آزاد کے زاویہ ہائے نگاہ دور حاضر میں ملکی اور عالمی سطح پر گہری معنویت کے حامل ہیں اور قیام امن کے لئے کلید ہیں۔

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ

مٹتے نہیں ہیں  جن کے زمانے  سے نقش پا

     دور عثمانی میں مکہ مکرمہ میں ۱۱ نومبر سنہ ۸۸۸۱ء میں بنگالی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد خیر الدین کی ولدیت میں ایک عربی نزاد خاتون کے بطن سے پیدا ہونے والے ابو الکلام محی الدین پر سرسری سوانحی گفتگو ان کی شخصیت کی تہہ داریوں کو سمجھنے میں معاون ہوگی۔  ۷۵۸۱ء کے غدر کے دوران مولانا محمد خیر الدین مکہ منتقل ہوگئے تھے اور سنہ ۰۹۸۱ء میں اپنے کنبہ کے ساتھ کلکتہ واپس آگئے۔۶۱ سال کی عمر میں اردو، عربی، فارسی، بنگالی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ فقہ، حدیث، تفسیر، فلسفہ، عالمی تاریخ، ریاضیات اور سائنس کی تعلیم نے مولاناؒکی شخصیت کو بین علومی معرفت  Interdisciplinary Cognitive Approachکا تناظر عطا کیا۔ چودہ سال کی عمر میں مخزن، پندرہ سال کی عمر میں نیرنگ عالم، سنہ ۰۰۹۱ء میں المصباح، ۳۰۹۱ء میں لسان الصدق نکالنا، ۳۱ سال کی عمر میں زلیخا بیگم سے شادی، ۲۱۹۱ء میں الہلال اور۴۱۹۱ء میں البلاغ کی اشاعت، الندوہ اور الضیاء کی ادارت، ۲۴۹۱ ء سے ۶۴۹۱ء کے دوران احمد نگر کے قلعہ میں اسیری کے زمانہ میں اپنے دوست مولانا حبیب الرحمن شیروانی کو لکھے گئے ۴۲ خطوط پر مشتمل ”غبار خاطر“ (جوادب، فنون لطیفہ، فلسفہ اور دینیات کے دقیق مسائل پر ان کے خیالات کی ترجمان ہے)،حق وباطل کی درمیان معرکہ آرائی اور صراط مستقیم کی نشاندہی کرنے والی شاہکار کتاب”تذکرہ“ اورتفسیرمیں ”ترجمان القرآن“ جیسے علمی اور ادبی کارناموں کے دوش بدوش جنگ آزادی اور خلافت تحریک میں ان کے قائدانہ کردار، ۳۲۹۱ء میں ۵۳ سال کی عمر میں انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت، آزادی کے بعد وزیر تعلیم کی حیثیت سے ملک و ملت کی ہمہ جہتی خدمات، عراق، شام، مصر اور یوروپ کے بیرونی اسفار اور یوجی سی، آئی آئی ٹی اور آئی سی سی آر جیسے ادارہ جاتی تاسیسی کارنامے یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ایں خانہ تمام افتاب است۔

     اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولاناآزاد رحمہ اللہ بیسویں صدی کے سب سے عظیم اور لاثانی شخصیت تھے۔وہ حکمت میں عقدہ کشا،سیاست میں صاحب تدبیر،حکومت میں فیض رساں،بزم میں صاحب علم وکمال،رزم میں مجاہد وطن،سر پر قیادت کا تاج،پیشانی پر شرافت کا عکس، آنکھوں میں ایمان کا نور،زبان پر نعرہ حق اور پیام امن،سینہ پر محبت کی آئینہ بندی،دل میں انسانیت کا درد، کمر میں صبر کی تلوار، دوش پر لشکر کی عبا،ہاتھ میں استقامت کی عصا،پاؤں میں عزم وثبات کے موزے اور اتحاد وترقی کی راہ پر وہ سفر جس کی ہر منزل پر انسانیت کی فلاح وبہبود کا پیغام۔

     کروڑوں برس کی بوڑھی دنیا نے اپنی زندگی میں ان گنت ابوالکلام دیکھے ہوں گے لیکن جس ابوالکلام کو دنیا ڈھونڈ رہی ہے اور ڈھونڈتی رہے گی وہ ایک ذات نہیں انسانیت کے ایک دور کی تاریخ اور انسانی تمدن کے ایک زمانے کی داستان تھی،جسے 22/فروری1958ء تک دیکھا گیا،سنا گیا،دھرایا گیا لیکن اب پڑھا جا ئیگاکہ وہ خاک میں مل کر کیمیا بن گیا ہے۔اب وہ عالم نہیں سراپا علم بن گیا ہے جس کی تحصیل کے لئے درسگاہیں بنیں گی،کتابیں تحریر ہوں گی اورتحقیق کے نئے باب کھلیں گے۔(۱)

     مو لانا آزادؒ کی عظمت مختلف حوالوں اور ناحیوں سے مسلم ہے لیکن ان کی عظمت کا سب سے نمایاں اور امتیازی پہلو امن پسندی، فتنہ،فساد،فرقہ واریت سے دوری اور قومی یکجہتی کی راہ میں بے مثال قربانی ہے۔

      اس وقت پوری دنیا کا سب سے بڑااور اہم مسئلہ امن کا فقدان ہے۔ہرطرف بد امنی کا دور دورہ ہے، فتنہ وفساد،قتل وخونریزی اورجنگ وجدال کا بازار گرم ہے،انسانیت کراہ رہی ہے۔ہر طرف کٹی پھٹی لاشوں کی ڈھیرہے،معصوموں کی چیخ وپکار ہے اور مظلوموں کی فلک شگاف فریاد۔

     امن وامان، فردوسماج،قوم وملت،ملک وطن کی بنیادی ضرورت اور ترقی وخوشحالی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہرشخص کی یہ آرزوہے کہ دنیا امن وسکون کا گہوارہ بنے اور ہر طرف امن وآشتی کا پھریرا لہرائے۔قومی وبین الاقوامی سطح پرامن قائم کرنے اور اسے فروغ دینے میں افرادا وراداروں کاغیرمعمولی کردار ہوا کرتا ہے۔قیام ا من اورفروغ امن کی خواہش اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک انفرادی واجتماعی سطح پر ایماندارانہ کوشش نہ ہو۔اس سلسلے میں مولانا آزاد رحمہ اللہ کی خدمات اوران کا بے مثال کردار آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان کی تحریر وتقریر کا محور ہی”قیام امن‘‘ تھا۔انہوں نے فرد بن کر سوچنا چھوڑ دیا تھاوہ ہمیشہ ہر منظر کو امت کی آنکھ سے دیکھتے، ہر مسئلے پر امت کے نقطہ نظر سے غور کرتے،نفع ونقصان کو امن کے میزان میں تولتے،خیروشر کو امت کے پیمانے سے ناپتے،حسن وقبح کو امن کی کسوٹی پر پرکھتے۔ مولانا کی زندگی کا ہرایک لمحہ قیام امن کا ترجمان،ان کا قلم امت کا حدی خوان،ان کی سوچ امت کی اپروچ،ان کی تقریر امن کی تعبیر اور ان کی تحریر امن کی تصویر بن چکی تھی۔انسان اورامن،امن اور اسلام کو مولانا آزادؒ لازم وملزوم سمجھتے تھے وہ فرماتے ہیں:

”انسان ہی ہے جو فرشتوں سے بہتر ہے،اگر اپنی قوتوں کو امن وسلامتی کا وسیلہ بنائے۔اور انسان ہی ہے جو سانپ کے زہر اور بھیڑئیے کے پنجے سے بھی زیادہ خونخوار ہے، اگر راہ امن وسلامتی کو چھوڑ کر بہیمیت اور خونخواری پر اتر آئے۔۔۔یہی انسانیت اعلیٰ ہے جس کی تکمیل کے لئے دین ِالٰہی اور شریعت ِفطری کا ظہور ہوا۔اور یہی پیغام امن،رہنمائے صلح وصلاح اور وسیلہ فوز وفلاح جس کا دوسرااسلام ہے۔یعنی جنگ کی جگہ صلح،خون وہلاکت کی جگہ عمران وحیات اور بربادی وخرابی جگہ سلامتی وامنیت ہے۔وہ بتلاتا ہے کہ اگر انسان اپنی قوت ملکوتی اور فطرت صالح سے کام نہ لے تو وہ اپنی روح بہیمی سے دنیا کا سب سے بڑا خونخوار جانور ہے“۔ (۲)

قارئین کرام!   

     انیسویں صدی کی طرح بیسویں صدی کے نصف اول میں بھی مغربی استعمار واستبداداپنے عروج پرتھا۔ایشیاء وافریقہ کے بیشتر ممالک ان کی غلامی اور ظلم وجور کے شکار تھے۔انگریز،فرانسیسی،ڈچ،پرتگیز عالم اسلام کو اپنے جبرواستبداد کا نشانہ بنائے ہوئے تھے۔مرکز خلافت ترکی یوروپی سازشوں کی وجہ سے ”یوروپ کا مرد بیمار بن گیا تھا۔عربوں کو عرب قومیت کا سبز باغ دکھا کر ترکوں سے دودوہاتھ کرانے کوشش جاری تھی۔ان ناپاک سازشوں کا مقصد ترکوں کا زوال اور خلافت اسلامیہ کا خاتمہ تھا۔عالم اسلام کے امن وامان کو درہم برہم کرکے ان میں اختلاف وانتشار کی بیج بونا تھا۔

     انگریزوں نے ہندوستان کے امن وامان ا ورپیا رومحبت کے چمن میں نفرت کی چنگاریاں دہکا کر ہر ہر مہادیو،جئے بجرنگ بلی،ست سری اکال،اللہ اکبر کے نعروں سے اتنی ہوا دی کہ یہ مذہبی جنون جنگل کی آگ بن گیا۔جس کی لپیٹ میں ہندوستان کی قدیم روایات،انسانیت، مروت،ہمدردی،رواداری سب جھلس گئے جو کبھی نہیں ہوا تھا وہ ہوا۔ہندوستان جہاں ہر جگہ، ہر میلے اور ہر تہوارمیں سب ایک دوسرے کے ہم دوش ومعاون ہواکرتے تھے،جذبہ محبت سے سرشار اورعزت واحترام کارشتہ قائم تھا،وہاں کہیں اردو ہندی کی بحثیں تھیں تو کہیں قربانی اور جھٹکے پر ٹکراؤتھا۔اس وقت مولانا آزادؒ نفرت وتعصب کے ریگستان کو چشمہ خلوص ومحبت سے سیراب کرنے،فرقہ وارانہ تباہی وبربادی کی آگ میں خود جھلس کر انسانیت کو بچانے،ہندومسلم اختلافات کو دور کرنے،پیار ومحبت اور اخلاص ووفاکی سوکھی ہوئی نہر کو دوبارہ اپنے خون سے جاری کرنے کے لئے کفن بر دوش ہوکر اپنی پوری توانائی کے ساتھ، تحریری وتقریری صلاحیتوں سے لیس ہوکرایک جاوداں پیغام امن لے کر نمودارہوتے ہیں۔

     مولاناآزادؒ نے اپنے پورے وقفہ حیات میں ملت کی مسیحا ئی کی۔مسیحائی وہی کرتا ہے جو مرض جانتا ہو اور بے غرض ہوکر ہمدردی کے ساتھ انسانی درد کا مداواکر سکتا ہو۔ملت کی مسیحا ئی آسان کام نہیں ہے۔ مولانا ملت کی مسیحائی کرنا اس لئے جا نتے تھے کہ وہ ملت کو بحیثیت ملت دیکھتے تھے۔ وہ مسلکی، فقہی، علاقہ جاتی اورلسانی فرقہ پرستیوں سے پاک تھے۔انہیں یہ روگ چھو کر بھی نہیں لگاتھا۔یقینامولاناآزادؒ ملت اسلامیہ کے محسن اعظم ہیں۔ بیسویں صدی کے قائدین ملت میں وہ سب سے زیادہ قد آورہیں۔ حزبیت، فرقہ پرستی خواہ سیاست کی ہو یا مذہب کی،سے وہ کوسوں دورتھے۔حالات وظروف کیسے بھی ہوں، ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ معمولی ذاتی مسائل سے لے کر ملی اورملکی مسائل تک ہرسطح پروہ ایک اعلی معیار پر قائم رہے۔ کسی بھی حالت میں انہوں نے اپنے معیار سے نیچے اترنا گوارا نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت ہردورمیں قائم رہی اورمسلم بھی۔ کسی بھی دورمیں ان کی ہمہ گیرقیادت سے ملک و ملت کبھی مستغنی نہ رہی اور نہ ہی ان کی قیادت معطل رہی۔ ہردورمیں مو لاناآزادؒ کی قیادت ملک و قوم کی ضرورت رہی اوربھرپور طورپرکارفرمابھی۔

     مولانا آزاد کی ہشت پہلو شخصیت مسلم ہے لیکن اشخاص کی شخصیت متنوع ناحیوں سے اس وقت مسلم ہو تی ہے جب ان کے افکار واعمال، خصائص اور امتیازات سے افراد وسماج متاثر ہوں اوران سے لوگ علمی،ادبی،معنوی اور مادی طور پر مستفید ہوں اور ان کی متنوع افادیت کو محسوس کیا جا ئے۔رجال واشخاص بسا اوقات اپنے کمالات اور اوصاف کی بنا ء پرملک و وطن میں ہی نہیں بلکہ سارے عالم میں ایک پہچان اور ظاہرہ بن جا تے ہیں اور تادیر ان کی شناخت قائم رہتی ہے۔

     قیام امن اور اس کے فروغ کے لئے رواداری اور وسعت ظرفی کلید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام رواداری اورتکریم انسانیت کا دین ہے۔تاریخ میں اسلامی تہذیب سے بڑھ کررواداری کے نظائر کہیں اور نہیں ملتے۔مولانا آزاد رحمہ اللہ اسلام کو انسانی بہبود کا امین قراد دیتے ہیں۔ اسلام نہ صرف ایک سوسائٹی کی حیثیت سے بلکہ قوموں اور مذاہب کو متحد کرنے کی عملی حیثیت سے نسلی،قومی،جغرافیائی حدود کو نہیں مانتا۔مولانا سمجھتے تھے کہ مذاہب انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں۔ مذاہب کی ظاہرداریاں سچی اخلاقیات کے بغیرکھوکھلی ہوتی ہیں۔ مذاہب زندگی کے اصول دیتے ہیں، سیاسی منفعت خیزیاں نہیں۔ الہلال کی اسلامی احیائیت سے آزاد ہوکر مولانا آزاد نے مذاہب کے انسانیت پسند بقائے باہمی کے اصول اپنائے۔ ۷۴۹۱ کی آزادی اور تقسیم نے اورفرقہ واریت کے آسیب نے  ان رہنما اصولوں کونگل لیا تھا اورانسانیت پسندی کے سارے نعرے صدا بہ صحراہوگئے تھے۔ مگر مذہبی تکثیریت کومردہ تصور کرنا مناسب نہ ہوگا۔ دور جدید کے لئے یہی پیغام امن ہے اورمولانا آزادؒ اسی منہج کی تاحیات نمائندگی کرتے رہے، فرماتے ہیں:

     ”دین میں تفرقہ اور گروہ بندی سے بچیں اور اس گمراہی میں مبتلا نہ ہوجائیں جس سے قرآن نے نجات دلائی ہے۔۔۔اسلام کی دعوت نے تمام انسانوں کو جو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے دشمن ہورہے ہیں خدا پرستی کی راہ میں اس طرح جوڑ دیا کہ ایک دوسرے کے جانثار بھائی بن گئے۔ایک یہودی جو پہلے حضرت مسیح کا نام سنتے ہی نفرت سے بھر جاتا تھا،ایک عیسائی جو ہر یہودی کے خون کا پیاسا تھا،ایک مجوسی جس کے نزدیک تمام غیر مجوسی ناپاک تھے، ایک عرب جو اپنے سوا سب کو انسانی شرف ومحاسن سے تہی دست سمجھتا تھا،ایک صابی جو یقین کرتا تھا کہ کہ دنیا کی ہرقدیم سچائی صرف اسی کے حصے میں آئی ہے ان سب کو دعوت قرآنی نے ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے“۔(۳)

     اسلام قیام امن کی نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ اس کی پرزور تائید کرتا ہے۔اسلام سے بڑھ کر کسی اور فکر اور نظام میں قیام امن کی ضمانت نہیں ملتی۔جب تک اقوام کی خودی قانون الٰہی کے تابع نہ ہو امن عالم کی کوئی سبیل نہیں نکل سکتی۔جوع الارض کی تسکین کے لئے جنگ کرنا دین اسلام میں حرام ہے۔بر صغیر میں ہندو مسلم اتحادواتفاق،فرقہ پرستی اور فسادات سے احتراز قیام امن اور فروغ امن کی بنیاد ہے۔مولاناؒ کا کہنا تھا کہ اسلام  میں مجھے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جو ہندو مسلم اتفاق واتحاد کی راہ میں حائل ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ:

”خداکی آواز کے بعد سب سے بڑی آواز جو ہو سکتی ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز تھی۔اس وجود مقدس نے عہد نامہ لکھا،بجنسہ اس کے الفاظ ہیں:ہم ان قبیلوں سے جو مدینہ کے اطراف میں بستے ہیں صلح کرتے ہیں،اتفاق کرتے ہیں اورہم سب مل کر ایک امت واحدہ بننا چاہتے ہیں۔امہ کے معنی ہیں قوم اور نیشن اور واحدہ کے معنی ہیں ایک۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو (جن کی اکثریت نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا)میری قوم فرمایا تھا“(۴)

      ڈاکٹر ذاکر حسینؒ کے بقول مولانا آزاد ؒ کا مذہب لوگوں کو جوڑتا تھاتوڑتا نہیں تھا۔اس کے برعکس جن لوگوں کامذہب لوگوں کو توڑتا ہے جوڑتا نہیں ہے، وہ ان رموز کا وجدان کیسے کر سکتے ہیں۔اسی حقیقت کو مولاناآزاد طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کرتے ہیں:

”اتفاق، آہ!تم کیا جانو اتفاق کیا چیز ہے؟اتفاق ایک سفید کبوتر ہے جو اپنی چونچ میں زیتون کی شاخ لئے ہوئے نااتفاقی کی طوفان سے نجات دلانے کی خوشخبری سنا رہا ہے۔اتفاق چہچہاتی ہوئی بلبل ہے جو اپنی شیریں رگوں سے غمزدہ دلوں میں طرب پیدا کررہی ہے۔اتفاق خوبصورت عندلیب ہے آسمان میں اڑتی چلی جاتی ہے اور وہاں سے نسیم جنت بن کر واپس آتی ہے۔اتفاق آسمانی فرشتہ ہے،جو اپنے نورانی پر بہادر روحوں پر پھیلا دیتی ہے۔“(۵)

فروغ امن کے لئے مولانا آزاد رحمہ اللہ تحریری خدمات:

     مولانا آزاد کی طلسم تحریر، صحافت،ادب اور انشاء پردازی ہر شخص پر اپنا جادو کردیتا ہے۔اسلوب نگارش ایسا دلفریب اور ساحرانہ ہوتا ہے کہ ایک ایک سطر قلب کو مسخر کر لیتی ہے۔کون ہے جس کے فکرو خیال کے ساتھ اس کے لب ولہجہ اور اسلوب نگارش کی بھی نقالی کی گئی ہو، الفاظ، جملے اور تراکیب اڑالیے گئے ہوں؟۔ان کے سوا کسی کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوا۔زبان کی فصاحت و بلاغت اور زور قوت کا یہ حال ہے کہ آج بھی اگر کوئی ادیب پڑھتا ہے تو عش عش کرتا رہ جا تا ہے۔جب مولانا نے الہلال نکالا اس وقت وہ استقلال فکر حاصل کرچکے تھے ان کی اجتہادی سوچ طے ہوچکی تھی۔ ان کا اپنا منصوبہ تھا۔ ان کا خودساختہ سانچہ اوررویہ بن چکا تھا۔ وہ کسی کے زیر اثرنہیں رہ گئے تھے،وسعت معلومات، استنتاج اورترتیب نتائج میں وہ یکتا وبے مثال تھے۔ صحیح دین ان کی دعوت، وحدت امت ان کا مشن اور وحدت وطن ان کا منصوبہ تھا۔

     مسلمانوں کی سیاسی صحافت جس نے برطانوی استبداد کے خلاف مسلمانوں کاذہنی کارواں مرتب کیاوہ الہلال تھا۔الہلال مولانا کی صحافتی معراج تھااور یہ حقیقت ہے کہ الہلال سے بڑا ہفتہ وار تقریبا ایک صدی کے بعد بھی اردو صحافت پیش نہیں کرسکی۔اس کا نقش ثانی کسی سے نہ ہوسکا۔نہ اتنا بڑا مجلہ،نہ اتنا بڑا ایڈیٹر،نہ اتنا بڑا ذہنی،علمی،تاریخی، فکری اور جذباتی صحیفہ لوگ پڑھتے تو سر دھنتے تھے اور دیکھتے تو مست ہو جاتے تھے۔اس کی خوبیاں اس کے ساتھ ختم ہوگئیں۔وہ فقط ایک پرچہ نہیں عہد تھا۔ایک تاریخ تھا۔ایک دعوت تھاایک انجمن تھاایک تحریک اور ایک اکیڈمی تھا۔

     کسی ملک، کسی ریا ست،بلکہ اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر یو ں کہا جا سکتا ہے کہ ایک چھو ٹے سے خا ندان کی بنیاد بھی اگر فر قہ واریت پر رکھی گئی،تو اس کی قسمت میں تبا ہی و بر با دی لکھی ہو ئی ہے۔ہندوستان جس کی تہذیب بہت سی مختلف تہذیبوں کا سنگم ہے،جس کے بنانے میں مختلف قوموں،نسلوں،زبانوں اورمذہبوں نے حصہ لیا ہے اور اس کا اٹوٹ سلسلہ ہزاروں برس سے قائم ہے۔ جس کی سر حد کشمیرسے لے کر کنیا کما ری تک پھیلی ہو ئی ہے، ایسے ملک میں ادنی ترین فرقہ وا ریت کی کو ئی گنجا ئش نہیں ہو سکتی۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ فرقہ پرست عناصر فرقہ وارا نہ ذہنیت کی تخم ریزی میں ہمیشہ کوشاں رہے اور امن وآشتی کی راہ میں روکاوٹ پیدا کرتے رہے۔مولانا نے چونکہ ہندوستانی معاشرے کے معاملات ومسائل کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے ہندوستانی عوام کی زندگی کو قریب سے دیکھا اور سمجھا تھا،اس لئے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور متوازن فکرکی نمائندگی کے لئے الہلال نکالاجس کامقصدہندوستان کی آزادی،مسلمانوں کی وحدت،اللہ کی اطاعت،اسلام کی دعوت،امن کا پیغام، مشرق کی بیداری، غلامی کی بیخ کنی،جہاد کے ولولے،یقین کی دولت،نظم کی طاقت،ایمان کی نصرت،اتحاد کے جلال اور غیر ملکی استعمار کے خلاف ہندوستانی قوم کے اعلان مبارزت کا وثیقہ تھا۔ الہلال میں مولانا اعلان کرتے ہیں:

”ہندوستان کی نجات کیلئے،ہندوستان میں مسلمانوں کے بہترین فرائض کی انجام دہی کیلئے ہندو مسلم اتحاد ضروری ہے یہ میرا عقیدہ ہے جس کا اعلان میں 1912ء میں الہلال کے پہلے ہی نمبر میں کر چکا ہوں………….میراعقیدہ ہے کہ ہندوستان میں ہندوستان کے مسلمان اس وقت تک اپنے بہترین فرا ئض انجام نہیں دے سکتے جب تک وہ احکام اسلا میہ کے ماتحت ہندوستان کے ہندوؤں کیساتھ پوری سچا ئی سے اتحاد واتفاق نہ کر لیں……….“(۶)

     فروغ امن کے کئے عالمی اخوت کلچر کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔اسلام نہ صرف اہل ایمان کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے بلکہ پوری انسانیت کی عزت واحترام کا سبق سکھا کر عالمی اخوت کے کلچر کی بنیاد رکھی ہے۔مولانا آزاد رحمہ اللہ نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کلچر کے فروغ کے لئے اور امن عالم کے فروغ میں اس کی اہمیت وافادیت پر کافی زور دیا ہے۔اسلام کی اسی خوبی کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر برائن کہتے ہیں:

     ”اسلام نے مشرق کو بلکہ ساری انسانیت کو اخوت کا سبق دیا۔ہم ہندو ذات پات اور قومی امتیازات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ہمیں ابھی اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر سے اخوت کا سبق سیکھنا ہے“مولانا آزادالہلال میں لکھتے ہیں:

     انسانیت اور حق وعدل کے پرستاروں کے لئے امتیاز ایں وآں نہیں ہے۔وہ جو وطن کی قید سے منزہ زمین ومرزبوم کی تمیز سے پاک ہیں ان کے لئے خدائی زمین کاہر ٹکڑامقدس اوراس بندوں کا ہر گروہ محترم ہے۔وہ انسانیت کے خادم ہیں۔ان کی محبت نوعی کا شرف وطن وقوم کی ادنیٰ ترین تقسیموں سے آلودہ نہیں ہوتا۔اسلام اسی عالم پرستی کی دعوت لے کر آیا ہے۔وہ اپنے پیروؤں کو وطن پرست نہیں بلکہ انسانیت پر ست دیکھنا چاہتا ہے لیکن اگر تمام عالم ہمارا وطن اور اس لئے محترم ہے تو وہ خاک تو بدرجہ اولیٰ ہمارے احترام ِمحبت کی مستحق ہے جس کی آب وہوا میں ہم صدیوں سے پرورش پارہے ہیں۔اگر تمام فرزندان انسانیت ہمارے بھائی ہیں تو وہ انسان تو بدرجہ اولیٰ ہمارے احترام اخوت کے مستحق ہیں جو اسی خاک کے فرزند اور مثل ہمارے،اسی کی سطح پر بہنے والے پانی کے پینے والے اور اسی کی فضاء محبوب کو پیار کرنے والے ہیں“(۷)

     2/ستمبر1912ء کے شمارہ میں اتباع واعتماد اور اتحاد کا فرق واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مسلمانوں نے ہمیشہ آزادی سیاسی کو ہندوؤں کا مرادف سمجھا مگر خود اپنے تئیں بھولے رہے۔۔۔۔۔شاید آپ کی رائے ہے کہ ہندوؤں کے ساتھ اتحاد بھی مسلمانوں کے لئے مضر ہے مگر افسوس ہم اس سے متفق نہیں ہو سکتے“

”ہندوؤں سے تو ڈرنے کی ضرورت نہیں البتہ خدا سے ڈرنا چاہئے۔تم کو ہندوستان میں رہنا ہے تو اپنے ہمسایوں سے معانقہ کرلو۔۔۔۔اکر ان کی طرف سے روکاوٹ ہے تو اس کی پرواہ مت کرو، قومیں اگر تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتیں تو تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو“(۸)

     ہندو مسلم اتحاد مولانا آزاد کا مطمح نظر شروع سے آخر تک رہا اورجو چیز بھی اس راہ میں حائل ہوئی اس کے ازالے کے لئے زبان وقلم کے استعمال سے انہوں نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔اس ضمن میں ان کے 1912ء کے خیالات کا کسی قدر اندازہ اس عبارت سے ہو سکتا ہے:

ہندو مسلمانوں کا سوال بھی ایک بازی گری کا کھیل ہے اور بدبختی سے ناچنے والے ناچ رہے ہیں۔فوج میں پھوٹ پڑ گئی اور غنیم مطمئن ہے“

     مولاناآزاد کے انقلاب انگیز بلکہ قیامت خیز افکار وخیالات،نازک جذبات واحساسات، ان کی شعلہ بیانی وآتش نوائی اور قیام امن کے تئیں ان کی دردمندی کا اندازہ الہلال کے اس اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

”میں وہ صور کہاں سے لاؤں، جس کی آواز چالیس کروڑدلوں کو خواب غفلت سے بیدار کردے،میں اپنے ہاتھوں میں وہ قوت کہاں سے پیدا کروں کہ ان کی سینہ کوبی کے شور سے سرگشتگان خواب موت سے ہوشیار ہوجائیں۔آہ کہاں ہیں  وہ آنکھیں جن کو درد ملت میں خوں باری کا دعویٰ ہے،کہاں ہیں وہ دل جن کو زوال امت کے زخموں پر ناز ہے، کہاں ہیں وہ جگر جوآتش غیرت وحمیت کی سوزش سے لذت آشنا ہوں۔ آہ کہاں ہیں اس برہم شدہ انجمن کے ماتم گسار،اس برباد شدہ قافلے کے نالہ ساز،اس صف ماتم کے فغاں سنج،اس کشتی طوفاں کے مایوس مسافرجن کی موت وحیات کے آخری لمحے جلد گذر رہے ہیں اور وہ بے خبرہیں یا خاموش روتے ہیں۔مگر ان کے ہاتھوں میں نہ اضطراب ہے نہ پاؤں میں حرکت،نہ ہمتوں میں اقدام نہ ارادوں میں عمل کا ولولہ،دشمن شہر کے دروازوں کو توڑ رہے ہیں اور اہل شہر رونے میں مصروف ہیں،ڈاکوؤں نے قفل توڑ دئے ہیں اور گھر والے سوئے ہوئے ہیں۔لیکن ائے رونے کو ہمت اور مایوسی کو زندگی سمجھنے والویہ کیا ہے کہ تمہارے گھر میں آگ لگ چکی ہے،ہوا تیز ہے اور شعلوں کی بھڑک تیز ہے۔مگرتم میں سے کوئی نہیں جس کے ہاتھ میں پانی ہو،پھر اگر اسی وقت کے منتظر تھے تو کیا نہیں سنتے کہ وقت آگیا ہے۔اگر تم کشتی کے ڈوبنے کا انتظار کررہے تھے تو کیا نہیں دیکھتے کہ اب اس میں دیر نہیں“(۹)

     مذکورہ اقتباس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ مولا نا ایک عبقری اور عہد آخری شخصیت کے مالک تھے، ان کی تعلیم اور ان کا پیغام آفاقی ہے، جو انسان کو انسان سے نفرت کے بجائے محبت تعصب کے بجائے رواداری اور دشمنی کے بجائے دوستی،اخوت اور بھائی چارہ کا سبق سکھاتا ہے۔وہ علامہ اقبال کے مثالی مرد مومن کی عملی تفسیر تھے، جن کی گفتار اور کردار میں اللہ کی برہان تھی، جن کے طوفان سے دریاؤ ں کے دل دہل جاتے تھے:

ہو صحبتِ یاراں توبریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

’تذکرہ“ مولانا آزادشاہکاراور غیر معمولی تصنیف ہے۔اس کی بات ہی جدا ہے۔وہ منہج سلف کا ترجمان بھی ہے اور ادب وانشاء پردازی میں شاہکار بھی ہے۔تذکرہ جیسی کتاب آج تک اردو زبان میں لکھی ہی نہیں گئی۔ یہ کتاب فرقہ پرستی کی کاٹ، اس کی تردیداور امن کی نوید ہے۔ اس کتاب میں فرقہ پرستی کی تمام قسموں کو مو لانا نے مسترد کردیا ہے۔ تصوف، تقلید، حیلہ سازی، تاویل باطل،خارحیت،اعتزال اور ارجا ء وغیرہ کی ساری قسموں کومولانا آزاد نے باطل قرار دیا ہے اور محدثین کے طرزعمل اور اصول وعقیدہ اورمنہج کو بڑے والہا نہ انداز میں ثابت کیا ہے۔ وہیں سلف صالحین صحابہ کرام سے لے کر محدثین عظام اور صالحین کرام کے منہج،طرز فکروفہم ا ورعقیدہ و عمل کی مکمل داستان ہے۔

مو لاناآزاد ؒ علماء سوء کو بہت نا پسند کرتے تھے۔انہیں امن کی راہ کی سب سے بڑی روکاوٹ اورفتنے کا باعث سمجھتے تھے۔

”سانپ اور بچھو ایک سوراخ میں جمع ہو جائیں گے،لیکن علماء دنیا پرست کبھی ایک جا اکٹھے نہیں ہو سکتے کتوں کا مجمع ویسے تو خاموش رہتا ہے لیکن ادھر قصائی نے ہڈی پھینکی اور ادھر ان کے پنجے تیز اور دانت زہر آلود ہوگئے۔یہی حال ان سگان دنیا کا ہے ساری باتوں میں متفق ہوجا سکتے ہیں لیکن دنیا کی ہڈی جہاں سڑ رہی ہو وہاں پہنچ کر اپنے پنجوں اور دانتوں پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ان کا سرمایہ ناز علم حق نہیں ہے جو تفرقہ مٹا تا اور اتباع سبل متفرقہ کی جگہ ایک ہی صراط مستقیم پر چلا تا ہے بلکہ یکسر علم جدل وخلاف ہے۔نفس پرستی اس کی کثافت کو خمیر کردیتی اور دنیا طلبی کی آگ اس کی نیکی کے بخارات اور زیادہ تر کرتی رہتی ہے۔فساق وفجار خرابات میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی تندرستی کا نام صحت پیتے ہیں اور چوراور داکو مل جل کر رہزنی کرتے ہیں،مگر یہ گروہ خدا کی مسجد میں اور زہد وعبادت کی صومعہ اور خانقاہ میں بیٹھ کر بھی متحد ویکدل نہیں ہو سکتا۔اور ہمیشہ ایک دوسرے کو چیرتا پھاڑتا اور پنجہ مارتا رہتا ہے۔میکدوں میں محبت کے ترانے اور پیار والفت کی باتیں سننے میں آجاتی ہیں۔حضرت مسیح نے احبار یہود سے فرمایا تھا”تم نے داؤد کے گھر کو ڈاکوؤں کا بھٹ بنادیا ہے“ ڈاکوؤں کے بھٹ کا حال تو نہیں معلوم لیکن ہم نے مسجدوں کے صحن میں بھیڑیوں کو ایک دوسرے پر غراتے اور خون آشام دانت مارتے دیکھا ہے“(۰۱)  

     اس بیان کی روشنی میں گذشتہ دنوں تال کٹورہ اسٹیڈیم دہلی میں بریلویوں کی طرف سے ورلڈ صوفی کانفرنس میں اہل حدیثوں پر لعن وطعن، مولانا بدرالدین اجمل صاحب کا پارلیمنٹ میں اہل حدیثوں کے خلاف بیان بازی اور بہتان طرازی،مولانا سید سلمان ندوی صاحب کا مسلسل سلفیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ بس وقت بدلا ہے لیکن علماء سوء کے کردار وہی ہیں جن کی  نشاندہی مولانا نے تذکرہ میں کی ہے۔ مولانا کی تحریر ایک ایک لفظ اہل حدیثوں کے خلاف ان دنیا پرست مولویوں کے رویوں کا ترجمان ہے۔

فروغ امن کے لئے مولاناآزاد ؒ کی تقریری خدمات:

     مولانا ایک مسلم خطیب تھے ان کی خطابت کا اپنا خاص رنگ تھا۔آزادی ہند کی جد وجہد نے بر صغیر میں مختلف زبانوں میں بہت سے خطباء دئے لیکن جومعیاری خطابت مولا نا آزاد کی تھی کسی کی نہ تھی۔انہوں نے پوری زندگی میں خطابت سے تعلق رکھااور جب بھی تقریر کی شاہکار تقریر کی۔وہ خطابت جو ولولہ بن جائے،جذبہ و پیغام بن جا ئے اورراہنما و راہبر بن جائے بہت کم لوگوں کو نصیب ہو تی ہے۔جس طرح مولاناکی تحریرمدلل،بصیرت افروزاور حقیقت کشا ہو اکرتی تھی اسی طرح آپ کی خطابت بھی ہوا کرتی تھی۔آپ کی تقریروقت کے دانشور وں،علماء اور سیاست دانوں کیلئے ذہنی اور فکری غذا ہوا کرتی تھی۔مولانا آزاد کی خطابت صرف سیاسی نہیں ہو تی تھی۔وہ تعلیمی،سیا سی،سماجی،ادبی اور دینی مختلف صنف کی خطابت میں یکساں مہارت کے ساتھ پر اثر،معجز نما تقریر کر سکتے تھے اور کرتے تھے۔ان کی تقریر میں خطابت کی مسیحا ئی اور معجز نما ئی ہو تی تھی۔اگر ان کی تقریریں ہی تحریری شکل میں آجاتیں تو ان کی عبقریت کے ثبوت کے لئے کافی ہو تیں۔ان کی خطابت کا کمال یہ ہے کہ ان کی برجستہ تقریریں بھی جوش،جذبہ، فکرو خیال،معنویت،نکتہ آفرینی اور دلائل وبراہین کے ساتھ مسلح ہو تی تھیں۔ان میں منطقی ترتیب بھی موجود ملے گی۔جو جاذبیت،کشش اور ادبیت تحریر میں پائی جا تی ہے وہی سب کچھ تقریر میں بھی موجود ملے گی۔مولانا رحمہ اللہ کی خطابت کی شورش کاشمیری نے کیا خوب عکاسی کی ہے،فرماتے ہیں:

”آزاد خطابت کے ہر ادا میں ڈھلے ہوئے تھے۔زبان لونڈی،بیان خانہ زاد،فصاحت پیش کار،بلاغت خدمت گار،مطالعہ بے کراں،مشاہدہ بے پناہ،تجربہ ہر لحظہ،عربی جیب کی گھڑی،فارسی ہاتھ کی چھڑی،اردومحبوبہ،دماغ انسائیکلوپیڈیا،زبان شمع، سلاست لو،ذہانت معجزانہ،ظرافت ملیح،طریق ایسا کہ طبیعتیں خود بخود اس کی طرف کھینچتی چلی جائیں،اسلوب بے مثال،آواز پاٹ دار،لہجہ نستعلیق،الفاظ کا ٹانکہ ٹانکہ بولتا تھا۔اشارات چاند پہ ہالے کی طرح،استدلال آنکھ کی بینائی کی مانند،تمثیلات ہمرکاب،انفرادیت اس حد تک کہ اس کا افصح نام ابوالکلام تھا“۔

     امن عالم کے لئے مولانا آزاد ؒ کا نظریہ یہ تھا کہ ”میثاق مدینہ“کی طرز پر بقائے باہم کے اصول کے مطابق امن و امان کے ساتھ وہ پکے مسلمان بن کر ہندوستان میں رہے،سینکڑوں سال سے ہندوستان اس سانچہ میں ڈھل چکا ہے اور اس سانچہ کو نہ توڑاجاسکتاہے اور نہ بدلا جا سکتا ہے۔صدیوں سے ہندوستان کی تقدیر یہی ہے۔ہندوؤں کی ایک اقلیت نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا جس طرح مسلمانوں کی ایک اقلیت اس صورتحال سے اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ہندوستان کے مخصوص مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے بہتر مذہبی رہنمائی وہ  ہے جومولاناآزادؒ نے کی ہے:

”میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں،اسلام کی تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثہ میں ہیں، میں تیار نہیں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم، اسلام کی تاریخ، اسلام کے علوم و فنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرما یہ ہے، اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں، بحیثیت مسلمان میں مذہبی اور کلچرل دائرہ میں اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں، اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اس میں مداخلت کرے،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے۔میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جا تا ہیمیں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل ہوں،میں اس دعویٰ سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتا‘‘(۱۱)

”ہندوستان کی وسیع سر زمین سب کا استقبال کرتی رہی ہے اور اس کی فیاض گود نے سب کے لئے راہ نکا لی ہے۔انہیں قافلوں میں آخری قافلہ ہم پیروان اسلام کا بھی تھا۔یہ بھی پچھلے قافلوں کی نشان راہ پر چلتا ہوایہاں پہنچا اور ہمیشہ کے لئے بس گیا۔یہ دنیا کی دو مختلف قوموں اور تہذیبوں کے دھاروں کا ملان تھا۔یہ گنگا اور جمنا کے دھاروں کی طرح پہلے ایک دوسرے سے الگ بہتے رہے لیکن پھر جیسا کہ قدرت کا اٹل قانون ہے دونوں کوایک سنگم پر مل جانا پڑا“(۲۱)

     مولانا آزاد کی تقریر کا یہ اقتباس اس قابل ہے کہ خوبصورت طریقہ سے لکھوایا جائے،چھپوایا جا ئے اور دیواروں پر فریم کرواکے اسے آویزاں کیا جائے تاکہ صحیح راستہ کا تصور ذہن ودماغ میں واضح رہے اور پورے طور پر راسخ ہوجائے۔مسلمانوں کے لئے یہ بات واضح ہو نی چاہئے کہ غیرمسلم اکثریت کے ساتھ ان کی نوشتہ تقدیر بن چکی ہے۔وہ چاہیں یا نہ چاہیں ان کو اس ملک میں اسی حال میں رہنا ہے۔دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی طرح وہ اس ملک کی آبادی کا ناقابل انکار حصہ ہیں۔ مولانا مسلمانوں کو پورے فخر و اعتماد اور مساویانہ حقوق کے ساتھ ہندوستان میں رہنے کی ترغیب دیتے ہیں:

”اگر ہندو مذہب کئی ہزار برس سے اس سر زمین کے باشندوں کا مذہب رہا ہے، تو اسلام بھی ایک ہزار برس سے اس کے باشندوں کا مذہب چلا آتا ہے، جس طرح آج ایک ہندو فخر کے ساتھ کہ سکتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہے اور ہندو مذہب کا پیرو ہے، ٹھیک اسی طرح ہم بھی فخر کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں اور مذہب اسلام کے پیرو ہیں۔“

     مولانا کو اس بات کا یقین ہو چلا تھا کہ یہ مذہب کے جعلی ٹھیکیدار استعمار کا آلہ کار بن کر ملک کی آزادی،قومی یکجہتی، ہندومسلم اتحاد،ملک کی سالمیت اور امن وآشتی کی راہ سب سے بڑی روکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اس لئے انہوں نے ایسے عناصر کو للکارتے ہوئے اعلان کیا:

”میں بلا تا مل کے صاف صا ف کہنا چا ہتا ہوں کہ آج ہمیں ہندوستان میں نہ کسی ہندوسنگٹھن کی ضرورت ہے،نہ مسلم سنگٹھن کی ہمیں صرف ایک سنگٹھن کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے ”انڈین نیشنل کا نگریس“

     مو لاناؒ امن کی راہ کی ہرروکاوٹ کو ختم کرنا چاہتے تھے۔فرقہ پرستی کی بیخ کنی کرکے قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہتے تھے اس سلسلے میں ان یہ بیان کس قدر اہمیت حامل ہے جب انہیں 1923کے انڈین نیشنل کانگریس کے خصوصی اجلاس دہلی میں سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے خطاب کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ:

”میں نے آپ کا اس قدر وقت درودیوار کی فکر میں لے لیا حالانکہ ابھی یہ بات باقی ہے کہ ہماری جدوجہد کی بنیاد کا کیا حال ہے۔میرا اشارہ ہندو مسلم اتحاد کی طرف ہے۔یہ ہماری تعمیرات کی وہ پہلی بنیاد ہے جس کے بغیر نہ صرف ہندوستان کی آزادی بلکہ ہندوستان کی وہ تمام باتیں جو کسی ملک کے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے ہوسکتی ہیں‘محض خواب وخیال ہیں۔صرف یہی نہیں کہ اس کے بغیر ہمیں قومی آزادی نہیں مل سکتی بلکہ اس کے بغیر ہم انسانیت کے ابتدائی اصول بھی اپنے اندر نہیں پیدا کر سکتے۔آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کریہ اعلان کردے کہ سوراج 24گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے‘ بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بردار ہو جاؤں گا‘مگر اس سے دست بردار نہ ہوں گا کیوں کہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا۔لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہے۔“(۳۱)

”اگر آج قومیت کا احساس پیدا ہو جائے اور ہندو کا ایقان وید پر غیرمتزلزل رہے،مسلمان کا عقیدہ قرآن وحدیث پر غیر فانی رہے،سکھوں اور پا رسیوں کے عقا ئد مذہبی ودینی میں ایک چاول برابر بھی لغزش نہ ہو،پھر بھی وہ صدق دل،خلوص نیت،مستقل ارادے اور سچے ضمیر کیساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ہندوستا نی ہے۔۔۔۔۔یہی ہندو مسلم اتحاد ہے جو غلامی کے اس طوفان بلامیں کشتی قوم کیلئے بادبان نجات ثابت ہوا ہے۔یہی وہ زبردست قوت ہے جس کی جنبش ایک آن میں اژدہائے سفید کے منہ سے ہندوستان کا شکار اگلوا دے گی۔۔۔۔۔یہی وہ ہندو مسلم اتحاد ہے جس کی طاقت مسلم ہے“(۴۱)

     ایک جگہ مو لا نا آزاد رحمہ اللہ نے نا چا قی اور ناا نصافی کے نقصانات کو نہایت ہی تلخ انداز میں بیان کیا اور ہندو مسلم فرقہ پرست طاقتوں کو کچھ اس طرح جھنجھوڑا:

”آج ہم نا چاقی اور نا اتفاقی کی وجہ سے دھتکا رے گئے،لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں۔کبھی ہم نے اپنے اعما ل وکردار پر نگا ہ نہیں کی۔۔۔۔۔۔آج اگر فرزندان ہندوستان کی گردنوں میں طوق ہائے غلامی پڑے ہو ئے ہیں تو حیرت کیوں؟اگر آریہ ورت کے سپوت استبدادیت کے زنجیروں میں جکڑے ہو ئے ہیں تو تعجب کیا؟ہر وہ قوم مٹ جایا کرتی ہے جو تاریخ سے سبق نہیں لیتی“۔

     آزادی سے قبل قیامِ امن کے لئے مولاناؒکا سہ نکاتی فارمولہ:

     آزادی سے قبل ملک میں تین طرح کے نظریات تھے،جوایک دوسرے سے بالکل متصادم تھے۔ کانگریسی،مسلم لیگی اور امبیڈکروادی۔تینوں کے اپنے اپنے مطالبات اور تقاضے تھے۔ہرگروہ اپنی قوم کی مکمل نمائندگی اورحقوق کے طلبگار تھے۔اس سلسلے میں راؤنڈٹیبل کانفرنس میں گاندھی جی اور ڈاکٹرامبیڈکرکے درمیان اختلاف اور تلخ کلامی تاریخ کا حصہ ہے۔ڈاکٹر امبیڈکر،گاندھی جی کو ہندوں کا لیڈر تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور گاندھی جی اس سے کم پرکسی صورت میں راضی نہیں تھے۔پونا پیکٹ اسی نزاع کے سبب ہوا تھا۔ مولاناتمام تمام طبقات کی نمائندگی،مساویانہ حقوق کی فراہمی اور ملک کی سالمیت اور روشن مستقبل کیلئے جو خاکہ اور خطہ پیش کیاتھا وہ مولانا کی غیر معمولی ذہانت اور دور اندیشی پر دلیل ہے۔انہوں نے اس خاکہ کو 6/ اپریل 1946ء کبینیٹ مشن کے ممبروں کے سامنے رکھا تھا۔اس کے بعد 12/ اپریل 1946ء کو اسے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں پیش کیا اور خاصی بحث کے بعد ورکنگ کمیٹی نے اسے منظور کرلیا تھا۔پھر15/اپریل 1946ء کو ایک بیان کی صورت میں اخبارات میں شائع کرادیا تھاتاکہ مسلمان اور دوسری اقلیتیں اس پر غور کر سکیں۔اگر اس خاکہ کو مان لیاجاتا تو مولانا ؒ کے بقول یہ خاکہ اس ملک میں قیام امن اور فرقہ وارانہ مسئلے کا بنیادی حل تھا۔مو لانا نے پورے ملک کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا تھااس اسکیم کے تحت ہندوستان کے تمام صوبے A,B,Cتین گروپس میں تقسیم ہو تے تھے۔مولانا فرماتے ہیں:

”میرے فارمولے سے ہندوستان کے مسلمان اکثریت کے خدشے سے محفوظ ہو جاتے تھے۔اس میں یہ کہا گیاتھاکہ مرکز میں پانچ وزیر ہندو اور پانچ مسلمان ہوں گے۔ ایک سکھ، ایک اچھوت،ایک عیسائی اور ایک پارسی ہوگا۔ اس طرح چودہ وزراء میں سے پانچ مسلمان ہو تے اور مسلمان اقلیت کو ہندو اکثریت کے برابر نمائندگی ملتی۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ جن تین یا پانچ سالوں میں جیسا بھی آئین میں فیصلہ کیاجائے،ملک کا صدر ہندو ہوگا تو وزیر اعظم مسلمان ہوگا صدر مسلمان ہو گا تو وزیر اعظم ہندو ہوگا۔ یعنی مرکزی حکومت میں مسلمان اور ہندو برابر ہوں گے۔میں نے یہ بھی تجویز پیش کی تھی کہ اس فارمولے کو دس سال کے لئے آزمایا جائے اگر اس مدت میں یہ فارمولا کامیاب نہ رہا تو ملک تقسیم کردیا جائے۔موجودہ دور کھچاؤ کا دور ہے اس میں تقسیم سے مسلمانوں کوزیادہ نقصان پہنچے گا۔ حالات ایسی نازک منزل میں داخل ہو چکے ہیں کہ تقسیم کے نتیجے میں جو اقلیت اکثریت کے علاقوں میں ہوگی وہ خطرات میں گھر جائیگی“(۵۱)

مولانا نے مزید فرمایا کہ:

”گروپنگ اسکیم جو کرپس نے پیش کی تھی،فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کیلئے یہ اسکیم میں نے ہی کرپس کے حلق میں ڈالی تھی۔میں نے یہ سب باتیں کانگریس سے منو الی تھیں۔اس لیے کہ ملک کی آزادی کے بعد اہم مسئلہ ہندوستان اور برطانیہ کے سیاسی اختلافات کا نہیں تھا بلکہ ہندوستان کا فرقہ ورانہ مسئلہ تھا“۔

     یہ خاکہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت اور دانشورانہ فکر پرغمّاز ہے کہ وہ آزادی ملنے میں تاخیر کو قبول کر سکتے تھے،لیکن ادنیٰ درجے کی فرقہ پرستی کے سوال پر کسی طرح کی مفاہمت ومداہنت کے روادار نہیں تھے۔ ان کی نگاہ میں فرقہ وارانہ نفاق انسانیت کے لیے مہلک تھا۔مولانا کا خیال تھا کہ مسلمان جنگِ آزادی کے مرکزی دھارے سے ذرا بھی الگ ہوتے ہیں تو اس سے ملک اور ملت دونوں کا بڑا نقصان ہوگا۔ ملک میں نفرت کی ایک دیوار کھڑی ہو جائے گی۔انہوں نے ایک طرف مسلمانوں کو قدم قدم پر ہوشیار کیا کہ وہ کسی طرح کے بہکاوے میں نہ آئیں اور اپنے ہم وطنوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر انگریزوں کے خلاف ہر محاذ پر ساتھ ساتھ رہیں تو دوسری طرف انہوں نے کانگریس کو بھی خبر دار کیا کہ مسلمانوں کے جائز حقوق کو کسی طور بھی نظر انداز نہ کرے۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی مطالبوں کو منوانے کے لیے کسی طرح بھی نفاق کی راہ اختیار نہ کریں۔ آل انڈیا خلافت کانفرنس کانپور‘ 1925کے اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے کہا تھا کہ:

”موجودہ صورتحال کی بد قسمتی اس کام میں کتنی ہی دشواریا ں پیدا کر دے لیکن وہ تیار نہیں کہ اس نصب العین سے دست بردار ہو جائے۔وہ مسلمانوں کے جماعتی حقوق وفوائد کا تحفظ ضروری سمجھتا ہے لیکن اس طریق عمل سے انکار کرتا ہے کہ مسلمان ہندوؤں کے طرز عمل سے روٹھ کر اجنبی حکومت کی آڑ پکڑ لیں اور ان کی ہستی ہمیشہ ملک کی قسمت کے لیے ایک دھمکی کی طرح استعمال کی جائے۔اگر ہندوؤں سے انہیں منصفانہ طرز عمل کا مطالبہ کرناہے تو پوری قوت سے کرنا چاہیے۔لیکن ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ ہماری باہمی آویزش ملکی جنگ کے میدان سے ہمیشہ الگ رہے۔“

تقسیم ملک کے بعدقیام امن کے لئے مولاناآزادکی جدو جہد:     

مولانا آزاد عوام سے ذہنی گلی ڈنڈا کھیلنے کے خلاف تھے۔انہیں مسلمانوں سے متعلق شکوہ تھاکہ وہ آندھی کی طرح اٹھتے، بادل کی طرح چھا جائے اور غبار کی طرح بیٹھ جائے۔انہیں مسلمانوں سے متعلق عمومی شکایت تھی کہ وہ تاریخ وتجزیہ کے لئے نہیں بلکہ افتاد وہنگامہ کی مخلو ق ہیں اور ہیجان پر جیتے ہیں۔

     متحدہ ہندوستان کا جو نقشہ مولانانے پیش کیا اسے بروئے کار نہیں لایا گیااوربالآخر تقسیم کا مطالبہ مان لیا گیا۔یہ ملک کے لئے بہت بڑی ناکامی تھی۔1947میں ہندوستان اور پاکستان کی صبح آزادی خون میں ڈوب کر طکوع ہوئی۔ہندو مسلم فسادات برطانوی مشن کے زمانے ہی میں شروع ہو چکے تھے۔ابھی مشن ہندوستان میں ہی تھا اورقتل کے واقعات ہورونما ہونے شروع ہوگئے تھے۔مشن کے رخصت ہوتے ہی نواکھالی،بہار،گڑھ مکتیشر،امرتسر، لاہور،راولپنڈی وغیر ہ میں انسانی لہو ارزاں ہوگیا۔بستیوں کی بستیاں صرف اختلاف مذاہب کی جرم میں تاراج کی گئیں۔عورتیں اغواکر لی گئیں جوان قتل کردئے گئے،بچے مار دئے گئے، بوڑھوں کو موت چاٹ گئیں۔بربادی اتنی بڑی تھی کہ انسان وحشی بن چکا تھا۔پھر جب آزادی کا دن آیا دونوں طرف قتل عام تھا۔دہلی جو کبھی مسلمانوں کا شہر تھاجہاں کے چپے چپے میں مسلمانوں کی تاریخ  بکھری ہوئی تھی،مسلمانوں کے لئے آغوش قبر کی طرح تنگ ہو گیا۔جو بازار کبھی ان کے چہل پہل سے پررونق تھے ان کے لئے چتا ہوگئے۔مولانا نے شاہجہانی جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کی ایک فقید المثال لیکن مجروح ومضطرب اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے ایک دل گداز تقریر کی۔جذبات کی اندھی سواری پر سوار ہو کر مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ غبار کارواں بننے پر تلا ہوا تھا۔ ان کی بصیرت اس بے بصیرتی کے عہد میں بھی بھر پور روشنی پھیلا تی رہی اور ملک کا حساس اور دوربیں علما ء کا طبقہ ان کے ساتھ لگا رہا۔سرحد پارلٹے پٹے قافلے کو مسیحا نہ ملے۔ انسا نیت سسکتی رہی۔لٹے پٹے اپنوں کی لاشوں کے اوپر سے گذر کر خون کی ندیاں پار کرکے جب بے نام ارض پاک میں پہنچے تو ان کی انسانیت بھی نفس پر ستیوں کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہ گئی اور قائدین عظام تاج پوشی کے کاروبار میں مشغول ہو کر انہیں بھول گئے اور آج تک وہاں تاج پوشی کی جنگ سے فرصت نہیں ملی۔ادھر ملت کا مسیحا دہلی کی جامع مسجد میں ملت کے زخم خوردہ ایک لاکھ فرزندوں کی مسیحا ئی میں تڑپ رہا ہے،بلک رہا ہے اور ان کے اندر روح تازہ اور نشاط تازہ پیدا کر نے کے لئے جد وجہد کررہا ہے۔انہیں ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتا ہے اور انہیں ہندوستان میں نئی زندگی گذارنے کا درس دیتا ہے۔انہیں امن وآشتی کا پیغام اور مزدہ جانفزا سناتا ہے۔دہلی کی جامع مسجد سے اس نے ہندوستانی مسلمانوں کو جو درس دیا ہے وہی جدید ہندوستان میں مسلمانوں کے استقلال،پائیداری اور باز آباد کاری کا آئینہ بن گیا۔ اگر اس فیصلہ کن لمحے میں اس مسیحا کی مسیحائی نہ ہو تی اور یہ مسیحا بھی دیگر بڑے بڑے چنار کے درختوں کی طرح ڈھے جاتا تو پتہ نہیں ہندوستان کی ملت اسلامیہ کن حالات سے دوچار ہوتی۔شاید فرقہ پرست،فسطائی طاقتیں اسے لقمہ تر بنا کر ختم کر دیتیں۔کاش! اس وقت وطن چھوڑکر جانے والے قافلوں نے مولانا آزاد کی دوراندیشیوں کو سمجھاہوتا اور ان کے دل کی پکار سنی ہوتی توآج ہندوستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔مولانا آزاد کے اس تاریخی خطبے کالفظ لفظ آج بھی اپنی معنویت رکھتاہے:

عزیزان ملت!اس پر لیل ونہار کی بہت سی گردشیں بیت چکی ہیں۔میں نے تمہیں یہیں سے خطاب کیا تھا۔لیکن اس وقت تمہارے چہروں پر اضمحلال کے بجائے اطمینان تھااور تمہارے دلوں میں شک کے بجائے اعتماد تھا۔لیکن آج تمہارے چہروں کی پریشانی اور دلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے بے اختیار سالہا سال پہلے کی بھولی بسری کہانیاں یاد آجاتی ہیں۔میں نے تمہیں پکاراتم نے میری زبان قطع کرلی،میں نے قلم اٹھایا تم نے میرے ہاتھ قلم کردئیے۔میں نے چلنا چاہا تم نے میرے پاؤں توڑ ڈالے،میں نے کروٹ لینا چاہی تم نے میری کمر توڑ دی۔تم نے غفلت وانکار کی وہ ساری سنتیں تازہ کردیں جو روبہ انحطاط قوموں کا مقدر ہوتی ہیں۔

”جن سہاروں پر تمہارا بھروسہ تھا وہ تمہیں لاوارث سمجھ کر تقدیر کے حوالے کر گئے اور شاید اس لئے کہ تمہارے  نزدیک فقدان ہمت کا نام تقدیر ہے“

”عزیزو! اپنے اندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرلو،جس طرح کچھ دن پہلے تمہارا جوش وخروش غلط تھا اسی طرح آج تمہارا خوف وہراس بیجا ہے۔مسلمان اور اشتعال،یا مسلمان اور بزدلی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔وہ لوگ جو تمہیں چھوڑ کر چلے گئے انہوں نے تمہیں فرار ہونے ہی کے لئے اکٹھا کیا تھا“

”آج زلزلوں سے ڈرتے ہو،کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔آج اندھیروں سے کانپتے ہویاد کرو تمہاراوجود خود ایک اجالاتھا۔گھٹاؤں کا طوفان کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے ڈر سے اپنے پائجامے چڑھا لئے۔وہ آخر تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے،پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا،بجلیاں لپکیں تو ان پر مسکرائے،بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔صرصر اٹھی تو رخ پھیر لیا۔آندھیاں آئیں تو ان سے کہا کہ لوٹ جا ؤ۔

”یہ دیکھو‘ مسجد کے بلند مینار تم سے اچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کر دیا؟ ابھی کل کی بات ہے کہ جمناکے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا۔ اور آج تم ہو کہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتاہے۔حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اترگئے‘پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا‘ بجلیاں آئیں تو ان پر مسکرادئیے‘بادل گرجے توقہقہوں سے جواب دیا‘ صرصراٹھے تواس کا رخ پھیڑ دیا‘ آندھیاں آئیں تو ان سے کہا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں۔یہ ایمان کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانو ں سے کھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے اور خدا سے اس درجہ غافل ہوگئے جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔“(۶۱)

     تقسیم وطن کے بعد دوسرا کٹھن مرحلہ یہ درپیش تھا کہ تقسیم کے گھاؤ سے رسنے والے خون کے سیلاب کو کیسے روکا جائے اور سرحدوں کی دونوں جانب تبادلہ آبادی کا جو سلسلہ شروع ہوگیا تھا اس پر روک کس طرح لگائی جائے اور جو بچے کھچے لوگ یہاں رہ گئے ان کوہرطرح کا تحفظ کیسے فراہم کیا جائے۔یہاں کے مسلمان کسی بھی اعتبار سے کمزور نہ ہوں،انہیں مذہب کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے اس کیلئے مولا نا بہت زیادہ بے چین رہا کرتے تھے۔انہیں یہ فکردامن گیر تھی کہ کہیں اعلیٰ عہدوں پر فائزتمام لوگ پاکستان کا رخ کرلیں تو ہندوستانی مسلمانوں کا کیا ہو گا؟۔دوبارہ اس تناسب میں انہیں نوکریوں میں لگانا آسان کام نہیں ہوگا۔اس لئے مو لانا کی شدید خواہش تھی کہ انتظامیہ، پولیس،فوج اور دوسرے محکموں کے افسران ہندوستان چھوڑکرہر گز نہ جائیں یہ بہت بڑا مذہبی خسارہ ہوگا مولانا فرماتے ہیں:

”میں نے لیاقت علی سے یہ بھی کہا تھاکہ انتظامیہ،فوج،پولیس اور دوسرے محکموں کے افسروں کے لئے پاکستان جانے کا اعلان نہ کرو،ان کو یہیں رہنے دو البتہ جو شخص اپنی مرضی سے جانا چاہتا ہو وہ چلا جائے۔فوج اور پولیس میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مسلمان اس وقت زیادہ ہیں ان کا ہندوستان میں رہنا ضروری ہے۔آزادی کے بعد ملک کے مختلف صوبوں میں بکھرے ہو ئے پانچ کروڑ مسلمانوں کا تحفظ وقت کا بنیادی مسئلہ ہے۔ملک جن حالات میں تقسیم ہو رہاہے،اس کے پیش نظر آئندہ مسلمانوں کو نئی ملازمتوں کے حصول میں مشکلات پیش آئیں گی“۔

مولانا کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہو ئی۔وہ لوگ جو اس وقت مولانا کو کوتاہ چشم کہتے تھے اب ان کے آل واولاد اس بات کو محسوس کررہے ہیں ان کے اجداد غلط تھے اور مولانا آزاد صحیح راستے پر تھے۔مولانا نے لیاقت علی سے یہ بھی کہا تھا:

”مسلم لیگ کے جن بڑے رہنماوؤں کا تعلق ہندوستان سے ہے ان کو اپنے ملک کی سکونت ترک نہیں کر نی چاہئے۔انہیں یہیں رہ کر مسلمانوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ان کی حفاظت اور خدمت کا اصل وقت اب ہے“۔

و ہ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمانوں کا ہیرو تصور کرتے تھے وہ تو ہندوستانی مسلمانوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر ملک سے کوچ کر گئے لیکن مولاناآخری سانس تک ہندوستانی مسلمانوں کا ساتھ نبھاتے رہے۔آج ہندوستانی مسلمانوں کا وجود ان کی استقامت کی مرہون منت ہے، مولاناآزاد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

     خلاصہ کلام:

     مولانا آزاد رحمہ اللہ امن کے بین الاقوامی سفیر تھے۔وہ ہر طرح کی فرقہ پرستی کے سخت مخالف تھے۔ فرقہ پرستی کو قیام امن کی راہ میں سب بڑی روکاوٹ سمجھتے تھے۔اس حوالے سے ایک غیر مسلم آر وینکٹ راؤ، سیکریٹری ہندوستانی ہندی سبھا،حیدرآبادکے قول پر اپنی بات ختم کرتا ہوں،انہوں نے کہا:

”مولانا صاحب کیسے مسلمان تھے اور ان کا اسلام کیسا تھا؟ اسے سمجھنے کے لئے ترجمان القرآن پڑھا جائے۔امن وصلح کل ان کے اسلام کالب لباب تھا،ہندوستان کی جنگ آزادی میں کود پڑے اس لئے کہ وہ خوب جا نتے تھے کہ دنیا میں جب تک سامراج شاہی کا دور دورہ رہے گا تب تک انسان انسان میں فرق بنا رہے گا۔قرآن کا ترجمہ لکھا،بنی نوع انسان کے درمیان بھائی چارہ بڑھانے کے لئے۔انہوں نے جو کچھ لکھاباطل کو مٹانے اور صداقت کو سربلند کرنے کے لئے لکھا۔خواب غفلت میں خراٹے لینے والی مسلم قوم کو جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے کے لئے لکھا۔دنیا میں امن وامان کے قیام اور فروغ کے لئے لکھا۔استعماری قوتوں کو للکارنے کے لئے لکھا۔

////٭٭٭٭٭////

حوالہ جات:

     (۱)         بیس بڑے مسلمان،ارشد رشیدی،مطبوعہ جامعہ رشیدیہ لاہور

(۲) مقالات آزاد:184

(۳) تفسیر ام الکتاب

(۴) میر کارواں، ریاض الرحمن شیروانی،ص:153

(۵) نقوش ومقالات آزاد، عبدالمجید سوہدری،ص:184

(۶) تقدیر امم کاراز،محسن عثمانی ندویؔ،ص:85

(۷) میرکارواں:ص:188

(۸) الہلال، یکم ستمبر،1912

(۹) الہلال،بحوالہ مولاناآزاد:فکروفن،ملک زادہ منظور،ص:202

     (۰۱)       تذکرہ،مولانا آزادؒ، ص:

     (۱۱)        خطبات آزاد،بحوالہ جدید ہندوستان کے معمار:ابولکلام آزاد:155

     (۲۱)       مولانا ابوالکلام آزاد،شورش کاشمیری،ص:257

  • خطبات آزاد۔مرتبہ مالک رام صفحہ 204-5
  • (۴۱)       مولاناابوالکلام آزاد معنویت،ص:84
  • (۵۱)       مولاناا بوالکلام آزادکچھ مشاہدات کچھ تاثرات،ص:28
  • (۶۱        خطبات آزاد۔مالک رام صفحہ 340

Comment here